ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود

سندھ میں ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کی حقیقت کیا ہے ، کیا یہ سب کچھ جبر کے تحت ہو رہا ہے؟

ہمارے سماج کا ایک بڑا المیہ پولرائزیشن ہے۔ جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے ہم اپنی اپنی عصبیتوں کے مطابق ایک پوزیشن لے لیتے ہیں اور اس کے بعد ہماری فکری صلاحیتیں اس عصبیت کے حق میں دلائل تلاش کرنے میں برباد ہو جاتی ہیں۔ تازہ معاملے پر بھی مورچے سنبھالے جا چکے ہیں۔ اب کسی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ حقیقت کیا ہے، ترجیح صرف یہ ہے اس چاند ماری کے اختتام پر میدان اس کے نام رہنا چاہیے۔

جبر اور اغواء کے امکان کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن لازم نہیں کہ ہر شادی میں جبر کا عنصر ہی شامل ہو۔ سماجی اور معاشی پہلو بھی کارفرما ہو سکتے ہیں اور دل کے بھی۔ رنکل کماری کا کیس دیکھ لیجیے۔ اس پر کتنا شور مچا تھا۔ لیکن رنکل کماری نے ماتحت عدالت میں بیان دیا کہ اس نے محبت کی شادی کی اور مرضی سے مسلمان ہوئی، اسے کسی نے اغواء نہیں کیا۔ پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آ پہنچا۔ جسٹس افتخار چودھری، جسٹس عارف خلجی اور اور جسٹس طارق پرویز اس کیس کو سن رہے تھے۔ انھی دنوں میں نے بھر چونڈی شریف کے گدی نشین میاں عبدالخالق المعروف میاں مٹھو صاحب کو اپنے ٹاک شو میں مدعو کیا۔ ان کا کہنا تھا لڑکی اگر سپریم کورٹ میں کہہ دے کہ اسے اغواء کیا گیا تو آپ بھرچونڈی شریف آ کر مجھے پکڑ لینا۔

پھر وہی ہوا۔ رنکل کماری نے سپریم کورٹ میں کہا اسے کسی نے اغواء نہیں کیا، وہ مرضی سے مسلمان ہوئی اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ سندھ کی ماتحت عدالتوں میں تو میاں مٹھو کا خوف ہوتا ہوگا لیکن سپریم کورٹ میں کھڑی رنکل کماری کو تو کوئی خوف نہ تھا کیونکہ اس کیس میں تو امریکہ بھی دلچسپی لے رہا تھا اور براڈ شرمن نے صدر پاکستان آصف زرداری کو اس ضمن میں ایک خط بھی لکھا تھا۔

رویتا میگھوار کا مقدمہ دیکھ لیجیے۔ اس مقدمے میں بھی جب بات ہائی کورٹ تک پہنچی تو سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بنچ حیدر آباد میں اس خاتون نے بھی یہی کہا کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ عدالت کے حکم پر جب اس لڑکی کو دارالامان بھیجا گیا تو وہاں اس کی ماں بھی اسے ملنے آئی۔اس نے بھی یقیناً اسے قائل کرنے کی کوشش کی ہوگی لیکن اس کا موقف وہی رہا۔

احباب سوال اٹھا رہے ہیں کہ نو عمر لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہوتی ہیں۔ یہ واقعاتی طور پر درست بات نہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ ہندو لڑکے بھی مسلمان ہوتے ہیں اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد ان لڑکوں کی شادیاں بھی مسلمان گھرانے میں ہوئیں۔ مذہب کی تبدیلی کا رجحان اگر بڑے بوڑھوں کی نسبت نوجوانوں میں زیادہ ہے تو اس کے بہت ساری سماجی اور معاشی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کا مطالعہ کیے بغیر اسے جبر کا عنوان دینا ایک غیر منطقی رویہ ہوگا۔

یہ پہلو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ ایسی شادیوں کے بعد دلہن کے ساتھ مسلمان گھرانوں میں کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر یہ شادیاں جبر سے کی جائیں تو احترام کا تعلق وجود میں نہیں آ سکتا۔ رنکل کماری کے مقدمے اور اس کی جزئیات سے میں چونکہ واقف ہوں تو مجھے علم ہے اس کی شادی کے بعد اسے جو عزت دی گئی، ایک مسلمان لڑکی سندھ کے دیہی معاشرے میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ بھرچونڈی شریف کے مزار میں کسی مسلمان عورت کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ لیکن رنکل کماری جب مسلمان ہوئی تو اس نے مزار کے اندر جانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ بھرچونڈی شریف کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کوئی عورت اندر گئی۔ لوگ حیران ہوئے تو متولی نے لوگوں کو سمجھایا کہ فریال بی بی نو مسلم خاتون ہے اور اس وقت یہ ہمارے لیے سیدوں سے بھی زیادہ قابل احترام ہے۔ ہم یہاں بیٹھ کر اندازہ نہیں کر سکتے لیکن مقامی روایات سے آگہی رکھنے والے جانتے ہیں یہ ایک غیر معمولی احترام تھا۔ جنہیں اغواء کیا جاتا ہے، انہیں یہ عزت نہیں دی جاتی۔

یہ شادیاں اگر جبر اور اغواء کا نتیجہ ہوں تو توہین، تذلیل اور ظلم ایسی شادیوں کا منطقی نتیجہ ہونا چاہیے۔ یہ محض ہوس کی جذبات میں کی گئی شادیاں ہوں تو لازم ہے مختصر دورانیے کے بعد معاملہ طلاق تک پہنچ جائے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ہر ماہ پچیس ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا جاتا ہے۔ کیا ہیومن رائٹس کمیشن ہماری رہنمائی فرمائے گا ان پچیس میں سے کتنی واپس بھاگ آتی ہیں؟ اگر یہ زبردستی تھی تو کبھی تو اس لڑکی کو بھاگ جانے کا موقع ملا ہی ہوگا۔ کیا وجہ ہے کہ طلاق کا کوئی واقعہ بھی سامنے نہیں آیا۔

مثالی صورت حال یہی ہوتی ہے کہ لڑکیاں باپ اور ماں کی دعاؤں کے سائے میں گھر سے رخصت ہوں لیکن جب ایسا نہ ہو سکے تو پھر قانون بہر حال لڑکی کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ شادی کر لے۔ یہ حق مسلمان لڑکی استعمال کرے تو لبرل حضرات اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی حق ایک ہندو لڑکی استعمال کرے تو اس کا ساتھ نہیں دیتے۔

بھرچونڈی شریف کا معاملہ بھی سمجھ لیجیے۔ یہ ایک قدیم درگاہ ہے اور باقی درگاہوں سے مختلف۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی، جو پہلے ایک سکھ تھے، اسی درگاہ پر آ کر مسلمان ہوئے تھے۔ اس نسبت سے غیر مسلموں کے قبول اسلام کے معاملے میں یہ لوگ بہت متحرک اور حساس رہتے ہیں۔ غیر مسلموں کو بھی اس حسا سیت کا علم ہے اسی لیے جب عمران خان نے میاں مٹھو کو تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی تو ہندو برادری نے احتجاج کیا۔

جبر کے امکانات کو بھی البتہ رد نہیں کیا جا سکتا، ایک معاشرے میں ہر برائی کا امکان موجود رہتا ہے اور سندھ کے دیہی معاشرے میں تو Patriarchal Opportunism کا خطرہ بھی موجود ہے اور کمسنی کی شادیوں کا بھی۔ ہر کیس کو اس کے میرٹ پر دیکھا جانا چاہیے۔ جبر اور ظلم ہوا ہو تو ظالم کو نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ اقلیتوں پر اسلامی ریاست میں ظلم ہوا تو روز قیامت ان کا مقدمہ آقا ﷺ خود لڑیں گے۔ اقلیتوں کا تحفظ ہماری مذہبی ذمہ داری بھی ہے، اخلاقی بھی اور آئینی بھی۔ نیوزی لینڈ کے سماج کے رویوں کے بعد ہم پر یہ ایک قرض بھی ہے۔ لیکن محض برائے وزن بیت اپنے سماج کو لعن طعن شروع کر دینا بھی ایک قابل تحسین عمل نہیں۔ توازن ہی بہترین راستہ ہوتا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.