اپنے اپنے پرچے کی فکر کیجیے - مدیحہ مدثر

آج قہر برساتے سورج کو حیرانگی و پریشانی سے دیکھتے میں بنک سے واپس آرہی تھی کہ اچانک ایک خاتون پہ نظر پڑی۔۔۔ناٹا سا قد لیے ، قدرے میلے سے کپڑے پہنے اور سر پہ دوپٹہ مضبوطی سے جمائے وہ منہ ہی منہ میں تیزی سے کچھ پڑھ رہی تھیں مجھے پہلا خیال یہی آیا کہ رمضان کا با برکت مہینہ ہے یقینًا کوئی ذکر ہی کر رہی ہوں گی یا کوئی دعا۔۔۔۔۔

خیر اسی اثنا میں گاڑی انکو پیچھے چھوڑتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھ گئی اور میں نے جھٹ سے خود کو انکی جگہ پہ رکھ لیا۔۔۔اور یہ میری پرانی عادت ہے دنیا میں موجود مختلف کرداروں کو دیکھ کر اُنکی جگہ خود کو رکھنا اور پھر سوچنا کہ وہ جس حال میں ہیں کیا محسوس کرتے ہیں۔۔۔میں سوچنے لگی کہ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے بھی سورج کی تیز شعائیں مجھے ہولائے دے رہی ہیں یہ جو پیدل چلتی خاتون تھیں گرمی سے بے نیاز کیسے آرام سے اپنی راہ پہ گامزن تھیں۔۔۔گرمی تو لگ رہی ہو گی انکو بھی اور کیا خبر روزہ بھی ہو۔۔۔ہائے غربت بھی کیسی ظالم چیز ہے۔۔۔میرا دل اُس خاتون کی حالت پہ شکوہ کناں ہوا۔۔۔ کہ اچانک جیسے چپکے سے کسی نے کان میں کہا “دنیا آزمائش کے لیے ہے۔۔۔۔پھر فکر کاہے کی جو جس حال میں ہے وہی اُسکا پرچہ ہے” اس سرگوشی کے بعد میں نے جانا کہ واقعی جتنا ہم کھپتے ہیں دنیاوی لذتوں کے پیچھےاور خود کو تھکاتے ہیں کبھی دو گھڑی سکون سے بیٹھ کر سوچیں تو سہی کہ دنیا کی مثال ایک کمرہ امتحان کی سی ہے ، لیکن دنیاوی کمرہ امتحان میں جب ہم پرچہ دینے جاتے ہیں تو سب برابر کی سطح پہ بیٹھتے ہیں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ٹاٹ پہ بیٹھا ملے اور کوئی کرسی پہ براجمان ہو۔۔۔اگر بہ امر مجبوری طلباء کو نیچے بٹھانا بھی پڑ جائے تو بلا تخصیص بٹھا دیا جاتا ہے۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا بدل رہی ہے - زبیر منصوری

نماز کی صفوں جیسا برابری کا احساس امتحان گاہ میں بھی ہوتا ہے۔۔۔۔لیکن امتحان گاہ سے نکلتے ہی سب کی حیثیت الگ الگ ہو جاتی ہے کوئی لمبی سی گاڑی میں بیٹھ کر گھر کو روانہ ہوتا ہے تو کسی کے بھائی بائیک پہ لینے کو آن موجود ہوتے ہیں اور کئی ٹولیاں پیدل ہی خراماں خراماں گھر کی اور چل پڑتی ہیں۔۔۔پھر نتیجہ آتا ہے اور ہر طالبعلم کی قدرومنزلت میں بقدر اُسکی محنت اضافہ کرتا ہے یا خراب نتیجے کی صورت میں قدر گھٹاتا ہے۔۔۔۔لیکن آخرت کا پرچہ اور امتحان گاہ مختلف ہے۔۔۔۔۔بھلا کیسے؟؟؟
دنیا میں کمرہ امتحان تک برابری ہے ناں بعد میں سب الگ حیثیت میں آ جاتے؟؟؟؟؟جب کے آخرت کے پرچے میں ہی ہمیں بظاہر برابری نظر نہیں آتی ۔۔۔۔کوئی بے حد امیر،کوئی بے حد حسین،کوئی انتہائی ذہین،کوئی کُند ذہن ،کوئی غربت کا مارا ، کہیں دشمن طرازی غرض بے شمار رنگ لا تعداد پرچے۔۔۔جی ہاں یہ سب پرچے ہیں کہیں ہم نواز کر آزمائے جا رہے ہوتے ہیں اور کہیں کسی نعمت کی کمی پہ آزمائش مطلوب ہوتی ہے۔۔۔دنیاوی پرچوں میں نقل ،سفارش اور اقرباء پروری کا وجود بہرحال پیدا ہوتا رہتا ہے ۔۔۔

سو نا انصافی بھی ہوتی ہے اور بظاہر بہت منظم نظر آنے والے کمرہ امتحانوں میں بہت کچھ تکلیف دہ ہوتا ہے۔۔۔ جبکہ آخرت کا پرچہ جگہ کی قید و بند سے آزاد ہوتا ہے اور ہر انسان کا مختلف ہوتا ہے۔۔۔۔نہ نقل کا ڈر،نہ سفارش کا خدشہ اور سب سے اہم بات کہ امتحان گاہ سے یعنی دنیا سے نکلتے ہی نتیجہ ہاتھ میں۔۔۔انتظار کی کوفت سے بھی نہیں گزرنا پڑتا۔۔۔۔سب فساد سارے مسلے تب ہوتے ہیں جب ہم اپنا پرچہ چھوڑ کر دوسروں کے پرچے میں گھستے ہیں۔۔۔۔
وہ اتنا امیر کیوں ہے ؟ فلاں اتنا حسین ہے ہونہہ۔۔۔اسکی بیٹی میں کوئی گُن نہیں پھربھی کیسا اچھا داماد ملا۔۔۔۔۔ہمارا بیٹا اتنا قابل ہے اور نوکری اُس نکھٹو کو کیسے مل گئی وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ ارے یہ اُنکا پرچہ ہے کوئی کیا کر رہا ہے اور کس کے پاس کیا نعمت یا زحمت ہے اُس پہ آپ ہلکان ہو کر اپنے پرچے کے وقت کو مت ضائع کریں۔۔۔۔۔قبل اس کے کہ
اچانک مہلت ختم ہو جائےاور خالی پرچے کو تھامے آپ حسرت و یاس کی تصویر بنے ۔۔۔۔۔۔” کاش” کی مجسم صورت بن جائیں۔۔