آل دا بیسٹ کپتان ۔۔۔۔۔ سرفراز - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

سرفراز کی نیک نیتی اور ایمانداری پر کس کو شک ہو سکتا ہے ؟ پاکستان سے اس کی کمٹمنٹ بھی مسلمہ ہے اور ذاتی کردار بھی بے داغ۔ لیکن میچ کے نتیجہ نے ثابت کیا کہ جیتنے کے لیے یہ سب مل کر بھی کافی نہیں۔

میچ میں کامیابی کے لیے دو اور بنیادی چیزیں بھی اہم ہیں ۔۔۔۔ کپتان میں صورتحال کو سمجھنے اور بروقت فیصلوں کی اہلیت اور ٹیم کی سیلیکشن و پرفارمنس۔

اگر کپتان کو کھیل کے ٹرننگ پواینٹس پر جماہیاں آنے لگیں یا ایسا لگے کہ وہ میدان میں موجود ہی نہیں تو اہم فیصلوں میں تاخیر ہونے لگے گی نتیجتاً گیم ہاتھ سے نکل جائے گی۔ دوسری جانب ٹیم کا مختلف کیمپس میں بٹے ہونا بھی باعث تشویش ہے ۔ اور یہ بات اس سے بھی زیادہ کہ کپتان اپنے آپ میں ہی مست ہو اور ٹیم ممبرز کو انگیج کرنے، انہیں ہدایات دینے کے بجائے بس وکٹ کے پیچھے کھڑا شور مچاتا رہے۔ تماشائیوں کو لگے گا کہ وہ بہت involve ہو کر کھیل رہا ہے لیکن محض شور مچانے سے معاملات درست نہیں ہوتے، جب تک وہ اپمنے کھلاڑیوں کی باقاعدہ رہنمائی نہیں کرے گا انہیں درست ہدایات نہیں دے گا۔ اب یہ اپنی جگہ درست ہے کہ ان ہدایات کے مؤثر ہونے کے لیے کپتان کو خود بھی معاملات اور تکنیکی باریکیوں کا علم ہونا ضروری ہے۔ اس سے بھی اہم ہے کہ کپتان کا کوئی پلان بھی ہو۔ محض سمجھدار نظر آنے اور سیانی باتیں کرنے سے نتائج حسب منشا نہیں نکلتے۔ اب اگر کپتان کو لگتا ہے کہ ٹیم اس کی مرضی سے سیلیکٹ نہیں ہوئی تو یا تو وہ "سیلیکٹرز" کو پہلے روز ہی بتا دیتا کہ میں اس ٹیم کے ساتھ نہیں چل سکتا ۔۔۔ لیکن اگر کپتان بننے کے چکر میں اس نے ٹیم کو قبول کر لیا ہے تو پھر اب اس سے پرفارمنس لینا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ پھر یہ بھی تو ہے نا کہ آصف علی جیسے ڈان بریڈمین "پَلَس" تو کپتان کا اپنا انتخآب ہیں ۔۔۔ ان کی پرفارمنس کیا ہے ؟

یہ بھی پڑھیں:   کیا قومی کرکٹ ٹیم میں گروپنگ موجود ہے - محمد عامر خاکوانی

ہم نے دیکھا کہ "ریٹ" بڑھتا رہا اور سب کھلاڑی بس بیچارگی سے ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ ایک سطح پر جا کر ریٹ اتنا بڑھ جائے گا کہ پورا میچ ہی ہاتھ سے نکل جائے گا اور پھر ہم نے دیکھا کہ کپتان بھی اپنی تمام تر کوشش اور نیت نیتی کے باوجود کچھ نہ کر سکا۔

ابھی ٹورنامنٹ باقی ہے۔ اب بھی بہتری ہو سکتی ہے اور مکمل ناکامی سے بچا جا سکتا ہے ۔ لیکن کپتان کو دعا سے آگے بڑھ کر دوا کا بھی کچھ بندوبست کرنا ہوگا۔ خود اپنی اہلیت کو بھی بہتر بنائے اور ٹیم کے ان ممبر حضرات پر بھی نظر رکھے جو کھیلتے تو اس کی ٹیم میں ہیں لیکن ان کی نظریں بیرونی لیگز سے معاہدوں پر لگی رہتی ہیں۔

آل دا بیسٹ کپتان ۔۔۔۔۔ سرفراز !

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.