شادی کے" میزبان " کی پہچان اور چند " خاص " مہمان - محمد عاصم حفیظ

گزشتہ روز ایک شادی میں شرکت کرتے ہوئے کچھ منفرد دیکھنے کو ملا ۔ گھر والوں اور انتظامات میں شریک قریبی رشتہ داروں نے " میزبان" بیج لگا رہے تھے ۔ یہ واقعی ایک منفرد اور شاندار آئیڈیا ہے ۔ اگر کوئی آپ کا شادی ہال کے دروازے پر استقبال کرے اور اس نے " میزبان " کا بیج لگا رہا ہوتو کیسا لگے گا؟ وہ آپ کو گائیڈ کرے اور ایک نشت پر بیٹھا دے ۔

دراصل بڑے شادی فنکشنز میں یہ ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے کہ دولہا میاں اور اسکے باپ بھائی کئی طرح کی مصروفیات میں ہوتے ہیں ۔ ہر ایک کا استقبال اور بعض اوقات ملنا تک ممکن نہیں رہتا ۔ ایسے میں کچھ قریبی رشتہ داروں کو باقاعدہ میزبانی میں شامل کر لیا جائے ۔ مہمانوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر انہیں کسی کے بارے پوچھنا ہو ، کوئی ضرورت ہو تو وہ ڈھونڈتے ہی رہ جاتے ہیں کہ کسے کہا جائے ؟؟ اس صورتحال میں چلتے پھرتے یہ میزبان کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے ۔ کیونکہ انہیں آسانی سے کچھ کہا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح کھانے وغیرہ کو پیش کرنے والے ملازمین کو بھی آسانی رہتی ہے کہ وہ ہر ایک کا حکم سننے اور پریشان ہونے کی بجائے صرف ان مقرر کردہ " میزبانوں" سے ہی رابطہ رکھیں ۔ انہی کے کہنے پر کسی خاص مہمان کا خیال رکھیں ۔ دراصل شادی کے موقعے پر سج دھج کے تیار تو سبھی ہوئے ہوتے ہیں اس لئے چند انتظام کرنیوالوں کی شناخت کے لئے " میزبان " کے یہ بیج واقعی منفرد آئیڈیا ہے ۔اس پر عمل کرنا چاہیے ۔ یہ شادی تھی دارالسلام انٹرنیشنل کے بانی مولانا عبدالمالک مجاہد کے بیٹے کی ۔ وہ اپنے شعبے میں جدت کے بانی ہیں ۔دینی کتب کی تیاری ، خوبصورتی ، کاغذ کی کوالٹی اور دیگر حوالوں سے کتاب کو ایک دلکش روپ میں پیش کرنے کی روایات انہی کی کاوشوں کی مرہون منت ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   چاندنی میں آئیو میاں بندڑے - سبرینا خان

جہاں ایک طرف شادی ہال زندگی کے تمام شعبہ جاتے میں ان کی مقبولیت کی گواہی دے رہا تھا۔ سینیٹر ساجد میر ، سابق وفاقی وزیر احسن اقبال ، نامور صحافی مجیب الرحمن شامی ، سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی، سجاد میر ، شیوخ الحدیث مولانا مسعود عالم ، حافظ شریف ، مولانا عبدالرحمن مدنی ، علامہ ابتسام الہی ظہیر سمیت ایسی ہی بے شمار نامور شخصیات موجود تھیں ۔ اس تقریب میں کچھ مہمان منفرد بھی تھے ۔ مولانا عبدالوارث گل کیساتھ درجنوں نومسلم مدعو تھے ۔ جی وہ خوش قسمت جو گزشتہ کچھ عرصے کے دوران حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔ مولانا عبدالمالک مجاہد نے انہیں اپنی خوشیوں میں شریک کیا تھا جو کہ واقعی قابل تعریف ہے ۔ ہمیں اس کی خاص ضرورت ہے کہ ان نومسلموں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں اپنی خوشیوں میں شامل کیا جائے جو کہ اپنا خاندان چھوڑ کر مسلمان ہوئے ہیں ۔ اگر ہم سیرت النبی کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے تو اس بارے سخت تاکید ملتی ہے ۔ فرمان نبوی ہے کہ " بدترین ولیمہ وہ ہے جس میں صرف امراء شریک ہوں اور معاشرے کے غرباء و مساکین کو مدعو نہ کیا جائے۔" ہمیں اس فرمان نبوی پر عمل کرتے ہوئے شادیوں میں معاشرے کے پسے ہوئے ہوئے لوگوں کو ضرور اپنی شادیوں میں شریک کرنا چاہیے ۔ اگر آپ کو اللہ نے استطاعت دی ہے تو مقامی علماء مساجد کے قراء کرام غریب مزدور ، یتیم اور دیگر ایسے ہی افراد کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں ۔ یہی حقیقی خوشی ہو گی اور سنت نبوی پر عمل پیرا ہونے کا موقعہ بھی ملے گا۔