تین سپر پاورز کی بحالی- نذیر ناجی

بیجنگ اور واشنگٹن کی طویل عرصے سے جاری تجارتی جنگ ‘ ایران اور وینزویلا سے ہتھیاروں پر قابو پانے جیسے معاملات ‘ ماسکو اور بیجنگ کو ایک دوسرے قریب لا رہے ہیں۔چینی صدرشی جن پنگ نے6اور7 جون کوسینٹ پیٹرز برگ انٹرنیشنل اقتصادی فورم میں شرکت کی ‘لیکن اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ماسکو میں ملاقات بھی ہوئی ‘چین اور روس نے کئی معاہدوںپر دستخط کئے‘ جن میں مشترکہ تحقیق اور ٹیکنالوجی فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہوا‘اس کے علاوہ 5 جی نیٹ ورک پر مل کر کام کرنے کے حوالے سے کئی یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔ روس حال ہی میں چین کے ساتھ‘ بیجنگ کے سمندری ریشم روڈ کا حصہ دار ہونے کی خواہش کا اظہار بھی کر چکا ‘ جبکہ سائبیریا پائپ لائن جیسے بڑے منصوبے کاکام آخری مراحل میں ہے‘ جلد وہ منصوبہ تکمیل کو پہنچے گا اوراس سال کے اختتام تک روس کی قدرتی گیس تک چین رسائی حاصل کر لے گا۔

یہ ترقی روس اور چین کے وسیع رجحان میں نئی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے ‘ جو سیاسی‘ اقتصادی اور سکیورٹی کے تعلقات کو مضبوط بنائے گی ۔اس طرح کے معاملات روس اور چین کے درمیان جغرافیائی حدود کے بارے میں کئی سوال اٹھارہے ہیں ۔ امریکہ کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اس کے مقابلہ میں براہ راست لڑنے کے لیے نئے تعلقات استوار کیے جارہے ہیں۔ان سوالات کا جواب دینے کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ مناسب سٹریٹجک سیاق و سباق پرنظرڈالی جائے‘ اس کے بعد روس‘ چین اورامریکہ کے درمیان تعلقات کی کڑیوں کو جوڑا جائے۔روس اور چین تعلقات نئی جہت پر قائم ہوئے ہیں‘ جن کو لے کر امریکہ بھی پریشان نظر آتا ہے۔دوسری عالمی جنگ کے آخر میں امریکہ اور سوویت یونین دو بنیادی عالمی طاقتوں کی حیثیت رکھتے تھے اور 1949ء کے بعد چین ایک عوامی جمہوریہ چین کے نام سے اپنی نئی پہچان بنانے لگا۔یہ ترقی ایک معتبر سٹریٹجک مثلث‘ تعلقات پر مبنی تھی۔تین ممالک‘ مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی دو طاقتوں کے درمیان تعلقات ضروری تھے‘جو تیسری طاقت کے سٹریٹجک مفادات کی شکل کو دیکھتے ہوئے بنائے جاتے ۔ سٹریٹجک مفادات میں متعلقہ دوست ممالک کو جانبدار رکھنا اوران پر غلبہ بھی شامل تھا‘ جبکہ عالمی سطح پر اپنے نقطہ نظر کو فروغ دینا بھی انہی منصوبوں کا حصہ تھا‘ اہمیت کے حامل تضادات پیدا کرنااور ان تین ممالک کے درمیان نام نہاد عظیم طاقت کی دوڑ برسوں سے چلی آرہی ہے ۔

پوسٹر دور کے ابتدائی برسوں میں‘ چین اقتصادی اور فوجی نقطہ نظر سے تین طاقتوں میں سب سے کمزور تھا‘اس کے باوجودماوزے تنگ‘ چین امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان آزادی اور توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا سائز اور سیاسی و سفارتی وزن کو استعمال کرنے میں کامیاب رہا۔ عوامی جمہوریہ کے ابتدائی سالوں میں‘ بیجنگ نے سوویت یونین کے ساتھ اتحاد کیا‘ جزوی طور پراتحاد میں ان کے مشترکہ کمونیست نظریات بھی تھے‘ لیکن امریکی طاقت اور اثر و رسوخ کے مقابلہ میں ان کے مشترکہ مفاد ات کئی گنا زیادہ تھے۔اس اتحاد میں فوری طور پر کوریا کی جنگ‘ سرحدی تنازعہ اور جوزف سٹالین سے نیکتا خرشیف کی کامیابی کی وجہ سے اس مسئلے پرفوری طور پر کشیدگی پیدا ہوئی‘ جسے ماوزئے تنگ نے چین کے مفادات کے لیے خطرناک سمجھا۔یہ اختلافات آخر میں روسی سوویت تقسیم کے نتیجے میں کھل کر سامنے آئے۔1970 ء کے آغاز میں شروع ہونے والے امریکہ اور چین کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کوقائم کرنے کے لیے راستہ تیار کیاگیا‘ کیونکہ دونوں ممالک نے سوویت یونین کی طاقت اور اثر و رسوخ کو محدود رکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔الغرض امریکہ اور چین نے ثابت کیااور واقعی سوویت یونین کی طاقت کو موثر طریقے سے محدود کردیا گیا اور وہ1980ء کے عشرے تک کمزور ہونے لگا۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کھلاڑی اپنا رچایا گیاکھیل موثر طریقے سے کھیل گئے ‘سوویت یونین (موجودہ روس)تقسیم ہو کر رہ گیا۔ حکمت ِعملی کے تحت مثلث میں ایک نیا مرحلہ آیا۔امریکہ واحد عالمی سپر پاور بن گیا‘ جبکہ چین اقتصادی اور جیوپولیٹیکل عزم کی دورمیں داخل ہو گیا؛اگرچہ روس نے اندرونی افرادی قوت کا سامنا رہا اور اس کی عالمی طاقت پروجیکشن کافی حدتک کمزور ہوئی‘ مگرروس کبھی بھی علاقائی طاقت کے طور پر مکمل طور پرکمزور نہیں ہوا‘ جیسا کہ مشترکہ ریاستوں ‘ سابق سوویت کی سیاست اور سکیورٹی معاملات میں اس کی مسلسل مصروفیت اس کی طاقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔وقت کے ساتھ ترقی نے تین ممالک کے درمیان بجلی کی متحرک کارروائیوں کو دوبارہ بحال کیا‘جس کے نتیجے میں امریکہ نے اس کی طاقت پروجیکشن کو وسیع پیمانے پر بڑھا دیا‘ جبکہ چین اور روس نے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا شروع کردئیے۔1990ء کے عشرے کے بعدعالمی طاقت کے طور پر چین کا عروج اپنی مثال آپ ہے ‘اس نے جنوبی چین کے سمندر سے لے کرون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبے شروع کرکے‘ وسیع پیمانے پر مسائل پرقابو پاتے ہوئے ‘ امریکہ کے ساتھ براہ راست مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں کود پڑا۔

اس وقت‘ امریکہ مضبوط ترین طاقتور ملک ہے‘ لیکن اس کی حیثیت کوسیاسی‘ اقتصادی یا فوجی محاذپر تیزی سے چین اور روس نے مختلف طریقوں سے چیلنج کر رکھاہے۔چین کے ساتھ امریکہ کے کشیدگی اور روس کے موقف نے ماسکو اور بیجنگ کو ایک دوسرے کے قریب لاکھڑا کر دیا ہے ۔ایک بار پھر سٹریٹجک مثلث کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے زور دیاجا رہا ہے۔روس اور چین نے حالیہ برسوں میں اقتصادی تعلقات اور سیاسی معاہدوں کی توسیع بھی کی ہے۔ سرد جنگ کے اختتام کے بعد سے ان کی سطح کا تعاون اعلیٰ سطح بڑھنے لگا ہے ‘تاہم روس اور چین کے درمیان یہ بڑھتا ہوا تعاون دونوں کے لیے چیلنجوںسے نمٹنے اوران کی حدود کا تعین بھی کرتا ہے۔ روس اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات واقعی باہمی شرائط پر قائم ہیں۔ 2011ء سے ہر سال عددی ترقی کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک اب بھی مطلق شرائط پر محدود ہیں۔ امریکہ اور چین کے حالیہ تجارتی تنازعات کے باوجود مجموعی طور پر امریکی اور چین تجارت کا حجم2018 میں 737 بلین ڈالرتک تھا‘ جبکہ مجموعی طور پر روسی چین تجارت کا حجم108 بلین ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔
طاقتوں کی مثلث ‘کیا نیا رنگ بکھیرتی ہے؟ فی الحال کچھ کہا نہیں جا سکتا‘مگر سپر پاور کے لیے ضرور درد سر بنی ہوئی ہے۔