انسان کی طاقت اور مقام شکر - بشارت حمید

انسانی جسم اللہ کی تخلیق کا ایک شاہکار ہے اس کے اندر زندگی کو قائم رکھنے کا جو خود کار نظام خالق نے رکھا ہے اس پر جتنی گہرائی میں‌غور کرتے جائیں‌گے اتنا ہی اس رب کی عنایات کا شکر دل میں بڑھتا جائے گا۔ انسان کی پیدائش سے لے کر جوانی اور پھر بڑھاپا یہاں‌تک کہ کسی بیماری اور مرض‌کا شکار ہو جانے تک کم ہی اس طرف توجہ ہوتی ہے کہ میرا جسم اور اس کے تمام فنکشنز بشمول اعضاء اپنی اپنی جگہ کیا کیا خدمات سرانجام دیتے ہیں‌تو میں‌معمولی سی حرکت کرنے کے قابل ہو پاتا ہوں۔

منہ زور جوانی میں‌انسان خود کو بہت طاقتور سمجھ کر دوسروں‌پر ظلم ڈھاتے اور انکی حق تلفی کرتے وقت کبھی یہ نہیں‌سوچتا کہ میں‌اپنی ذات میں‌کتنا کمزور ہوں کتنا بے بس اور لاچار ہوں ۔ جس جسم کی طاقت کے بل بوتے پر اکڑتا پھرتا ہوں اس کے فنکشنز پر میرا کوئی اختیار سرے سے ہے ہی نہیں۔ اگر اللہ کسی ایک عضو کے کام کو ڈیفالٹ سیٹنگز سے معمولی سا ڈسٹرب کر دے تو یہ ساری طاقت ہوا ہو جائے اور بے بسی میں‌انسان اس قابل بھی نہ ہو پائے کہ اپنی حوائج ضروریہ کی گندگی اپنے جسم سے از خود صاف ہی کرسکے۔

سینے میں‌دھڑکتا ہوا دل جو پیدائش سے لے کر دم آخر تک مسلسل چلتا رہتا ہے اور جس دل کی دھڑکنوں‌پر شاعروں‌نے دیوان کے دیوان لکھ چھوڑے ہیں جو دھڑکنیں محبوب کو سونپ دینے کی تمنا رہتی ہے جو دل محبت اور الفت کا استعارہ ہوتا ہے۔ اس دل کی دھڑکن ذرا سی بے ترتیب ہو جائے تو انسان کو لگ پتہ جاتا ہے۔ پھر ڈاکٹروں‌حکیموں کے پاس بھاگتا ہے کہ اس دل کی بیماری پر قابو پایا جاسکے۔۔ اب تک گزری ساری زندگی میں‌کچھ بھی کھاتے پیتے وقت یا کوئی بھی صحیح یا غلط کام کرتے وقت اپنے اندر کے نظام کے فنکشنز کے بارے کبھی نہ سوچنے والا بندہ بھی اب پانی کا ایک گھونٹ اور کھانے کا ایک لقمہ بھی ڈاکٹر سے پوچھے بنا نہی لیتا کہ اسی صحت کو واپس حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے جس صحت کے مفت میں‌ہوتے ہوئے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:   گمان کی طاقت - حوریہ ایمان ملک

صحت و تندرستی کی حالت میں‌ انسان کی اپنے آپ سے اور اپنے خالق سے مکمل غفلت اسے اس غلط فہمی میں‌مبتلا کر دیتی ہے کہ یہ سب ایسے ہی رہے گا تم جو مرضی کرتے رہو تمہاری صحت ہمیشہ ٹھیک ہی رہے گی۔ تم دوسروں‌ پر جتنا مرضی ظلم ڈھاتے رہو تمہارا جاہ و جلال ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔۔ تم جتنا مرضی مال و دولت اور جائیداد اکٹھی کرتے رہو یہ سب ایسے ہی ہمیشہ تمہارے پاس رہے گا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ایسی غفلت میں پڑے رہنے والوں‌کے لئے تباہی اور بربادی ہے جو یہ سمجھتے ہیں‌کہ انکی شان و شوکت اور مال ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔

ظالم اور جابر ترین انسان بھی جب بیمار ہوتا ہے تو ہر کام میں‌دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ پھر اسے اپنی اوقات اور اصلیت سمجھ میں‌ آنے لگتی ہے ۔ ہم جس انسان کو بہت زیادہ بااختیار اور پاورفل سمجھتے ہیں‌یہ ہمارے رب کا‌ دلوں‌ میں‌ ڈالا ہوا اس شخص کا رعب ہوتا ہے ورنہ وہ انسان بھی بھوک محسوس کرتا ہے، اسے بھی کھانے پینے اور رفع حاجت کی ضرورت اسی طرح‌ پڑتی ہے جیسے ایک عام بندے کو۔ اسے بھی چند گھنٹوں کے بعد آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ خوف اور رنج کا شکار بھی ہوتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہاں‌ ہر ذی روح‌ سراپا احتیاج ہی ہے، کوئی ایک بھی ان چیزوں‌ سے مبرا نہیں ہے۔ بہتری اسی میں‌ ہے کہ ہم اپنی صحت اور جوانی کے دور میں‌ ہی اپنے آپ کو اور اپنی ذات کو پہچان لیں‌ اور ان نعمتوں‌ کے حصول پر اکڑنے اور تکبر کرنے کے بجائے اس خالق و مالک کے شکر گزار بندے بن جائیں جس نے یہ سب ہمیں‌ بنا مانگے عطا کر رکھا ہے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.