مولوی پکڑا گیا مولوی پکڑا گیا - صہیب جمال

فلاں کو کال کرتا ہوں، ایڑے کو میسیج کرتا ہوں، جھوٹی باتوں کے چیمپئن کو کال کرتا ہوں ۔ ابے سن مولوی پکڑا گیا، مسجد میں بدفعلی کرتا تھا، وڈیو بھیج رہا ہوں، میری وال چیک کر آج تو مولویوں کی بجا دی، فلاں فلاں کو مینشن کر وہ بہت اچھلتا ہے مولوی پر، آج تو ان کی ایسی گوٹ ہاتھ آئی ہے، مزہ آگیا۔

یہ ہوتا ہے جب کوئی مولوی کی خبر آتی ہے۔ مجھ سے حلف اٹھا لیں، مجھے کبھی کوئی خوشی نہیں ہوتی جب کسی کالج، یونیورسٹی کے پروفیسر، بینک کے افسر، کسی ایکٹر، کسی پولیس اور فورسز والے کے ہاتھوں زیادتی، مار پیٹ کی خبر آتی ہے، مجھے مظلوم کی فکر ہوتی ہے۔پرسوں شجاع آباد کے کسی امام مسجد قاری عبداللہ کی بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی خبر آئی تو دل خراب ہوگیا کیونکہ اس کے باپ کی بنائی ہوئی وڈیو تھی اور بچی کا باقاعدہ وڈیو سیشن بھی تھا، مگر ان فیس بک کی پوسٹوں پر مولوی بیزار لوگوں کے کمنٹس پڑھے تو اس میں کہیں بھی افسوس اور دکھ کا پہلو نظر نہیں آیا، یہ بدذات مذاق بنا رہے تھے اور مولوی مولوی کر رہے تھے، ساتھ میں کچھ شاتمین اپنے مقاصد پورے کر رہے تھے، بدنامِ زمانہ لبرل فاشسٹ اور لادین اپنے مکروہ اور بدبودار الفاظ سے اس وقت پیش کی گئی مظلوم بچی کا بھی تمسخر کر رہے تھے۔ ہوا یہ کہ دوسرے دن اس محلے اور شہر کے تاجران نے اپنا کردار ادا کیا اور سڑکوں پر آگئے کہ یہ زیادتی کا الزام جھوٹا، لڑکی قاری عبداللہ کی منکوحہ ہے اور یہ زمین کا تنازعہ ہے جو خاندانی جھگڑا ہے، اور لڑکی کے باپ نے کچھ مہینے پہلے خود بچی کا نکاح کیا اور ایک بہت بڑی تعداد نے ولیمہ بھی کھایا تھا۔ یہاں سارے لبرل فاشسٹ، لادین، مولوی بیزار اپنے اپنے بلوں میں واپس چلے گئے، مگر گردن باہر ہی رکھی۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ سکون سے بیٹھیں، اب شور مچانے لگے کہ یہ تو کم عمری کا نکاح ہے، یہ تو چھوٹی سی بچی سے شادی کا شوق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نکاح کی اہمیت ، ضرورت اور مقصد - مولانا عبدالمتین

ارے لبرلو! اگر کم عمر لڑکی سے شادی بری چیز ہوتی تو فطرت و قدرت اس میں کہیں نو کہیں گیارہ کہیں تیرہ سال کی عمر میں اس کو بالغ نہیں کرتی، اب لڑو قدرت سے۔ ایک تو یہاں ہر مزار کا مجذوب، ہر لمبی داڑھی، پگڑی ٹوپی والا مولوی کہا جاتا ہے، اس کی ہر حرکت کو مولوی اور مذہبی طبقہ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ لاکھوں داڑھی والے سرجنز، اسپیشلسٹ، انجینئرز، سی ای او، ٹرینر، پروفیسرز کے کامیاب علاج، کارناموں، کمپنی چلانے کی صلاحیت، پڑھانے کے انداز پر تو مولوی کہہ کر شاباشی نہیں دیتے، کیونکہ تم سب متعصب ہو، بغض رکھتے ہو۔ ملک میں شادی کی قانونی عمر اٹھارہ سال ہے، ٹھیک ہے صحیح ہے، اب اگر لڑکی کا باپ عدالت جائے اور جج کیس سنے، پہلے تو اس کو جھوٹے کیس میں سزا دے گا اور کسی بھی وکیل سے پوچھ لیں کہ عائلی قانون کے تحت کم عمری کے سزا میں باپ اور ماں کو بھی سزا دے گا، تو آپ سارے جو بغلیں بجا رہے تھے، اپنی اپنی قمیضیں پہن لیں۔اس پر ذرا دین بیزاروں کی باتیں سنیں منطقیں سنیں، "کیا آپ اپنی بارہ تیرہ سال کی بیٹی اور بہنوں کی شادی کسی تیس پینتیس چالیس پچاس سال کے بندے سے کریں گے ؟ کیوں کریں گے؟ ہم کیوں کریں گے؟ اگر اپنی مرضی سے کریں گے بھی تو بعد میں کچھ حاصل نہ ہونے اور معاوضہ نہ ملنے کے بعد اپنی ہی بیٹی اور بہن کو بدنام نہیں کریں گے۔
اس کیس سے ہمیں کیا پتہ چلا؟ دین بیزار لوگ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے کہ خباثت سے بھرے ہیں۔ سوشل میڈیا کی کسی بھی اولین خبر پر ری ایکشن نہ دیں، بلکہ ہر خبر کی تصدیق کرلیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال مثبت کریں۔ پتہ لگنے والے ظلم پر افسوس کریں اپنا بغض نہ نکالیں۔