دلوں کا بادشاہ ڈاکٹر محمد مرسی - الطاف جمیل ندوی

17جون کو شدید دکھ میں بار بار کی پیڈ کھول کر بیٹھا مگر تکلیف نے ذہن خالی کر دیا۔ پھر تکیہ پر سر ٹکا کر آنکھین موند لیں مگر کچھ دیر بعد دونوں آنکھوں کے کناروں سے ڈھلکتے گرم قطروں نے مجھے اٹھا دیا۔ آخر ہم جیسے بیکار لوگ اس جیسے انسان کے لیے کیا لکھ سکتے ہیں، مگر محبت نے جذبہ کو تحریک دی تو یہ حقیر سی کوشش کی، تا آنکہ مولا کریم سے یہ کہہ سکیں کہ مولا میرا دل بھی تڑپتا تھا، تیرے بندوں کے مصائب و مشکلات کو سن سن کر....

جیسا کہ نعیم صدیقی نے لکھا:

میرے حضور دیکھیے پھر آگیامقام غم - کنارے نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم
پھر ایک حادثہ ہوا پھر ایک کارواں لٹا - وہ اس کے پاسبان تھے یہ جن کےدرمیاں لٹا


وفا کا پیکر وہ ایک سال اپنی ملت کو آزادی سے آشنا کرنے والا وہ امت مسلمہ کے فراق میں تڑپتا ہوا اب جیل کی اذیتیں سہہ سہہ کر اپنی آزادی پانے کے لیے سفر آخرت کا راہی ہوگیا ہے۔ ہائے یہ جو سالار قافلہ تھا، 17 جون کو کس خاموشی سے آخرت کی منزل کا مسافر ہوگیا؟ اس پر کیا بیتی ہوگی کال کوٹھڑی میں، یہ اس کا مولا ہی جانتا ہے، یا یہ اسی کو خبر ہوگی۔ اس کے اہل خانہ کہہ رہے ہیں کہ چھ سال کے عرصے میں ہم نے صرف تین بار ہی اسے دیکھا، اس سے بات کی ویسے ایسا تو کسی خطرناک قاتل سے بھی سلوک نہیں کیا جاتا، پر کیا کہیے، یہ تو وہ مصر ہے جہاں کی تاریخ ہی ایسی رہی ہے، یہاں ہمیشہ حق و باطل کا تصادم رہا ہے، قدیم زمانے سے تا ایں دم جو اب بھی جاری و ساری ہے۔ قدیم تاریخ سے ہم واقف ہی ہیں کہ کیا کیا ہوتا رہا، کیسے مظالم کی داستانین اس سرزمین سے وابستہ ہیں۔ صاحبان علم و دانش مگر جس کی اب شہادت ہوئی اس کو نہیں جانتے، اس کی تحریکی فکر سے واقف نہیں۔ یہ ان سرفروشوں کی ایک داستان الم ہے۔ پہلی خطا جو اس تحریک کے متوالوں نے کی، وہ غیروں کے تسلط کے خلاف ان کا آواز بلند کرنا تھی کہ ہماری سرزمین اسلام کی آبیاری کے لیے ہے، یہاں کسی اور کی اجارہ داری گوارا نہیں۔

اس کے لیے سب سے زیادہ قوی آواز حسن البناء شہید نے اٹھائی اور برطانوی سامراج کو اپنے ملک سے نکالنے کے لیے رات دن مگن رہے۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھی یہی سرفروش میدان عمل میں آئے، اپنی حکومت سے وفا کی اور اپنے ملک کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ بہار عرب میں بھی اس قافلہ سخت جان نے کوشش کی تو اسلامیان مصر کو منزل ملی۔ یہ اپنے کرب کے بجائے اپنی ملت و قوم کے لیے ہر ستم کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے رہے۔ مصر کی تاریخ اٹھا کر دیکھا جائے تو اس قافلہ نے صرف یہی نہیں کہ اسلام ازم کو فروغ دیا بلکہ یہ ہر شعبہ میں سب سے آگے رہے، وہ میدان عمل ہو کہ میدان کارزار، ڈاکٹرز انجینئرز، پروفیسر اس قافلہ نے تیار کیے، مفسر علماء کی ایک ایسی جماعت تیار کی جو پوری دنیا میں عزت و احترام سے دیکھی جانے لگی۔ وہاں موجود باطل کے بچاریوں کو ان کا یہ اخلاص اور محنت ذرا بھی راس نہ آئے۔ ہمیشہ ان کی قربانیوں کا ایسا صلہ دیا کہ جسے پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ اول اس کے قائد کو اس حال میں شہید کیا کہ ان کی تجہیز و تدفین کے لیے بھی کسی کو اجازت نہ ملی۔ صرف گھر کے افراد نے تجہیز و تدفین کی، خواتین نے کاندھا دے کر اس قوم و ملت کے بہی خواہ کو آخری آرام گاہ تک پہنچایا۔ مفسر قرآن سید قطب شہید کو جرم بےگناہی میں پھانسی گھاٹ پر لا کھڑا کیا، ان کے اقوال و افکار سے ہزار اختلاف کے باوجود ان کی استقامت اور ان کے اسلام پر قربان ہونے سے انکار ممکن نہیں۔ آخری سانس تک حق پر ایسے ثابت قدم رہے کہ میدان حق کے اس قافلے کا جھومر بن گئے۔

ان کے کارکنان پر کیا ستم بیتے، ان متوالوں نے وہ سپرد قلم کر دیا، جسے پڑھنا دل گردے کا کام ہے۔ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان کی آب بیتیاں پڑھ کر یا سن کر، اور احساس ہوتا ہے کہ یہ قافلہ کس قدر غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انہیں جیل کی کال کوٹھڑیوں میں کتوں کے ذریعہ نوچنے کے لیے کھڑا کیا گیا، انھیں الٹا لٹکا کر پیٹا گیا۔ آپا زینب الغزالی کہتی ہیں کہ مجھے اتنا پیٹا گیا کہ میں بےہوش ہوگئی، میرے لباس کی چیر پھاڑ کی گئی، میرے انگ انگ سے زخم رستے رہے، مگر یہ مسافران منزل انتہائی عزیمت کے ساتھ باوقار کھڑے رہے۔ ان کی داستان الم پڑھ کر کوئی بھی دل پھٹنے کو آ جائے گا، شقی القلب بھی یہ کرب محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ نئے مصائب تب شروع ہوئے جب عرب انقلاب کے بعد محمد مرسی بحیثیت صدر حلف اٹھانے کے بعد اسلام کی آبیاری کے لیے کھڑے ہونے لگے۔ اپنے حلف اٹھانے کے وقت کہتے رہے اور لوگوں کی کثیر تعداد میں ان سے بھی کہلوایا: القران دستورنا والرسول زعیمنا والجھاد سبیلنا والموت فی سبیل اللہ امانینا۔ عرب بہار کی ٹھنڈی ہوا جب شام میں بلند ہوئی تو وہاں پر حکومت نے اس میں شامل ہوئے لوگوں کو کچلنے کا اعلان کیا۔ مظالم دیکھ کر ڈاکٹر محمد مرسی کہہ اٹھے لبیک یا سیریا لبیک یا سیریا لبیک۔ غزہ پٹی میں مصائب کا شکار فلسطینیوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول دیں اور ان کے درد کے لیے تڑپ اٹھے، ان کی مدد کی ٹھان لی۔ اقوم متحدہ کے اجلاس میں ڈاکٹر محمد مرسی کا خطاب کہ جو عزت صرف اسی کے لیے ہے جو محمدﷺ کی عزت کرے گا، اور جو توہین کا مرتکب ہوگا، وہ کھلا دشمن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   یہودیوں کی پلاننگ اور جنرل سیسی کی اصلیت - عارف الحق عارف

اب سازشوں کے تانے بانے تیار کیے جانے لگے۔ ڈاکٹر محمد مرسی نے نیک نیتی کی بنا پر جنرل سیسی کو آرمی چیف اور وزیر دفاع بنایا، مگر یہی ان کے لیے سوہان روح بن گیا۔ ایک سالہ مختصر عرصہ میں سازشیں کامیاب ہوئیں اور فوج نے منتخب صدر محمد مرسی کو اقتدار سے بےدخل کرکے قید کر دیا۔ اب ظلم و ستم کا وہ دور شروع ہوا جس کی مثال صرف چنگیزی بربادی کے زمانے میں میسر ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے، اخوان المسلمون کے قائدین و کارکنان کو تختہ مشق بنانے کے لیے اٹھایا جانے لگا۔ ماہ رمضان کے مبارک ایام میں اخوان المسلمون کی اپیل پر عوام نے رابعہ میدان میں ڈیرےجمائے اور انتہائی وقار کے ساتھ اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، ن کے ہاتھوں میں قرآن مجید کے نسخے تھے۔ یہ دنیا کا ایسا احتجاج تھا جہاں بجائے نعرے بازی کے صرف تلاوت قرآن اور نماز کا سہارا لیا گیا۔ پھر پوری دنیا نے ڈکٹیٹر جنرل سیسی کی حیوانیت کا ننگا ناچ دیکھ لیا جب یہاں ان نہتے معصوم لوگوں پر فوج چڑھ دوڑی۔ ان پر ایسا تشدد کیا گیا کہ میڈیا کے افراد اس خبر کو نشر کرتے ہوئے روتے بلکتے دنیا نے دیکھے۔ ہاتھ کم پڑ گئے تو بلڈوزر چڑھا دیےگئے۔ مگر یہ قافلہ سخت جان کے مسافر ڈٹے رہے جب تک زندگی کی سانسوں نے ساتھ دیا۔ اس ظلم پر انسانیت شرم سار ہوگئی۔اس کے بعد اخوان المسلمون کے خلاف مختلف حربے استعمال کیے گئے کہ یہ اپنے آئینی مؤقف سے دستبردار ہو جائیں، مگر انہوں نے دستبردار ہونا سیکھا ہی نہ تھا، نتیجتا پھانسی گھاٹ، جیل، تشدد کا میدان سجا دیا گیا مگر یہ قافلہ کھڑا رہا۔

ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ پر جھوٹے الزامات لگا کر ان پر مقدمہ دائر ہوا، مگر چھ سالہ عرصہ میں انتہائی ہمت و عزیمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ اپنے مؤقف کا دفاع کرتے رہے۔مصائب و مشکلات کا دور انتہائی کٹھن اور صبر آزما تھا، اپنوں سے ملنے نہ دیا گیا، جیل حکام سے قرآن مجید کا نسخہ مانگا، نہ ملا تو فرمایا کہ میں تو حافظ قرآن ہوں، بس میں اس مصحف مبارک کو چھونا چاہتا تھا۔ بی بی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق ان کی بیماری کا علاج تو دور، انہیں دوائی تک سے محروم رکھا گیا، جس کا محمد مرسی نے عدالت میں اظہار بھی کیا۔ مگر ستم گر نے قسم کھا رکھی تھی کہ معاملہ اس حد تک پہنچانا ہے جہاں لگے کہ طبعی موت ہوئی ہے۔پوری دنیا میں سکتے سی کیفیت تب پیدا ہوئی جب یہ خبر عام ہوئی کہ دوران سماعت ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ کا انتقال ہو گیا۔ یقینا یہ اس ظلم و ستم کے سودا گر کے لیے دنیا میں باعث فخر و مسرت ہے مگر وہ کیا جانے کہ دنیا کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے جب اس نے تمام حربے استعمال کر لیے تو ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ نے سحرگاہی میں اسی مولا کے حضور اپنا تعلق بنائے رکھا جس کی رضا کے لیے ان پر یہ ستم ڈھائے جا رہے تھے۔ مولا نے اس بندہ مومن کی لاج رکھ لی اور دنیا کی عدالت سے اٹھا کر اس پر ستم کرنے والوں کا مقدمہ انصاف کی اعلی عدالت آخرت میں پہنچا دیا۔ اگرچہ وقتی طور پر ڈکٹیٹر نے اطمینان کا سانس لیا ہوگا، مگر وہ کیا جانے کہ اللہ کی راہ میں کامیابی کا مزہ کیا ہوتا ہے اور اخروی رسوائی کتنی سخت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ - حامد کمال الدین

اب وہ سلسلہ شروع ہوا کہ جو دلوں کو تباہ کر دے۔ اس ظالم و جابر کو محمد مرسی رحمہ اللہ کی میت سے خوف آنے لگا تو اس نے اسے گمنامی سے دفن کرنے کے لیے صرف اہل خانہ اور اس کے وکیل کو تجہیز و تدفین کے عمل میں شریک ہونے کی اجازت دی۔ مگر محمد مرسی کی باوقار بیوی نجلا مرسی نے یہ کہہ کر اس کا منہ چڑایا کہ میں میت کو ظالم سے مانگ کر اپنے عظیم شہید شوہر کی توہین نہ کروں گی۔ لخت جگر نے یہ کہہ کر دلوں کو تڑپا دیا کہ أبي عند الله نلتقي ''ابا اللہ کے پاس ملیں گے''۔ کوئی جذباتیت کا مظاہرہ نہیں، استقلال کا وہ طریقہ کہ دشمن بھی داد دے۔ کیا کریں ان ستم گروں کا جو عاقل ہو کر سمجھنے کو آمادہ ہی نہیں۔ اس کے استاد سے کمرہ عدالت میں جج نے کہا تھا کہ میں 60 ﮐﯽ دہائی سے اس کرسی پر فائز ہوں، مجھے معلوم ہے کہ انصاف کیا ہوتا ہے تو اس نے انتہائی استقلال سے جواب دیا تھا کہ میں 60 کی دہائی سے اس کٹہرے میں کھڑا ہوں اور میں بتا سکتا ہوں کہ ظلم کیا ہے۔ یہی اولوالعزمی تھی جس نے محمد مرسی رحمہ اللہ سے آخری لمحات میں کہلوایا: جج صاحب مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیں۔ مجھے قتل کیا جا رہا ہے، میری صحت بہت خراب ہے، ایک ہفتے کے دوران میں دو دفعہ بے ہوش ہوا، لیکن مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جایا گیا۔ میرے سینے میں راز ہیں، جنھیں اگر ظاہر کروں، میں جیل سے تو چھوٹ جاؤں گا، لیکن میرے وطن میں ایک طوفان آئے گا، ملک کو نقصان سے بچانے کے لیے میں ان رازوں سے پردہ نہیں ہٹا رہا۔

میرے وکیل کو مقدمہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں اور نہ مجھے پتہ ہے کہ عدالت میں کیا چل رہا ہے۔‘‘ 20 سیکنڈ کی اس گفتگو پر غور کیجیے کہ اک ستم رسیدہ شخص اپنی قوم و ملت سے کس درجہ والہانہ محبت کرتا ہے۔ اپنی قوم و ملت سے کہتا ہے کہ اپنے شیروں کو مت مارو، کہیں ایسا نہ ہو تم اپنے دشمن کے کُتوں کے نرغے میں آ جاؤ۔ مسجد اقصیٰ میں ہوا جنازہ اور اس میں شامل امت مسلمہ کے لوگوں کی سسکیاں، ترکی کے صدر اور امیر قطر کی ہچکیاں، عالم اسلام کی غیور علمی و ادبی شخصیات کے المناک تبصرے پتہ دیتے ہیں کہ مسلم قلوب میں آپ کہاں کہاں تک جا بسے تھےاور نبیؐ کی یہ امت آپ سے کیسی کیسی امیدیں باندھنے لگی تھی۔ زنداں سے اٹھنے والا آپ کا جنازہ گواہی دے گا کہ آپ نے اپنے فرض کی جانب کبھی پشت نہیں کی۔ دنیا تو آنی جانی ہے لیکن ظلم کی ایک وادی میں آپ کا سر اٹھا کر چلنا اِس جہان کو بڑی دیر تک یاد رہے گا۔ امت کا ایک مظلوم جسے دفن کے لیے "دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں" کہ آبائی قبرستان میں دفنانے، گھر کی خواتین کو چہرہ دیکھنےاور سوائے بیٹے اور بھائی کے کسی کو جنازہ پڑھنےکی اجازت نہ ملی، مگر خدا نے اِسی جہان میں اس کی تلافی یوں کروائی کہ اقصیٰ تا ملائیشیا امت کی مساجد نے اس کا جنازہ پڑھا اور سات براعظموں نے ان کےلیے استغفار کیا۔ خدا آپ کو غریق رحمت کرے