تبدیلی آ سکتی ہے‘ مگر…! حبیب اکرم

کراچی کے ایک بینکر دوست ہیں جنہیں کچھ عرصہ پہلے تک تحریک انصاف اور عمران خان سے بے پناہ امید تھی کہ وہ اقتدار میں آ کر پاکستان کے ہر درد کا درماں کر ڈالیں گے۔ اس امید میں انہوں نے گزشتہ پانچ سالوں میں اپنے طور پر وہ سب کچھ کیا جو وہ عمران خان کو اقتدا ر میں لانے کے لیے کر سکتے تھے۔ جیسے ہی عمرا ن خان وزیر اعظم بنے‘ اس بینکر دوست نے مجھے فون کیا اور کہا ‘ ''اب آپ دیکھیے گا پاکستان میں کس طرح تبدیلی آتی ہے‘‘۔ جب تبدیلی حکومت نے ستمبر دو ہزار اٹھارہ میں اپنا ضمنی بجٹ پیش کیا تو میں نے دنیا ٹی وی پر اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ ''تحریک انصاف سے ٹرین چھوٹ گئی ہے‘ اب عمران خان معاشی مسائل میں الجھتے چلے جائیں گے‘‘۔ میرا تبصرہ سن کر انہوں نے مجھے فون کیا اور فرمایا‘ ''میں آپ سے اس حد تک متفق ہوں کہ یہ ایک کمزور بجٹ ہے مگر آپ دیکھیے گا آئندہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے‘‘۔ میں نے صرف اتنا عرض کیا کہ ''آپ کی آئندہ کا انتظار کر لیتے ہیں‘‘۔ وقت گزرتا رہا اور پھر اس حکومت کے ہاتھوں ہماری معیشت کا جو حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ دو دن پہلے ان دوست کا دوبارہ فون آیا۔ وہ رو دینے والے لہجے میں بات کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ عمران خان کے ہاتھ سے کھیل نکل چکا ہے۔

وہ کہہ رہے تھے‘ ''میں سرمائے کی منڈی میں کام کرتا ہوں‘ اس منڈی میں عمران خان کی ساکھ تباہ ہو چکی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی ساہوکار اب انہیں ایک دھیلا بھی دیں گے تو ان کا خون پی جائیں گے۔ میں مانتا ہوں کہ معیشت کے بارے میں آپ کا تجزیہ درست اور میرا غلط تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں نے عمران خان کا ساتھ دے کر اس ملک کے ساتھ زیادتی کی ہے‘ میں خود کو معاف نہیں کر پاؤں گا‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے روتے ہوئے فون بند کر دیا۔
عمران خان کی حکومتی کارکردگی پر مایوسی کی یہ مثال جو میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہے‘ محض ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ‘ بد قسمتی سے‘ ایک عمومی رائے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ہمارے وہ نوجوان بچے بچیاں جنہوں نے عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے اہم ترین کردار ادا کیا تھا‘ بطور وزیر اعظم ان کی اور ان کے وزراء کی کارکردگی دیکھ کر جھنجھلاہٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں میں یہ احساس جڑ پکڑ چکا ہے کہ وہ دھوکے کا شکار ہوئے ہیں۔ ان نوجوانوں کو ہر معاشی مشکل پر حکومت کی طرف سے الزام پچھلی حکومتوں پر ڈال دینے کی روش ابتدا کے دو چار ماہ تک تو درست لگتی تھی‘ لیکن اب نو ماہ بعد بھی جب پچھلی حکومت پر ملبہ ڈالا جاتا ہے تو انہیں حکومتی دلائل کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔

معاشی مشکلات کے بارے میں حکومتی بیانیہ اب اتنا کمزور پڑ گیا ہے کہ خود وفاقی وزراء برسرِ عام اس کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں۔ کچھ وفاقی اور صوبائی وزیروں نے مجھے ذاتی طور پر بتایا ہے کہ وہ ٹی وی پر آ کر اپنی حکومت کا دفاع کرنے کی ہمت ہی نہیں کر پا رہے۔ دو مہینے پہلے کی بات ہے کہ وزیر اعظم کے ایک قریبی ساتھی نے میرے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہم اصل تبدیلی دکھائیں گے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد میں نے انہیں ان کا دعویٰ یاد دلایا تو انہوں نے نظریں جھکا کر کہا‘ ''اب ہم کچھ نہیں کر سکتے‘‘۔ ان کا جواب بتا رہا تھا کہ وہ بھی اتنے ہی مایوس ہیں جتنے ان کے ووٹر۔ کیا یہ طے ہو گیا ہے کہ عمران خان اب وہ تبدیلی نہیں لا سکتے‘ جس کا خواب انہوں نے عام آدمی کو دکھایا تھا؟ تمام تر مشکلات اور عمران خان کی ٹیم کی کمزوریوں کے باوجود مجھے لگتا ہے یہ خواب اب بھی شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے بشرطیکہ حکومت اپنی توانائیاں صرف پانچ نکات تک محدود کر دے۔
سب سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ حکومت سیاسی معاملات پر خاموشی اختیار کرے۔ اپوزیشن کے الزامات اس وقت زیادہ با معنی ہو جاتے ہیں جب حکومتی وزراء قطار اندر قطار ان کے جواب دینے لگتے ہیں۔ اگر ان کا جواب دینا ضروری ہو تو باقاعدہ مشاورت کے بعد پارلیمنٹ کے اندر دیا جائے نہ کہ تماشا لگا کر تالیاں بجوانے کی خواہش میں ہر شام میڈیا پر بیٹھ کر اپنی دھنائی کرائی جائے۔ حکومت کی خاموشی سے جہاں اپوزیشن کا چلّانا کم ہو گا وہیں حکومت کو بھی سکون سے کام کرنے کا موقع ملے گا۔ پارلیمنٹ میں جواب دینے کی روایت سے یہ ادارہ بھی مضبوط ہو گا جس کا وعدہ خود عمران خان نے اپنے منشور میں عوام سے کر رکھا ہے۔

دوسرا نکتہ ہے معاشیات۔ اس معاملے میں حکومت کے اوسان خطا ہو چکے ہیں۔ اس کے پاس عوام کو بتانے کے لیے کچھ ہے نہ لائحۂ عمل کے طور پر کوئی پالیسی۔ اس بوکھلاہٹ میں اسے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف ٹیکس اکٹھا کرنا نہیں بلکہ معاشی سرگرمی کا فروغ بھی ہے۔ ملک میں صنعتی و زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے یہ اب بھی بہت کچھ کر سکتی ہے۔ مقامی مشینری استعمال کرنے والی چھوٹی صنعتوں کے فروغ کے لیے اگر حکومت صرف شرح سود کو نصف کر ڈالے تو ایک سال کے اندر اندر بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اسے یہ بھی سمجھنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک سے برآمدات اسی وقت بڑھ سکتی ہیں‘ جب یہاں کی مقامی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کیا جائے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ مقامی صنعتی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ کارخانہ دار اور تاجر کے درمیان لین دین کے معاملات کو درست کیا جائے۔ اس وقت مقامی صنعت ہمارے تجارتی شعبے کی خراب کاروباری ساکھ کی وجہ سے پوری طرح کام نہیں کر پا رہی۔ اگر یہ معاملات ٹھیک ہو جاتے ہیں تو کچھ ہی عرصے میں ملک کا درآمدی بِل خاطر خواہ طور پر نیچے آ سکتا ہے۔ ان معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے حکومت کے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے اور یہ سب کرنے کے لیے پیسے کی نہیں صرف کام کرنے کی ضرورت ہے۔
عدالتی نظام کی اصلاح تیسرا نکتہ ہے۔

اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ ہماری عدالتوں میں معاہدے نافذ کرائے جا سکیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میںکاروباری لین دین کے معاملے کو نمٹانا عدالتوں میں پہلی ترجیح قرار پاتا ہے مگر ہمارے ہاں لین دین کا مقدمہ دہائیوں چلتا رہتا ہے۔ اس کے لیے حکومت کو قانون میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے ساتھ مل بیٹھنا ہے تاکہ ملک کو واقعی کاروبار کے لیے موزوں بنایا جا سکے۔ مؤثر عدالتی نظام بھی تو تبدیلی کے منشور کا نکتہ ہے‘ اگر حوصلہ ہار کر بیٹھی تحریک انصاف اسے یاد کر لے تو اس کام کے لیے بھی اسے پیسے کی ضرورت نہیں۔ اگر اپوزیشن کے ساتھ تعلقات میں تلخی کم کر لی جائے تو یہ کام با آسانی ہو سکتا ہے۔
بلدیاتی نظام حکومتی لائحہ عمل کو چوتھا نکتہ ہونا چاہیے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کے بنائے ہوئے بلدیاتی نظام کو ختم ہی ہونا چاہیے تھا‘ لیکن اس کے خاتمے کے بعد نئے نظام کا قیام ضروری ہے۔ یوں بھی بلدیاتی اداروں کے ذریعے عوام کو طاقتور بنانا بھی تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے۔ یہ وہ واحد نکتہ ہے جس پر واقعی کچھ کام ہوا ہے اور ایک طاقتور بلدیاتی نظام کا قانون بھی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں منظور ہو چکا ہے۔ اگر آئندہ چھ ماہ میں اس نظام کے تحت الیکشن کرانے کا آغاز کر دیا جاتا ہے تو نیچے کی سطح تک تبدیلی محسوس ہونے لگے گی۔ جب لوگوں کے کام ہو رہے ہوں گے تو شاید وہ معاشی مشکلات کچھ آسانی سے جھیل سکیں۔

پانچواں اور آخری نکتہ ہے بیوروکریسی۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ ملک میں رائج بیوروکریسی کا نظام عوام کی ضروریات‘ جدید عہد کے تقاضوں اور ہمارے تعلیمی نظام سے متصادم ہے۔ بیوروکریسی میں تبدیلی کے لیے کئی رپورٹس تیار ہیں اور جدید ترین رپورٹ ڈاکٹر عشرت حسین نے تیار کی ہے ۔ اس رپورٹ کو عام کرکے اور اس پر مباحثہ کرا کے بیوروکریسی میں دور رس اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔ اگر یہ اصلاحات کر لی جائیں تو ان کے ثمرات زیادہ سے زیادہ دو سال میں سامنے آنے لگیں گے۔
یہ پانچ نکاتی ایجنڈا میرا نہیں خالصتاً تحریک انصاف کا اپنا بتایا ہوا ہے‘ اس کے منشور کا حصہ ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے کوئی سرمایہ بھی نہیں چاہیے۔ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتی یہ حکومت اگر اپنے منشور پر ہی نظر ڈال لے تو اسے راستہ دکھائی دے جائے گا۔