زبردستی کی شادی ہماری مذھبی اقدار اور کریم کا اشتہار مغربی ایجنڈا - تزئین حسین

ویلنٹائنز ڈے پر سب و شتم ختم نہیں ہوا تھا کہ سوشل میڈیا پر عورت مارچ کے خلاف گالیوں کا نہ ختم ہونے سلسلہ شروع ہو گیا۔ گو اس کی بازگشت ابھی باقی ہے مگر کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ’’کریم‘‘ سروس کے ’’متنازعہ‘‘ بل بورڈ کی تصویر گردش کررہی ہے۔ زبردستی کی شادی پر خاموش رہنے والے ہمارے معاشرے کے ’’دین دار‘‘ طبقات اس ہورڈنگ پر لکھی تحریر پر برافروختہ ہورہے ہیں، جس کے مطابق شادی سے بھاگنے والی لڑکیاں کریم کی بائیک سروس کال کرسکتی ہیں۔

کریم پر، جو میری اطلاعات کے مطابق اہل وطن کو سستی اور معیاری ٹرانسپورٹ سروس فراہم کررہا ہے، ہمارے کلچر، اخلاقی اور مذہبی اقدار کو تبدیل کرنے کے انٹرنیشنل ایجنڈے پر کام کرنے کا الزام ہے۔ یہ مطالبہ بھی کیا جارہا ہے کہ کریم کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اس میں قابل غور لفظ ’’مذہبی اقدار‘‘ ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا معاشرہ، جو دین کے شعائر سے متصادم کلچرل روایات کو خاموشی سے برداشت کرتا ہے، ایسے مواقع پر اچانک اتنا حساس کیوں ہوجاتا ہے کہ اسے مذہب اور ثقافت، دونوں اسلام کے اس قلعے میں شدید خطرے میں نظر آنے لگتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا لڑکیاں کریم کے اشتہار کی وجہ سے بھاگیں گی یا اس لیے بھاگیں گی کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتیں؟ یا اُس فرد سے کرنا نہیں چاہتیں جس سے ان کی شادی کی جارہی ہے؟ اگر وہ شادی پر راضی نہیں تو کیا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے کہ ان کی زبردستی شادی کردی جائے؟ اور کیا واقعی شادی کے دن بھاگنے والی لڑکیوں کی تعداد میں اضافے کےلیے ہمیں کسی مغربی ایجنڈے کی ضرورت ہے؟ ہمارے اپنے معاشرتی رویّے جنہیں عین دین سمجھا جاتا ہے، کیا ایسے واقعات کےلیے تحریک نہیں بنتے؟

ہم ایک مزاحیہ سچویشن کے اشتہار میں استعمال پر اتنے حساس ہیں لیکن زبردستی کی شادی کے وقت ہماری خاموشی معنی خیز ہے۔ ٹوئٹر اور فیس بک کھول کر دیکھیے تو ایسا لگتا ہے جیسے کریم کے اس اشتہار پر پاکستانی معاشرے کا ایک طبقہ تڑپ اٹھا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب واضح مذہبی اقدار کو پامال کیا جارہا ہوتا ہے، اس وقت ہماری حساسیت کہاں جاتی ہے؟ اگر اشتہار کی اس مزاح کے پیرائے میں بیان کردہ تحریر کو سنجیدگی سے لیا جائے تو بھی شاید ہی اس بات سے اتفاق کیا جاسکے کہ یہ ہمارے کلچر کی نمائندگی نہیں کرتا۔ کم از کم شادی کے دن گھر سے بھاگنے کی روایت سوئیڈن، روس یا اسرائیل سے تو ہرگز برآمد نہیں ہوئی۔ مگر اس سے بڑھ کر سوال یہ ہے کہ کیا ایسی شادیاں ہمارے مذہب کی نمائندگی کرتی ہیں جن میں لڑکیاں چھوڑ، لڑکوں تک کا نکاح گن پوائنٹ پر ان کی مرضی کے بغیر کردیا جاتا ہے؟ اور معاشرہ زوجین سے یہ امید کرتا ہے کہ وہ اس رشتے کو مرتے دم تک نباہیں گے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ’’جائز‘‘ اولاد سے اسلام کے اس قلعے کو مستحکم کیا جائے گا۔ کیا سوشل میڈیا پر کریم کے اس بے ضرر اشتہار کا تعلق مغربی سازشوں سے جوڑنے والوں کو ان شادیوں سے مذہبی احکامات و روایات پر کوئی ضرب پڑتی محسوس نہیں ہوتی یا انہوں نے کبھی ان شادیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کی شرعی حیثیت کے بارے میں غور کرنے کی کوشش کی جو فریقین کی مرضی کے بغیر انجام پاتی ہیں؟

چند سال پہلے پسند کی شادی کے موضوع پر ایک ٹی وی ٹاک شو پرایک خاتون عالمہ کی بات مجھے بہت پسند آئی۔ ان کا کہنا تھا ’’پتا نہیں آپ نے کن لوگوں کو بلاکر بٹھایا ہے اور یہ کیا باتیں کررہے ہیں (اشارہ ان مرد عالم کہلانے والوں کی طرف تھا جو اظہار خیال کررہے تھے کہ دین میں پسند کی شادی کی گنجائش ہے یا نہیں)۔ پسند کے بغیر تو اسلام میں شادی ہوتی ہی نہیں۔‘‘ اس بات سے بڑے سے بڑا دینی عالم انکار نہیں کرسکتا کہ بالغ بچے کو اس کا اچھا برا بتانا والدین کا فرض اور حق ہے لیکن اس کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کی شرع میں اجازت نہیں۔ مگر معاشرے کا ایک خاص طبقہ جو ہر چیز میں مذہب کو گھسیٹ لیتا ہے، یہ سمجھنے پر راضی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں زبردستی کی شادی کی روایت اتنی عام ہے کہ پڑھے لکھے خاندان تک بعض اوقات اسے ایک معمولی چیز سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں۔ پچھلے دنوں کینیڈا میں ایک جاننے والی خاتون پاکستان سے اپنے بیٹے کےلیے نند کی بیٹی بڑے چاؤ سے بیاہ کر لائیں لیکن لڑکی نے کینیڈا پہنچ کر لڑکے کے ساتھ رہنے سے انکار کردیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے والدین کو شادی سے پہلے ہی بتادیا تھا کہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں اور میرے ساتھ اب تک زبردستی کی گئی ہے۔ لڑکی نے تین ماہ تک اپنے شوہر کو ہاتھ بھی نہ لگانے دیا اور بالآخر پاکستان واپس چلی گئی۔

خاتون جو ایک مذہبی اور سماجی تنظیم کی با قاعدہ رکن تھیں، ظاہر ہے اس صورت حال پر بہت دکھی تھیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ انہیں لڑکی کے والدین کے طرزعمل میں کوئی دینی یا شرعی قباحت محسوس نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر والدین نے شادی کردی تھی تو لڑکی کو نباہنا چاہیے تھا۔ یہ رویّے ہمارے معاشرے میں اتنے راسخ ہیں کہ بسا اوقات ان کا عکس ہمیں انٹرٹینمنٹ میڈیا پر بھی نظر آتا ہے۔ سب نہیں، لیکن ایسے ڈرامے بڑی تعداد میں پاکستانی چینلز کی زینت بننے لگے ہیں جن میں ماں اپنے بیٹے کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی پسند کی لڑکی کو چھوڑ کر والدین کی پسند کو اپنی شریک حیات بنائے۔ مذہب میں ماں کی حیثیت کو بنیاد بنا کر کہانی کو کچھ ایسے ترتیب دیا جاتا ہے کہ یہ پیغام دیا جائے کہ یہ بہت احسن عمل ہے۔ حالانکہ درپردہ ماں کی نیت یہ ہوتی ہے کہ پسند کی شادی کی صورت میں بیٹے بہو کی اچھی انڈراسٹینڈنگ کی وجہ سے بیٹا، ماں کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ایسے ڈرامے لکھنے اور پسند کرنے والے یہ بات نظرانداز کردیتے ہیں کہ اگر اس کی وجہ سے ان کی اولاد اپنی شریک حیات کے ساتھ ایڈجسٹ نہ کرسکی یا اپنی پہلی پسند سے تعلق ختم نہ کرنے کی وجہ سے کسی گناہ کا شکار ہوئی تو کون ذمے دار ہوگا؟

دو دہائیوں پہلے شاید لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو بھول کر زبردستی کے شریک حیات کے ساتھ اپنی زندگی کسی نہ کسی طرح گھسیٹ لیتے تھے لیکن سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ بات تقریباً ناممکن ہوگئی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فریقین اور ان کے بچوں سمیت کئی زندگیاں خراب ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ایک فریق بے چارہ صرف لاعلمی میں مارا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں استخارے کے موضوع کو مرکزی خیال بنانے والے ایک ڈرامے میں دکھایا گیا کہ ایک لڑکی کی شادی اس کی دادی کے استخارے کی بنیاد پر ایک بڑی عمر کے انتہائی سلجھے ہوئے دولت مند رشتے دار سے کردی جاتی ہے جبکہ وہ اپنے کسی کلاس فیلو سے شادی کرنا چاہتی ہے، جو اسی کی عمر کا ہے لیکن اتنا دولت مند اور ذمے دار نہیں۔ لڑکی استخارے سے قبل اپنے گھر والوں کو اپنی پسند سے آگاہ کردیتی ہے اور یہ بھی کہ وہ بڑی عمر کے اس رشتے کو پسند نہیں کرتی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کہانی میں اس بڑی عمر کے صاحب کو اس حد تک مثالی شوہر دکھایا گیا ہے کہ چند سال بعد جب انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کی منکوحہ کسی اور کو پسند کرتی تھیں تو وہ انہیں طلاق دے کر ان کی شادی ان کے پسندیدہ لڑکے سے کروا دیتے ہیں۔ کیونکہ پلاٹ کا یہ حصہ ڈرامے کے مرکزی خیال سے ہم آہنگ ہے اس لیے اس پر کوئی معترض نہیں ہوا۔

بعد ازاں یہ شادی لڑکے کی غیر ذمے داری کی وجہ سے بالآخر ختم ہوجاتی ہے اور وہ دوبارہ اپنے پہلے زبردستی کے شوہر سے شادی کرلیتی ہیں۔ ڈرامے کا پس پردہ یا کھلا پیغام یہ تھا کہ شادی ہمیشہ صرف والدین کی مرضی سے ہونی چاہیے اور استخارے کی حیثیت ان معاملات میں فیصلہ کن ہے۔ ڈرامہ یہ پیغام دینے میں کامیاب تھا کہ شادی میں لڑکی سے پوچھنا ایک بیکار سا عمل ہے جس کی والدین کی مرضی اور استخارے کے آگے کوئی حیثیت نہیں۔ کیا یہ پیغام ہماری دینی تعلیمات سے متصادم نہیں؟ اور ایسے ڈراموں سے دینی اقدار کو خطرہ نہیں؟ اگر ہے تو کیا ان کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے؟ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ ایسے ڈراموں میں زبردستی کے شوہر مثالی شوہروں سے بھی کچھ بڑھ کر ہوتے ہیں، جو امارت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ظرفی، متانت، بردباری کے بلند ترین معیارات کے حامل ہوتے ہیں؛ جبکہ حقیقی زندگی میں نہ تو زبردستی کی شادی کے شوہر اتنی نفیس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں جتنا ڈرامے میں دکھایا جاتا ہے، نہ ہی سسرال والے اتنے وسیع القلب واقع ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک اور ڈرامے میں دکھایا گیا کہ ایک مولوی صاحب اپنی بیماری کے دوران بیٹی کا رشتہ اس سے بغیر پوچھے مندرجہ بالا صفات کے حامل بڑی عمر کے ایک فرشتے سے طے کردیتے ہیں۔ ’’خود سر‘‘ اور ’’کم عمر‘‘ لڑکی جو اتفاق سے کسی کو پسند نہیں کرتی مگر اپنے حسن پر بہت نازاں ہوتی ہے، شادی سے پہلے اپنی ماں کو واضح طور پر بتادیتی ہے کہ وہ اس شادی پر راضی نہیں۔

یہاں تک کہ اپنے مثالی شوہر کو بھی شادی کی رات اپنے خیالات سے آگاہ کردیتی ہے۔ اگلی چند قسطوں میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ لڑکی مسلسل اپنے شوہر، سسرال والوں، گھر والوں، یہاں تک کہ بچوں تک کو بغیر کسی وجہ کے شدید تنگ کرتی ہے، جبکہ اس کے ارد گرد موجود لوگ، یہ سب کچھ برداشت کرتے ہوئے، بردباری کی تصویر بنے ہوتے ہیں۔ شوہر اس کے بے جا منفی رویّے کے باوجود شادی کی پہلی ہی رات (حسن اور معصومیت کی وجہ سے) اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ اپنے سسرال کے مالی معاملات کی ذمے داری بھی اٹھانے لگتا ہے، لیکن لڑکی شیطان صفت ہوتی ہے اور آخرکار دو بچوں کی موجودگی میں اپنی ماں کے بے حد سمجھانے بجھانے کے باوجود، چھوٹی سی بات کو بہانہ بنا کر طلاق کا مطالبہ کرتی ہے۔ طلاق کے بعد وہ اپنی ماں سے پہلا مطالبہ یہ کرتی ہے کہ میری شادی کروادیں، جسے سلجھی ہوئی نیک سیرت ماں بے غیرتی اور بے حیائی گردان کر مسترد کردیتی ہے۔ بالآخر ’’خود سر‘‘ لڑکی اپنی ایک دوست اور اس کے شوہر کی مدد سے ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکے سے شادی کرتی ہے جو پہلے شوہر جتنا اچھا ثابت نہیں ہوتا لیکن اب وہ اس کے ساتھ گزارا کرنے پر مجبور ہے۔ اس سے قطع نظر کہ لڑکی کتنی ’’خود سر‘‘ تھی اور اس نے اپنے گھر والوں اور سسرال والوں کو اپنی حرکتوں سے کتنا تنگ کیا، اس ڈرامے کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ اگر والدین چاہیں تو وہ بیٹی کی مرضی کے خلاف اس کی شادی کرسکتے ہیں اور لڑکیوں کو چپ چاپ آواز نکالے بغیر ایسی شادیوں کو نباہنا چاہیے۔

اسلام کے واضح قوانین کے باوجود ہمارا میڈیا بھی روایتی غیر اسلامی سوچ کو ہی پروان چڑھا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ میڈیا کی بے حیائی کے خلاف آواز اٹھانے والے دین پسند طبقات ڈراموں میں ایسے رویوں کے خلاف کبھی آواز اٹھاتے نظر نہیں آتے جو دین سے براہ راست متصادم ہیں، لیکن اگر مذاق میں کسی لڑکی کو شادی کے دن گھر سے بھاگتے ہوئے دکھا دیا جائے تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس موضوع پر بہت واضح احادیث موجود ہیں اور اگر کسی عالم سے دریافت کریں تو وہ بھی ایسی شادیوں کے حق میں فتویٰ نہیں دیں گے۔ مگر ایسے مواقع پر مذہب کے ٹھیکے داروں کو نہ دین کے احکامات یاد آتے ہیں نہ احادیث۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کلچر اور روایات کو دین سمجھ لیا گیا ہے اور ان ہی کو نافذ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر ستم ظریفی یہ ہے کہ معروف ماڈل اور اداکارہ وینا ملک نے بھی اپنے ٹویٹ میں اس اشتہار کو ’’فاسد‘‘ گردانتے ہوئے، کریم انتظامیہ سے فوراً اسے ہٹانے اور قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر اس ہورڈنگ بورڈ کے خلاف مہم چلنے کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ بورڈ ہٹا دیا گیا۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے سے غیر اسلامی رویوں کے خلاف جدوجہد کب شروع ہوگی؟ ہم کب ان عوامل پر غور کرنا شروع کریں گے جن کی وجہ سے شادی کے دن ایک لڑکی کو گھر سے بھاگنے کا غیر دانشمندانہ فیصلہ کرنا پڑے۔ اس سے بھی بڑھ کر، ہم معاشرے کی انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف کب جہاد شروع کریں گے؟

Comments

تزئین حسن

تزئین حسن

تزئین حسن ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں صحافت کی طالبہ ہیں، نارتھ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ مشرق وسطی کے اخبارات و جزائد کےلیے لکھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.