سینیٹ کی چیئرمینی کا جوا - بابر اعوان

معاملہ آئینی ہے، قانونی بھی اور ضابطہ جاتی بھی۔ مگر کھلاڑی ہارے ہوئے جواری ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ جواری ہارتے ہارتے آخری حد تک چلا جائے تو وہ سارا کچھ بھی دائو پر لگ جاتا ہے جسے اشراف محرمات کے زُمرے میں رکھتے ہیں۔ پردے اور پاکیزگی کے ساتھ۔ اب تو نام لینا ضروری ہے نہ لکھنا۔ ہاری ہوئی جواری ذہنیت کا برانڈ ہی کافی ہے۔ فارمولا اُردو فلم کی طرح یہاں جواریوں کی 2 ٹریک کہانی لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ ایسی سچی کہانی جس کے سینکڑوں چشم دید گواہ اور زندہ کردار موجود ہیں۔
پہلا ٹریک... اگلے روز سکھر میں خالی کرسیوں والے جلسے اور اپنے ہی جلسے میں ابا جی کے خلاف نعروں تک جا پہنچا۔ اس کا آغاز 2018 میں عدالتِ عظمیٰ کے کورٹ روم نمبر 1 سے ہوا۔ تب جب سندھ کے بھائی بہن کا پیروکار روسٹرم پر آیا۔ عدالت نے پوچھا: آپ کس کی طرف سے ہیں۔ جواب ملنے پر کورٹ نے حیرانی سے کہا: ان دونوں کے نام نہ نوٹس جاری ہوا، اور نہ کوئی آرڈر ہوا ہے۔ جواب آیا: ان دونوں کا مؤقف آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ الیکشن مہم میں دونوں کو گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری فرما دیں؛ چُنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر 'بات پہنچی تیری جوانی تک‘ ہوتا چلا گیا۔ فالودے والے سے ٹریکٹر والے تک تہہ در تہہ بے نامی اکائونٹس اور اوپر نیچے منی لانڈرنگ کے ڈھیر پکڑے گئے۔ یاد رکھیے ابھی عمران خان کی حکومت نہیں آئی تھی۔ نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کو کوئی خطرہ درپیش تھا اور نہ ہی طالبان خان، ظالمان خان سلیکٹ ہوا تھا۔ سلیکٹڈ سے سکندر مرزا اور جنرل جیلانی یاد نہ آئیں‘ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ 24 گھنٹے کے بعد ساون ہو گا اور ہم تم ہوں گے۔ ساون کے بارے میں گُر مُکھی کا ایک شبدھ یاد آ گیا ہے۔ جو یوں ہے:
ساون کھیر نہ کھاہدی آئ...
تے کیوں جمیا ایں، اَپراھدیا؟؟

سیاسی ساون کی کھیر کھانے کے موسم میں پیدا ہونے والے رہنمائوں کا ذکر آئے تو خیال لازماً فیلڈ مارشل ایوب خان کی طرف جاتا ہے جن کی تازہ ترین فوٹو آج کل وائرل ہیں۔ ایوب خان فیلڈ مارشل کی وردی میں چھڑی سامنے رکھے ایک وزیر صاحب سے حلف لے رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل بیٹھے ہوئے ہیں جب کہ نو وارد وزیر ان کے سامنے نہیں بلکہ سائیڈ پہ کھڑے ہو کر حلف لے رہے ہیں۔ اوپر کسی معصوم نے انتہائی ظالمانہ کیپشن لگا دی۔ سوالیہ نشان کے ساتھ لکھا ''سلیکٹِڈ یا الیکٹڈ‘‘۔ اس تصویر کا سامنے آنا تھا کہ جنرل ضیاء الحق اور ان کے منہ بولے بیٹے والی تصویروں کی لائن لگ گئی۔ مُرشد کے سامنے مرید جھکتا ہوا، کہیں مُرشد کی بغل میں سے اُبھرتا ہوا۔ مگر ایسی سب تصویروں کے نیچے کیپشن ایک ہی ہے: سلیکٹڈ یا الیکٹڈ؟ پھر مذہبی سیاست کرنے والی 2 جماعتوں کے بڑے سید مشرف کے سایہ عاطفت میں دکھائے گئے مگر تصویروں کے نیچے کیپشن وہی رہا‘ سلیکٹڈ یا الیکٹڈ والا۔

آئیے اسی کہانی کے دوسرے ٹریک پر چلتے ہیں‘ جہاں وزیر اعظم ہائوس سے سپریم کورٹ کو خط جا رہا ہے‘ جس میں فرمائش کی گئی کہ پانامہ لیکس کی تفتیش کے لیے کمیشن بنا دیں۔ وزیرِ اعظم کے ہاتھ صاف ہیں۔ اس لیے وہ کسی بھی تفتیشی اور عدالت کے سامنے پانامہ پر اپنا کیس لڑ کر سُرخرو ہونا چاہتے ہیں، اور پھر جے آئی ٹی بن گئی‘ جس کی تشکیل پر لوہے کے چنے والے تھیلے سے مٹھائیاں نکل آئیں۔ جسے شک ہو اس کہانی کے دونوں ٹریکس کی ویڈیو کلپس کو قندِ مکرر کے طور پہ دیکھ لے۔ اس تسلسل میں کئی معجزے ہوئے۔ مثال کے طور پر لاڑکانہ اور لاہور کی نئی نسلیں محمود و ایاز بن کر ایک ہی صف میں کھڑی ہو گئیں جس کے نتیجے میں بندہ نوازی کا یہ عالم ہے کہ لاڑکانہ والوں نے اپنی لبرل سوشلسٹ سیاست کی آخری امید رائے ونڈ میں تلاش کر لی جب کہ جاتی امراء والے آصف زرداری کی گرفتاری پر ہلکان ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں گھروں کے ہونہار بچوں نے جمہوریت کو بچانے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ بھی عین اتفاق ہی ہے کہ ان دونوں گھروںکی جمہوریت بظاہر ابو بچائو مہم کے روزانہ سات پھیرے لگا رہی ہے۔ پلیز... ایک بار پھر یاد رکھیے گا، پانامہ جے آئی ٹی اور اومنی گروپ جے آئی ٹی بنانے کا کارنامہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے کا ہے؛ چنانچہ اس کا کریڈٹ بھی عمران خان کو نہیں مل سکتا۔

اس وقت قیامت سے پہلے قیامت خیز نعرے لگ رہے ہیں۔ دونوں گھروں سے ایک جیسی آوازیں نکل رہی ہیں۔ یہ کہ ہم نے ملک کو مارشل لاء سے بچانا ہے۔ جمہوریت کو بحال کرنا ہے۔ نیا الیکشن لڑنا ہے۔ آزادیٔ رائے کا تحفظ کرنا ہے۔ ملک کو اندھیروں سے نکالنا ہے۔ اور وہ سب کچھ جو ہم روزانہ سنتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے دونوں بے چارے خلقِ خُدا کے راج کے لیے نسل در نسل خوار ہوئے۔ مگر کبھی کونسلر بھی نہ بن سکے، اس لیے اب قوم کو اصلی خدمت کا مزا چکھانا چاہتے ہیں ۔ ساتھ جس پر الزام لگاتے ہیں فوراً کہتے ہیں، عہدہ چھوڑ دو۔ خود، دونوں کی تین چار نسلیں الزامات نہیں کاغذات، میڈیا ٹرائل نہیں‘ عدالتی ٹرائل، کہانی نہیں منی لانڈرنگ کے ثبوتوں میں ڈوبے ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود کیا مجال ہے کہ خود پبلک اکائونٹس کمیٹی یا پبلک آفس سے استعفیٰ دیں۔ الزامات کا سامنا کر کے انہیں غلط ثابت کریں۔ ملک کے قانون کی پاسداری کریں۔ وطن کے آئین کے سامنے سر جھکائیں اور عام شہری کی طرح ریلیف کے آم کھائیں۔ وہی آم جو 36 سال ایک نے اور 29 سال دوسرے نے عام آدمی کو کھلائے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلے منتخب وزیرِ اعظم کے ساتھ دو واقعات ایسے ہوئے جن کی عدالتی دستاویزات میرے لاء آفس میں محفوظ ہیں۔

پہلا یہ کہ بھٹو ٹرائل کے دوران وزیرِ اعظم جو جیل میں عام قیدی کی طرح بند تھے‘ وہ بھی جیل کی زبان میں (Solitary confinement) والے جنگلے کے سیل میں‘ وہ دورانِ ٹرائل بھی حوالاتی والی نہیں بلکہ سزا یافتہ قیدی سے بھی سخت زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے دانت میں درد ہوا، اور ان کی درخواست سپرنٹنڈنٹ نے عدالت بھجوائی کہ انہیں سرکاری ہسپتال سے معائنہ اور علاج کروانے کی اجازت دی جائے۔ ہسپتال جانے کی اجازت نہ ملی۔ لیکن ان کی غیر حاضری میں گواہوں کے بیان لکھے گئے۔ دوسری بار کان کی تکلیف کے وقت بھی یہی ہوا۔ آج کے سیون سٹار قیدی اے ۔سی ، ایل سی ڈی، بستر اور مرضی کے کھابے کھا کر بھی ریاست پر حملہ آور ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے ان کی خاندانی جاگیر میں مزارعوں اور ہاریوں کی حکومت آ گئی ہے جس کا خاتمہ نہ ہوا تو 2 گھرانوں کا شاہی جاہ و جلال مٹی میں مل جائے گا۔ اسی تنا ظر میں ہائوس آف فیڈریشن کے چیئرمین کو ہٹانے کی قرارداد جمع کرائی گئی۔ ساتھ ہی سینیٹ کا اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن بھی۔ رولز کے مطابق ریکوزیشن اجلاس 14 دن کے اندر اندر طلب کرنا ضروری ہے۔ ایسے اجلاس 2 وجوہات پر طلب ہوتے ہیں۔ پہلی وجہ فوری نوعیت کا اہم معاملہ۔ اس طلبی کا دوسرا سبب پبلک انٹرسٹ پر مبنی واقعہ یا پالیسی زیرِ بحث یا زیرِ غور لانا ہے۔ سینیٹ کے رولز آف بزنس اینڈ پروسیجر کی روشنی میں اپوزیشن کے ریکوزیشن شُدہ اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا ذکر ہی موجود نہیں۔ رول نمبر 243 کے مطابق اگر رولز کی توجیہہ (Interpretation) کا سوال پیدا ہو جائے تو اس پر چیئرمین سینیٹ کا فیصلہ آخری ہو گا۔ فرض کریں چیئرمین سینیٹ کی رولنگ اپوزیشن کے خلاف آتی ہے تو پھر اس رائے پر پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ آف پاکستان ہی آخری فیصلہ صادر کریں گی۔ اس لیے سینیٹ کی چیئرمینی کا جوا کھیلنے والے پہلے دائو میں ناک آئوٹ بھی ہو سکتے ہیں۔