نواز شریف کی سزا ختم ہوسکتی ہے - حامد میر

سینئر صحافی تجزیہ کار حامد میر نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس فیصلے سے عدلیہ کی ساکھ کو بچایا ہے ، یہ بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ کار نہیں تھا کیونکہ پچھلے دو دنوں سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کے ساتھ جو ملاقاتیں ہورہی تھیں تو ان ملاقاتوں میں جو بات چیت ہوئی، جج ارشد معزز ججز کو مطمئن نہ کرسکے۔

سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کے جج ارشد ملک ٹریپ ہوئے ہیں اور ان کو ٹریپ کیا گیا ہے۔ اینکر پرسن منیب فاروق نے کہا کہ عدالت نئے سرے سے ٹرائل کرسکتی ہے اور جو موجودہ سزا ہے نواز شریف کی وہ ختم ہوسکتی ہے۔ سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ فیصلے سے عدلیہ کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کو حتمی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وزارت قانون کو کہا ہے کہ ان کی سبکدوشی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ کیا ان کے کئے گئے فیصلے بذات خود ختم ہوجائیں گے ایسا نہیں ہے فیصلے ہوئے ہیں ان کے خلاف اپیل اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے ہے اس اپیل میں ان تمام معاملات کو دیکھا جائے گا۔

حامد میر نے کہا کہ ارشد ملک کے جوابات سے معزز جج صاحب مطمئن نہیں ہوئے، حکومت نے اپنے طور پر بھی کچھ انکوائری کی تھی لیکن حکومت نے اس معاملے میں مداخلت نہیں کی مگر مجموعی طور پر جج ارشد ملک کی جو ساکھ تھی جو سوال جواب ان کے ساتھ ہوئے اور پھر جو انہوں نے بیان حلفی جمع کرایاان سب چیزوں کو دیکھ کر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کی عدلیہ آزاد ہے اور ارشد ملک جیسے جج جو ہیں ٹھیک ہے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں لیکن یہ جج پوری عدلیہ کے چہرے کی ترجمانی نہیں کرتے اور عدلیہ نے یہ فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا ہے۔

ارشد ملک کے بارے میں یہ ایک آڈیو ویڈیو تو نہیں ہے، دو تین اور بھی ہیں کچھ پاکستان میں ریکارڈ ہوئی ہیں، کچھ پاکستان سے باہر ریکارڈ ہوئی ہیں تو یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ مقدمات جن کی انہوں نے سماعت کی یہ مقدمات کب شروع ہوئے اور انہوں نے مسلم لیگ ن کے لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں کب شروع کیں اور جو ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہیں وہ کس کس جگہ پر اور کب کب ریکارڈ ہوئیں اور ان میں جو گفتگو ہوئی ہے وہ کس حوالے سے ہوئی ہے، یہ ساری چیزیں بہت اہم ہیں اس میں انہوں نے کافی ساری چیزیں بتائی ہیں، اس میں ایک چیز کا مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ کو خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اب جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق ان کے پاس چار ویڈیو اور ہیں تین مریم نواز شریف کے پاس ہیں اور دو ویڈیو پاکستان سے باہر ہیں، وہ دو ویڈیو دراصل ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے ان ویڈیو ز کواور آڈیوز کوپبلک نہ کریں نہ ہی بین الاقوامی میڈیا کے حوالے کریں۔ جج ارشد ملک نے جو پہلے فیصلے کئے ہیں ان فیصلوں کو ریورس کرنے کے لئے یہ درخواست دائر کرسکتے ہیں اور اپنی درخواست میں وہ یہ تمام آڈیوز ویڈیوز اعلیٰ عدالتوں کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔اگر وہ یہ آڈیوز ویڈیوزپبلک کریں گے یا میڈیا کے سامنے پیش کریں گے تو یہ کیس سیاسی ہوجائے گااور نواز شریف کو فائدہ نہیں نقصان ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ایک سوال کے جواب میں حامد میر نے کہا کہ نواز شریف کافیصلہ تو متنازع ہوگیا ان کو ایک قانونی راستہ اختیار کرنا چاہئے اور درخواست دائر کرنی چاہیے۔ جج ارشد ملک کی پریس ریلیز میں دھمکیوں کی بات اس لئے قابل یقین نہیں ہے کیونکہ میری اطلاعات کے مطابق مئی 2019ء میں انہوں نے خود پہل لے کر مسلم لیگ ن کی اہم شخصیات سے رابطے کئے اور پھر وہ میاں نواز شریف کی فیملی کے بہت اہم شخص کوپاکستان سے باہر جاکر ملے اور ان کے ساتھ انہوں نے ڈیل کرنے کی کوشش کی کیونکہ ان کی ساری گفتگو ریکارڈڈ ہے اس کی ویڈیو موجود ہے اور وہ ویڈیو جب عدالت میں پیش ہوگی تو ان کا موقف بالکل غلط ثابت ہوجائے گا۔ ان کی پریس ریلیز کی دھجیاں بکھر جائیں گی۔ جج ارشد ملک کا نام ای سی ایل میں آنا چاہیے کیونکہ انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میں پاکستان سے باہر چلا جاؤں گا، اپنی فیملی کو بھی لے جاؤں گااور اس کے عوض انہوں نے ڈیل کرنے کی کوشش کی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے ان کے موقف کودرست نہیں سمجھا اور ان کو عہدے سے ہٹانے کی تجویز دے دی ہے ان کی مزید تحقیقات ہونی چاہییں۔

نمائندہ خصوصی عبدالقیوم صدیقی نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے جج ارشد ملک کوہٹانے کے حوالے سے وزارت قانون کو خط لکھ دیا ہے اب وزارت قانون اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کی ایڈوائس کے حوالے سے پابند ہے اور اب وزارت قانون جج ارشد ملک کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی اس حوالے سے وزارت قانون تو کوئی انکوائری نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   سینٹ الیکشن کے بعد کون کون گرفتار ہوگا؟ اعزاز سید

سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے دو پہلو ہیں پہلا تو یہ ہے کہ جج ارشد ملک نے خود بھی مانا ہے کے وہ ناصر بٹ سے ملتے رہے ہیں اور کیس پر تبادلہ خیال کرتے رہے ہیں تو ایک جج کا کسی کیس کے حوالے سے اس پر گفتگو کرنا اور ان کو مشورے دیناہونا تو یہ چاہیے تھا جب ان پر یہ الزام لگا تھاتو ان کو خود ہی علیحدہ ہوجانا چاہیے تھا کہ میں اس کیس کو اب نہیں سنتا۔ عدلیہ کو اس پر نوٹس لینا چاہیے کیونکہ عدلیہ پر یہ سوال اٹھا ہے اس لئے عدلیہ کو اس پر ایکشن لینا چاہئے اس پر بھی تحقیق ہونی چاہئے کے ایک طرف العزیزیہ پر ساری دنیا کو پتہ ہے کے کیسے مقدمہ چلا نواز شریف نے نہ کوئی ثبوت نہ کوئی گواہ نہ کوئی ٹرانزیکشن نہ کوئی رشیداور کوئی 80 کے قریب پیشیوں پرکچھ پیش نہ کرسکے۔ ادھر یہ سب کچھ ہوتا رہا اور یہ ادھر مسلم لیگ ن کے ساتھ تھرو رہے، اس کہانی کو دوسرے رخ سے دیکھیں تو جج صاحب کب سے ان کے ساتھ رابطے میں تھے، مجھے تو فلیگ شپ میں جس میں بری کیا ہے اس میں بڑا مسئلہ لگ رہا ہے، اس میں کیوں ٹیکنیکل بنیادوں پر چھوڑ دیا ہے تو اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہییں۔