’’اونٹوں کی شتربانی‘‘-عبدالخالق بٹ

دھیمے لہجے والے شاعرنے کہاتھا :


ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن

اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے


اس شعر کی سادہ ترین الفاظ میں جو تشریح ہوسکتی ہے وہ یہ کہ : شاعر ایک ایسے شہر میں آنکلاہے جہاں اس سے بھی زیادہ سہل پسند اور آرام طلب بستے ہیں یایوں کہہ لیں کہ شاعر شہرخوباں میں نہیں کوچۂ کاہلاں میں مٹرگشت کررہا ہے۔ ہمارا تعلق بھی سہل پسندوں کے قبیلے سے ہے۔ سچ پوچھیں تو کھانے میں چاولوں سے رغبت میں بھی ہماری کشمیریت سے زیادہ سہل پسندی کو دخل ہے کہ روٹی کا معاملہ نسبتاً مشقت طلب ہے۔ اس باب میں ہمارے جذبات کی نمایندگی معروف دہلوی بخوبی کرگئے ہیں:


دردِ سر میں ہے کسے صندل لگانے کا دماغ

اس کا گھسنا اور لگانا دردِ سر یہ بھی تو ہے


کہتے ہیں دنیا کا سب مشکل کام اپنی اصلاح اور سب سے آسان کام عیب جوئی ہے۔سو ہم نے آسان کام چن لیانتیجہ یہ کہ اپنی حالت سے بے خبر اوروں کے عیب و ہنر پرنظر رکھتے ہیں۔ اس شغل بے کارکے لیے کوئی بھی ٹی وی چینل لگالیا یا اخبار اٹھالیا، خبریں اور تجزیے قطار اندر قطار لطائف کی بہار دکھارہے ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک خبر آپ کی نذرہے مگراس سے قبل جرمنی کا ذکر کہ خبر کا تعلق اس سے جڑا ہے۔

جرمنی یورپ کاایک اہم ملک ہے ،جسے اہل عرب ’’المانیا‘‘ پکارتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنی مشہورزمانہ نظم ’’مسجد قرطبہ‘‘ کے اختتامی بند میں پروٹسٹنٹ فرقے کے بانی مارٹن لوتھرکی اصلاحی کوششوں کو اسی نسبت سے یاد کیا ہے:


دیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیں

جس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاں


ایک خاص طرح کا سلور (جس کی کیمیائی وضاحت المانوی کیمیادان نے کی تھی) شاید ’’المانیا‘‘ ہی کی نسبت سے ’’المونیم‘‘ کہلاتا ہے۔

خیر ذکرتھا جرمنی کا، جس کی ’’DW‘‘ اردو نیوز سروس آ ج کل خاصی فعال ہے، جس میں خبروں کے علاوہ مختلف موضوعات پر ہلکے پھلکے انداز میں رپورٹس بھی شامل ہوتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایسی ہی ایک رپورٹ ’’راجستھان میں اونٹوں کی حفاظت‘‘ کے عنوان سے تھی ۔ رپورٹ کا درج ذیل پہلا جملہ ہی ایسا تھا کہ ہم بلبلا اٹھے:

’’بھارتی ریاست راجستھان میں رائیکا برادری صدیوں سے اونٹوں کی شتربانی کرتی ہے۔‘‘

’’ اونٹوں کی شتر بانی ‘‘پڑھنے کے بعد سے فکر مند ہیں کہ اگر رائیکا برادری کواونٹ میسرنہ ہوتے تو پھروہ ’’شتر بانی‘‘کے لیے کیا کرتی؟ گمان ہے کہ لکھنے والے نے’’اونٹوں کی شتر بانی ‘‘جیسی بے مثل ترکیب وضع کرکے قلم توڑ دیا ہوگا۔ ویسے بادشا ہ ایسی حرکتوں پر ہاتھ توڑ دیتے تھے ، اور قلم کار دُوہائی دیتا رہ جاتا تھا: ’’ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے ‘‘ ۔

اونٹ کو فارسی میں ’’شتر ‘‘ کہتے ہیں۔ایسے میں ’’اونٹوں کی شتر بانی ‘‘ کی جگہ فقط ’’شتر بانی‘‘کافی تھا،جو خاص ’’شتر ‘‘ہی سے متعلق ہے، اس میں کسی اور کوکوئی دخل نہیں کہ ان کے لیے ان کی اپنی نسبت سے مگس بانی اورگلہ بانی جیسی تراکیب پہلے سے موجود ہیں ۔

لفظ’’بان‘‘فارسی اور اردو کی مختلف تراکیب مثلاً: میزبان،گریبان،دربان وغیرہ میں بطور لاحقہ آتا ہے۔ اس کے معنی میں انتظام کاری داخل ہے۔ یہی ’’بان ‘‘ سنسکرت میں ’’وان‘‘ ہے۔ اسے ’’کوچوان‘‘ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

فارسی اور سنسکرت مائی جائی بہنیں ہیں،یہ اسی رشتے داری کا اثر ہے کہ اگر اونٹ فارسی میں ’’شتر‘‘ ہے تو سنسکرت میں ’’اُشٹر‘‘ ہے۔ ویسے فارسی میں اونٹ کو ’’سار‘‘ بھی کہتے ہیں،اسی سے ’’ساربان‘‘ کی ترکیب ہے۔ دلی کے دل والے شاعر ارشد کمال کہتے ہیں:


رہتا ہے بے نیاز جو آب و سراب سے

کھلتا ہے رازِ دشت اسی ساربان پر


علامہ اقبال کی ایک فارسی نظم ’’ نغمۂ ساربان حجاز‘‘ ہے۔جس کا ٹیپ کا بند ہے ’’تیز ترک گامزن منزلے مادورنیست‘‘ (ذرا اورتیز قدم اٹھا،ہماری منزل دور نہیں ہے)۔ قریب بار ہ پندرہ برس پیشتر تاجکستان میں پارلے منٹ کا گھیراؤ کرنے والے ہزارہاافراد کے ورد زبان اقبال ؒ کا یہی مصرع تھا: تیز ترک گامزن منزلے ما دور نیست

بات ساربان سے چلی تو تاجکستان جانکلی، اس کی مہار عرب کی سمت موڑی تو وہاں اونٹ کو’’ سفینۂ صحرا‘‘ پکاراگیا۔ ایک ہم ہیں کہ اسے ’’کینہ پرور‘‘اور کوئی کل سیدھی نہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں ۔عربوں نے عمر ، اوصاف اورتعداد کے لحاظ سے اونٹ کو سو سے زیادہ ناموں سے پکارا ہے۔بقول مشتاق احمد یوسفیـ:

’’عربی میں اونٹ کے اتنے نام ہیں کہ دور اندیش مولوی اپنے ہونہار شاگردوں کو پاس ہونے کا یہ گر بتاتے ہیں کہ اگر کسی مشکل یا کڈھب لفظ کے معنی معلوم نہ ہوں تو سمجھ لو کہ اس سے اونٹ مراد ہے‘‘۔

اونٹ کو عربی میں ’’جمل‘‘ بھی کہتے ہیں جو ’’جیم ‘‘ کے گاف سے بدلنے پر عبرانی میں ’’گیمل‘‘ ہوجاتا ہے اور پھر’’گاف‘‘ کے ’’کاف سے بدلنے پر انگریزی میں ’’کیمل ‘‘(Camel) کہلاتا ہے۔یہ وہی صوتی تبدیلی ہے جو ’’جیلانی،گیلانی اور کیلانی‘‘ میں پائی جاتی ہے۔اور معنی سب کہ ایک ہی ہیں کہ ایران کے شہر گیلان سے نسبت کااظہار ہے۔

’’جمل‘‘کے حوالے سے ایک دلچسپ بات ، وہ یہ کہ ’’جمل‘‘ عربی زبان کا واحد لفظ ہے جس کی جمع الجمع کی تعداد آٹھ تک پہنچتی ہے۔ وہ الفاظ کون سے ہیں یہ ان شاء اللہ کسی آیندہ نشست میں بیان کریں گے۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.