کاروبار کے شرعی اصول - علامہ ابتسام الہی ظہیر

ہر انسان میں یہ تمنا پائی جاتی ہے کہ وہ آسودگی اور خوشحالی کی زندگی بسر کرے۔ یقینا مال و دولت بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے اور ایمان‘ علم اور صحت کے بعد مال بھی انسان کی ضروریات کی تکمیل میں نمایاں کردار اد ا کرتا ہے۔ بدحالی ‘ فقیری اور مفلسی کو ہر انسان نا پسند کرتا ہے اور اس کی یہ خواھش ہوتی ہے کہ بدحالی‘ مفلسی سے کسی نہ کسی طور پر بچا جا سکے؛ چنانچہ لوگوں کی بڑی تعداد کاروبار اور ملازمت کو خوشحالی کے حصول اور مفلسی اور محتاجی سے بچاؤ کے لیے کرتی ہے۔ مختلف ہاؤسنگ سکیموں میں پراپرٹی کا کا روبار اپنے عروج پر نظر آتا ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں پراپرٹی ڈیلرز مختلف پراجیکٹس کی خریدو فروخت کرنے مصروف نظر آتے ہیں۔

میرے بھانجے ڈاکٹر سبیل اکرام نے بھی میڈیکل کی تعلیم کو مکمل کرنے کے بعد تین سال قبل ایک ہاؤسنگ سکیم میں کام کرنا شروع کیا اور بتدریج کاروباری اور معاشی اعتبار سے ترقی کی منازل کو طے کیا۔ چند روز قبل میرے قریبی عزیز حافظ ابوبکر ایوب نے بھی اسی سکیم میں اپنے پراپرٹی کے کاروبار کا آغاز کیا اور باضابطہ طور پر اس کی افتتاحی تقریب کا انعقاد‘ یکم اپریل کو اپنے نئے دفتر کے سامنے موجود پارکنگ لاٹ میں کیا۔ اس پروگرام میں پراپرٹی ڈیلرز کی بڑی تعداد جمع ہوئی‘ جس میں اس علاقے کے کئی ممتاز تاجر بھی شامل تھے۔
اس تقریب میں ڈاکٹر سبیل اکرام نے‘ جو حافظ قرآن بھی ہیں‘ بڑی خوش الہانی سے سورہ حشر کی آخری تین آیات کی تلاوت کی اور حافظ ابوبکر ایوب اور ان کے ساتھی فخر عظیم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس حوالے سے ممتاز تاجر شیخ سرفراز نے اس موقع پر بڑی خوبصورت گفتگو کی اور پرُجوش انداز میں حافظ ابوبکر ایوب کو مبارک باد پیش کی۔ مجھے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی گئی‘ تو میں نے کاروبار اور اس کے شرعی آداب اور تقاضوں کے حوالے سے اپنی چند گزارشات کو سامعین کے گوش گزار کیا‘جن کو میں قارئین کے سامنے بھی رکھنا چاہتا ہوں۔

انسان فرشتوں کے برعکس روزگار ‘ کاروبار اوررزق کا طلب گار ہے اور بھوک ‘ پیاس‘ کپڑا‘ مکان ‘ تعلیم اور علاج ومعالجے کے لیے ہر انسان کو مناسب وسائل کی ضرورت ہے؛ چنانچہ مال واسباب کے لیے تگ ودو کرنا انسانی زندگی کا ایک اہم تقاضا ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے انسان کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے‘ لیکن اس جدوجہد کے دوران انسان کو اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی جدوجہد کا مقصد جہاں پر روزگار کا حصول ہونا چاہیے ‘وہاں پر اس کو اس بات کا انتظام بھی کرنا چاہیے کہ وہ جو کچھ بھی کما رہا ہو‘ اس کو حلال اور طیب ہونا چاہیے۔
اس ضمن میں بخاری شریف کی ایک اہم حدیث درج ذیل ہے: حضرت ابو ہریرہ ؓسے روا یت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فر ما یا : اے لو گو !اللہ تعا لیٰ پا ک ہے اور پا ک ( مال ) کے سوا ( کو ئی ما ل ) قبول نہیں کرتا۔ اللہ نے مو منوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا‘ جس کا رسولوں کو حکم دیا اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا : اے پیغمبران! پا ک چیز یں کھا ؤ اور نیک کا م کرو جو عمل تم کرتے ہو میں اسے اچھی طرح جا ننے والا ہوں اور فر ما یا اے مومنو!جو پا ک رزق ہم نے تمہیںعنا یت فر ما یا ہے اس میں سے کھا ؤ ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا : جو طویل سفر کرتا ہے بال پرا گندا اور جسم غبار آلود ہے ۔ ( دعا کیلئے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہا تھ پھیلا تا ہے: اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے‘ اس کا پینا خرا م کا ہے‘ اس کا لبا س حرا م کا ہے اور اس کو غذا حرا م کی ملی ہے‘ تو اس کی دعا کہا ں سے قبو ل ہوگی ۔ ‘‘

اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ ہود ‘ سورہ شعراء اور قرآن مجید کے کئی دوسرے مقامات پر مغضوب اقوام کا ذکر کیا۔ ان مغضوب اقوام میں سے ایک قوم مدین بھی تھی۔ قوم مدین کے لوگوں میں بنیادی طور پر ماپ طول کی کمی والی برائی پائی جاتی تھی۔ حضرت شعیب علیہ السلام ان کو اس بات کی نصیحت فرماتے رہے کہ ان کو پورا تولنا اور ماپنا چاہیے۔ لیکن وہ ان نصیحتوں کو قبول کرنے پر آمادہ وتیار نہ ہوئے۔ نتیجتاً اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو ایک چنگھاڑ کا نشانہ بنا یا اور وہ اس کے نتیجے میں قصہ پارینہ بن گئے۔قرآن مجید کے اس واقعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کاروباری بے اعتدالیوں اور خیانت کو پسند نہیں کرتے۔ انسان اگر غلط طریقے سے بہت زیادہ مال کو جمع کرل بھی لے تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے مدمقابل انسان خلوص نیت سے اللہ کے فضل کو تلاش کرنے کی کوشش کرے اور اس دوران اگر وہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ بھی کر سکے تو محنت کرنے کے سبب وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت اور خوشنودی کو پا لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

کاروباری مارکیٹ میں آنے والے شخص کو اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ یہ کاروبار فقط مال کمانے کا ایک ذریعہ نہیں‘ بلکہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور ناراضگی بھی حاصل ہوتی ہے۔جو شخص کاروبار محنت اور اچھی نیت سے کرتا اور جھوٹ ‘ دھوکے اور سٹے سے اعراض کرتے ہوئے کاروبار کو احسن طریقے سے کرتا ہے ‘تو یقینا وہ روزگار کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی کو بھی حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے مدمقابل اپنی چند روزہ زندگی میں خواہشات کی تکمیل کیلئے جائز اور ناجائز کے درمیان تفریق کو فراموش کرکے جو انسان دوسروں کا حق مارتا‘ جھوٹ بولتا‘ دھوکہ دہی ‘ ملاوٹ سے کام لیتا ، کم ماپتا اور کم تولتا ہے؛ اگروہ مال کو حاصل کر بھی لے تو بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام حمید میں دو طرح کے لوگوں کا ذکر کیا‘ جن میں سے ایک سرکشی کے راستے کو اختیار کرتے ہوئے ناکام ہونے والے لوگ اور دوسرے اپنی خواہشات کو دبا کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی سے گھبرانے والے کامیاب لوگ ھیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نازعات کی آیت نمبر37 سے 41 میں ان دونوں گروہوں کا ذکر یوں فرماتے ہیں : ''پس رہا وہ ‘جس نے سرکشی کی اور ترجیح دی دنیاوی زندگی کو تو بے شک جہنم اس کا ٹھکانہ ہے اور رہا وہ جو ڈر گیا اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے اور اس نے روکا نفس کو خواہش سے تو بے شک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔‘‘

ان آیات قرآنی کے ساتھ بعض احادیث بھی درج ذیل ہیں:
1۔ صحیح بخاری میں روایت ہے ‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے؛ حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی کھلا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے ( کہ حلال ہیں یا حرام ) پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے ‘جو ( شاہی محفوظ ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے۔ وہ قریب ہے کہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے ( اور شاہی مجرم قرار پائے ) سن لو ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ ( پس ان سے بچو اور ) سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے ‘جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔
2۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے‘ تو آپ نے فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کر دے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ چربی ان پر حرام کی گئی تھی‘ لیکن ان لوگوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔

3۔ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا‘ فتح مکہ کے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ آپ کا قیام ابھی مکہ ہی میں تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب‘ مردار‘ سور اور بتوں کا بیچنا حرام قرار دے دیا ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے ہم کشتیوں پر ملتے ہیں۔ کھالوں پر اس سے تیل کا کام لیتے ہیں اور لوگ اس سے اپنے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ‘وہ حرام ہے۔ اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہودیوں کو برباد کرے‘ اللہ تعالیٰ نے جب چربی ان پر حرام کی تو ان لوگوں نے پگھلا کر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔
4۔ مسند احمد میں سیدنا ابو بردہ بن نیار ؓسے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺکے ساتھ بقیع کی عیدگاہ کی طرف گیا‘ وہاں آپ نے اناج کے ایک ڈھیر میں ہاتھ داخل کیا‘پھر کیا دیکھا کہ اس میں دھوکہ یا ملاوٹ کی گئی تھی‘ پھر آپ نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے ‘جس نے ہم کو دھوکہ دیا۔
کتاب وسنت کی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ہر صورت حرام کمائی سے بچنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو کاروبار کرنے کے دوران حق حلال کے راستے کو اختیار کرنے اور حرام سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)