ترکی اور امت مسلمہ کے لیے بڑا صدمہ - منیب حسن

ترکی کے مشہور ادیب، شاعر، مصنف، محقق، مؤرخ اور قانون دان "قدیر مصر اولو" آج دنیا سے رخصت ہوگئے. ان کا دنیا سے کوچ کر جانا صرف ترکی ہی نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، کیوں کہ مرحوم خلافت عثمانیہ اور آج کے مسلمان کو جوڑنے والا پل تھے. انہوں نے پوری زندگی خلافت عثمانیہ کی تاریخ جمع، محفوظ اور نقل کرنے کے ساتھ اس کے خلاف پروپگینڈا اور الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لیے وقف کیے رکھی.

اولو 1933ء میں خلافت عثمانیہ کے سقوط کے 9 برس بعد بحیرہ اسود کے کنارے واقع ترکی کے شمال مشرقی صوبے طرابزون میں پیدا ہوئے، جو سلطان اعظم سلیمان قانونی رحمہ اللہ کی بھی جائے پیدایش ہے. ساتھ ہی یہ علاقہ فنون لطیفہ کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے. جب کہ مرکزی شہر طرابزون کی میئرشپ اسلام پسند حکمراں جماعت آق کے پاس ہے، جس سے وہاں کے فکری رجحان کا بھی اندازہ ہوتا ہے. ‏مرحوم نے 1954ء میں استنبول کے لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی، تاہم اپنی زندگی اتاترک کے جدید ترکی کے خلاف اپنے قلم اور زبان سے جہاد کرتے گزاری. انہیں جدید ترکی کا سب سے بڑا ناقد مانا جاتا ہے. اس حوالے سے ان کی تصانیف اور مضامین عرصہ دراز سے مختلف حلقوں میں ترش و گرم بحث مباحثے کا سبب بنے رہے ہیں.
ان کی پہلی ہی تصنیف "معاہدہ لوزان، فتح یا دھوکا" پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ جدید ترکی پر تنقید میں ان کی اٹھان کیا تھی. خلافت عثمانیہ کے خلاف جنگ عظیم اول کے اتحادیوں کے ساتھ طے پائے اس معاہدے میں اتاترک عراق، شام، قبرص، مصر، سوڈان اور لیبیا کے علاقوں سے دستبردار ہوا، اور بدلے میں موجودہ ترکی کے مشرقی علاقے واپس حاصل کرکے حالیہ جغرافیائی سرحدوں اور قوم پرست ترکی کی بنیاد رکھی. اولو مرحوم نے اپنی اس کتاب میں اتاترک اور اس کے مقامی ہمنواؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ "وہ امت مسلمہ کی قیادت سے دستبردار ہو کر زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر راضی ہوگئے".

یہ بھی پڑھیں:   ترکی مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے - سفیر پاکستان

اس کے بعد انہوں نے اپنی دیگر تصانیف اور مضامین میں جہاں ایک طرف اسلام، مسلمانوں اور عثمانی دور کا ڈٹ کر دفاع کیا، وہیں سیکولرزم اور تجدد کے بھی خوب بخیے ادھیڑے. یہی نہیں، بلکہ جدید ترکی کے ساتھ اس کے بانی اتاترک پر بھی بے خوف و خطر تنقید کی، جس کے باعث انہیں قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں. تاہم ان کے عزم، حوصلے اور سرگرمیوں میں کوئی کمی نہ آئی. وہ مرتے دم تک اپنے قلم سے یہ جہاد کرتے رہے.
اسی کا نتیجہ ہے کہ اولو مجموعی طور پر 64 کتابوں، ہزاروں مضامین اور سیکڑوں دروس پر مشتمل ایک وسیع علمی میراث چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں. ان کی دیگر مشہور تصانیف میں قبضے کی داستان، یونان کے سیاہ کرتوت، عماموں والے مجاہدین اور جنگ آزادی، امریکا میں سیاہ فاموں کی اسلامی تحریک، ماسکو کی سیاہ کاریاں، عراقی تُرک اور موصل کا قضیہ، آلِ عثمان کی داستان، علی شکربائی اور خلافت عثمانیہ کے آخری حکمرانوں سلطان وحید الدین، سلطان عبدالعزیز اور سلطان عبدالحمید پر مظلوم سلطان کے نام سے تین کتب شامل ہیں.

مجھے ان کے بارے میں پہلی بار ایک خبر کے ذریعے پتا چلا، جس میں ان کے ایک مضمون کا ذکر تھا. اس مضمون میں انہوں نے ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے ڈراما سیریل "پایہ تخت عبدالحمید" پر تنقید کرتے ہوئے تاریخی غلطیوں کی نشان دہی کی تھی. اس کے بعد سے میں انہیں فالو کررہا اور ان کی تحریروں سے مستفید ہو رہا ہے. آج فجر کے بعد ان کے انتقال پُرملال کی خبر پڑھ کر بہت افسوس ہوا کہ تاریخ میں علم و تحقیق کا ایک خزانہ ہی دنیا سے رخصت نہیں ہوا، بلکہ اسلام کے لیے غیرت و حمیت کا جنازہ بھی اٹھ گیا ہے. اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائیں اور ان کے درجات بلند فرمائیں۔