امتحانات اور مائیں - سعدیہ نعمان

امتحانات کے حوالے سے کل ماں کے عمومی رویہ کی بات ہوئ --اندازہ ہوا کہ ایک ہی جیسے مسائل کا ہم سب شکار ہیں --ماں کی پریشانی روک ٹوک سمجھانا بجھانا ڈانٹ ڈپٹ سب فطری ہے--گھر کے باقی کام نمٹانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم و تربیت پہ نظر رکھنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے ---بچوں کو تو خیر سمجھانے کا سلسلہ چلتا ہی رہے گا لیکن یہاں کچھ باتیں ہم ماوں کے سمجھنے کی ہیں
---
ہمارے اعتدال سے ھٹ کے جذباتی رویے بچے پہ مثبت کی بجائے منفی اثر ڈالتے ہیں. بے جا روک ٹوک انہیں بھی ضدی اور ھٹ دھرم بنا دیتی ہے . ہم خواہ زہنی تھکاوٹ کا شکار ہوں یا جسمانی . کسی بھی فوری ردعمل کے اظہار سے گریز کریں . نفس پہ قابو یعنی سیلف کنٹرول بہت اہم ہے . اعتدال اور میانہ روی سب سے بہتر اصول ہے . یہ اگرچہ بہت مشکل ہےاس میں بہت محنت پڑتی ہے خاص طور پہ جب بچے یا بچیاں میچور ہو رہے ہوں تو بہت احتیاط سے بات سمجھانا ہوتی ہے
آج کے دور میں ہمارے نوجوان بچوں کو بہت سے ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جو ہمارے دور میں نہ تھے ہم گھروں میں ایک سیدھی صاف زندگی گزارتے تھے اسٹاپو چھپن چھپائ اونچ نیچ برف پانی اور لڈو کیرم بورڈ جیسے کھیل کھیلتے تھے . آج کے بچوں پہ دنیا اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آشکار ہو چکی ہے ان کی کھیلیں ان کے شوق بدل چکے ہیں . وہ ذہنی طور پہ بلوغت کے کئ مراحل اپنی فطری عمر سے پہلے ہی طے کر چکے ہوتے ہیں. انہیں اسی ذہنی بلوغت ( میچورٹی maturity )کے ساتھ ھینڈل کرنا ہے . ان کے مسائل اور رویوں کو سمجھنا ہے . محبت کا احساس دلانے میں ہم پاکستانی مائیں کچھ کنجوس ہیں جبکہ محبت کی ہی فتح ہوتی ہے ہماری چیخ چنگھاڑ بعض اوقات بالکل بے اثر ہو جاتی ہے .

یہ بھی پڑھیں:   اف یہ لڑکیاں - زارا مظہر

ایک اہم بات یہ کہ پاکستان کے امتحانی نظام میں بہت خامیاں ہیں سسٹم میں بہت کچھ اصلاح طلب ہے . اس کمزور نظام کے زیر اثر اپنے بچوں کو نفسیاتی مریض ہرگز نہ بنائیں . میرٹ اور نمبروں کی دوڑ میں والدین کو بعض اوقات یہ اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ اپنے بچے کو اپنی سب سے قیمتی متاع کو کھو چکے ہیں . بس کچھ بھی ہو تمہیں ۹۰ فی صد سے زیادہ نمبر لینے ہیں . تم فلاں کو دیکھو کس طرح پڑھتی ہے یا پڑھتا ہے تمہیں کوئی خیال نہیں . کیسے ایڈمیش ہو گا . میرٹ دیکھو آسماں سے باتیں کر رہا ہے. کوئی کیریئر بن جائے گا تو آپ کی زندگی آسان ہو جائے گی وغیرہ . جیسے جملوں سے پرھیز کریں . اللہ الطیف ہے --باریک بیں اور باخبر ہے --الطیف کی تشریح میں سالوں پہلے پڑھی ہوئ ایک بات ابھی بھی یاد ہے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ بچہ بڑا ہو کے کیا بنے گا . پھر اسی رب سے رجوع کرنا چاہیے.
ہم اپنی کمزوریوں کا بوجھ بھی بعض اوقات بچوں پہ ڈال دیتے ہیں . اسلامی تاریخ میں کچھ ایسی ماوں کے تزکرے ملتے ہیں جنہوں نے تنہا اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش کی . انہیں جہاں حق اور سچ کے ساتھ جینا سکھایا محنت کا عادی بنایا وہیں ان کا ایک گر تہجد کی ادائیگی تھا .

وہ راتوں کو رب کے سامنے اپنے بچوں کے لئے گڑگڑاتی اور دعائیں کرتی تھیں اللہ ہمیں بھی توفیق دے . بچوں کو اور خود کو دنیا وی امتحان کے خوف سے آزاد کریں . اسے ایک نارمل پراسیس کے طور پہ لیں ---تاکہ بچے بھی زہنی طور پہ صحتمند رہ سکیں اور ہمیں وقتا فوقتا مختلف تکلیف دہ خبریں نہ سننی پڑیں. ایک ایسا معاشرہ جہاں تین سال کے معصوم اس نظام میں دھکیل دئے جاتے ہیں اور ایف ایس سی لیول تک وہ نمبروں گریڈز پوزیشنز ٹیوشن اکیڈیمیز انٹری ٹیسٹس کی لا حاصل میراتھن میں شریک رہتے ہیں ذہنی طور پہ تھک کے نکلتے ہیں تو ناقص نظام کا شکار ہو جاتے ہیں ایک جاب لیس نوجوان جو اپنے بنیادی عقائد اور دیں کا بھی درست علم نہیں رکھتا ( الا ماشااللہ ) پھر مایوسی اور بے عملی کے اندھے کنویں میں جا گرتا ہے . تو حاصل کیا ہوا . سوچئے ..لہذا صحت مند نوجوان اور صحت مند معاشرہ بنانے کے لئے ہمیں خود سے آغاز کرنا ہو گا اپنے رویوں پہ نظر ڈالنی ہو گی --ان زنجیروں سے خود کو آزاد کرا ئیں . یہ خود ساختہ بوجھ اتار پھینکیں . ہلکے پھالکے ہو کے ترجیحات سیٹ کریں کہ صرف بچوں کی دنیا نہیں بنانی ہمیں ان کی آخرت بھی سنو ارنی ہے ہم صرف ان کی دنیاوی تعلیم کے ذمہ دار نہیں ہیں انہیں ایک بہتر اور باعمل مسلمان بنانے کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے --کل یہی بچے ہم سے سوال کریں گے اور ہمارا گریبان پکڑیں گے کہ دنیا میں اعلی معیار اور اسٹیٹس کے لئے کیا کچھ نہ کیا اور جس راہ پہ چل کے دونوں جہاں سنورتے ہیں اس کے لئے کیا کیا- ؟؟
ربنا اتنا فی الدنیا حسنہ و فی الآخرہ حسنہ و قنا عذاب النار آمین

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.