لبرل ازم، حقیقت یا سراب- حافظ محمد ادریس

لبرل ازم اور سیکولرازم کے علم بردار ساری دنیا میں پورے زور وشور کے ساتھ اپنی مہم چلارہے ہیں۔ لبرل ازم اور سیکولرازم کو روشن خیالی‘ ترقی اور آزادی کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے‘ مگر یہ اصل میں ہے کیا؟ اس سے بہت سے لوگ بالکل بے خبر ہیں۔ لبرلز اس قدر تنگ نظر موقف کے حامل ہیں کہ غیرلبرلز کو گولی تک مار دینے کا اعلان کرتے ہوئے بھی انہیں ذرا شرم نہیں آتی۔لبرل ازم ایک سیاسی واخلاقی فلسفہ ہے‘ جس کی بنیادآزادی اور مساوات پر رکھی گئی ہے۔ لبرل عمومی طور پر شہری حقوق‘ جمہوریت‘ سیکولرازم‘ جنسی ونسلی مساوات‘ عالمگیریت‘ اظہار رائے کے حق‘ پریس کی آزادی‘ مذہب کے معاملے میں آزادی اور آزاد منڈی(تجارت) کے علم بردار ہیں۔
اس تعریف کو پیش نظر رکھتے ہوئے یورپ جو لبرل ازم کا دعوے دارہے ‘ کے شب وروز کو دیکھا جائے تو یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ یہ نام نہاد تہذیب منافقت کے سوا کچھ نہیں۔

یورپ اور امریکہ کے کم وبیش ہر ملک میں مسلمان آبادی کے ساتھ جو امتیازی سلوک اور نفرت کے رویے اپنائے گئے ہیں‘ وہ اب بدترین قسم کی تشددپسندی کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ کسی خاتون کو پورا حجاب تو کیا سکارف تک استعمال کرنے کی یہ تہذیب روادار نہیں۔ تہذیب کے نام نہاد پردے میں تشدد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ ایک مسلمان خاتون مروہ شیربینی کو جرمنی میں عدالت کے اندر اس کے میاں اور معصوم بچے کے سامنے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا؛ اگر ایسا کوئی واقعہ کسی مسلمان ملک میں کسی یورپی شہری کے ساتھ پیش آتا‘ تو دنیا میں ایک بھونچال آجاتا‘ مگر اس واقعہ پر درندہ صفت مغرب میں کوئی بڑا ردّعمل سامنے نہ آیا۔ یہ دوغلا پن کہاں کا لبرل ازم اور کہاں کا سیکولرازم ہے؟ علامہ اقبال کے الفاظ میں:؎
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن‘ اندروں چنگیز سے تاریک تر

مشرقی دنیا کے جن ممالک نے سیکولرازم کے نام پر ہر شخص کو شخصی آزادی دینے کا دعویٰ کیا ان کا عمل بھی ان مغربی آقاؤں سے مختلف نہیں‘ بلکہ اس سے سخت تر ہے۔ ہم اس موضوع پر بطور نمونہ دو ملکوںکا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں‘ جن میں سے ایک مسلمان ہے اور ایک غیرمسلم۔ مسلمان ملک جس نے سیکولرازم کے نام پر گزشتہ صدی کے پہلے ربع میں اپنا دستور ترتیب دیا‘ ترکی ہے۔ دوسرا ملک جس نے انگریزوں کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے بعد خود کو سیکولر ریاست کے طور پر متعارف کرایا‘ بھارت ہے۔ بھارت میں گائے کے گوشت کے استعمال پر پابندی ہے۔ اس کے علاوہ گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کیلئے حکومت سے خصوصی اجازت نامے کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس قسم کے قوانین کی وجہ سے بھارت کے مسلمان‘ عیسائی اور دَلت کسان مسائل کا شکار رہتے ہیں۔

مودی حکومت کے قیام کے بعد سے ان نام نہاد سرکاری قوانین کی بنیاد پر بھارت کے انتہاپسند ہندو مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کرتے ہوئے قوانین کو ہاتھ میں لینے لگے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں نجی طور پر قائم نام نہاد امن کمیٹیوں کے ارکان مسلمانوں یا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو محض گائے ذبح کرنے کے شبے پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور بسااوقات قتل بھی کردیتے‘ لیکن قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور سرکاری حکام کی جانب سے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاتی‘ بلکہ اس کے برعکس بڑی سیاسی پارٹیاں خصوصاً بھارتیہ جنتا پارٹی‘ اکالی دَل اور شیوسینا وغیرہ اپنے کارکنان کو ترغیب دیتے ہیں کہ ایسے کاموںمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔ اس کے علاوہ بہت سے سرکاری افسران بھی مسلح ہندو گروہوں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

اگرچہ مودی حکومت کے قیام سے قبل بھی گائے کے گوشت یا نقل وحرکت کی بنیاد پر تنازعات کھڑے ہوتے تھے‘ لیکن ۲۰۱۴ء میں مودی حکومت کے قیام کے بعد سے دسمبر۲۰۱۸ء کے دوران بھارت میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے یا گائے کو ذبح کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں متشدد ہندوؤں کے ہاتھوں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مثال کے طور پر:٭ مودی حکومت کے قیام کے بعد پہلے ۴سال میں ہندوؤں کے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ۵۷پرتشدد واقعات میں ۲۸۸ افراد قتل یا زخمی ہوئے۔٭ محض سال ۲۰۱۷ء میں ۳۷پرتشدد واقعات نے جنم لیا‘ جس کے نتیجے میں گیارہ مسلمان شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ یہ ان پرتشدد واقعات کے اعدادوشمار میں جو بھارت کے ترقی یافتہ اور عالمی میڈیا کی رسائی کے حامل علاقوں میں وقوع پذیر ہوئے ہیں‘ جبکہ دوردراز پسماندہ علاقے جہاں عالمی میڈیا کی رسائی نہیں‘ وہاں کی صورتِ حال اور بھی تشویشناک ہے۔ ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات ایک المناک داستان ہیں۔ یہ فسادات موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی سرپرستی میں وقوع پذیر ہوئے ‘جو اس دوران گجرات کا وزیراعلیٰ تھا۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۸فروری۲۰۰۲ء کو گجرات میں ہونیوالے مسلمانوں کے قتلِ عام کے دوران کم وبیش ایک ہزار مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ اس دوران مسلمانوں کے ۲۰ہزار گھر اور کاروباری اداروں کے علاوہ ۳۶۰مساجد شہید کی گئیں۔ ان فسادات کے نتیجے میں کل ایک لاکھ ۵۰ہزار افراد بے گھر ہوئے۔

سویڈن کے ادارے (Centre for Study of Society and Secularism) کی جانب سے اقلیتوں اور انسانی حقوق پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سال۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۶ء کے دوران بھارت میں ہندو بلوائیوں کی جانب سے اقلیتوں خصوصاً مسلمان آبادی پر ۴۱۴۱ حملے کیے گئے ‘جن میں ۵۹۵ افراد مارے گئے‘ جبکہ اس دوران زخمیوں کی تعداد ۱۲ہزار ۷۴۱ رہی۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق ۴۱۴۱ حملوں میں مسلمان سب سے بڑا نشانہ بنے‘ جبکہ دیگر اقلیتوں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں نہایت کم رہی۔ مثال کے طور پر ۲۰۱۶ء کے دوران رپورٹ کیے گئے اقلیتی آبادیوں پر حملوں کے دوران ۸ہزار اموات میں سے ۷ہزار اموات مسلمانوں کی تھیں‘ جبکہ اس دوران ایک ہندو گھر کے مقابلے میں ۶۷مسلمان گھروں پر حملے کیے گئے۔ بعد کے برسوں میں حملوں کی تعداد اور قتل وغارت گری میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔
لبرل ازم کے بطن سے نکلنے والے نظریات میں سے سیکولرازم سب سے زیادہ اہم اور قابل ذکر ہے۔

اس کی بنیاد پر خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کے بعد ترکی کو ایک سیکولر ریاست میں ڈھال دیا گیا۔ یہ کیسا سیکولرازم تھا‘ جس نے مسلمانوں سے ان کے اکثریتی ملک میں آزادیٔ مذہب چھین لی؟ اذان عربی میں نہیں دی جاسکتی تھی‘ خواتین کے حجاب پر پابندی‘ حج وعمرے کی ممانعت اور دینی تعلیمی اداروں کی بندش! لبرل ازم کی تعریف میں اوپر جو کچھ کہا گیا ہے‘ اس کے مطابق یہ طرزِ عمل شیطانی حربے کے سوا کیا کہلا سکتا ہے۔ سیکولرازم کے اسی دور میں عدنان مندریس ۱۹۵۰ء میں ترکی کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انہوں نے سیکولرازم میں دی گئی آزادی کی روشنی میں عربی میں اذان پر پابندی‘ حج اور عمرے پر قدغن وغیرہ کو ختم کردیا۔ اس پر ملک کا نام نہاد سیکولر طبقہ بالخصوص فوج انتہائی سیخ پا ہوئی۔ جنرل جمال گرسل نے ان کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ۲۷مئی۱۹۶۰ء کوانہیں پھانسی لگادیا۔

ترکی میں بار بار لگنے والے مارشل لاؤں کی اصل وجہ وہاں کا اسلام دشمن سیکولرازم ہی قرار پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اسلامی سوچ کے حامل نجم الدین اربکان ۱۹۹۶ء میں مخلوط حکومت میں ترکی کے وزیراعظم منتخب ہوگئے‘ لیکن سیکولرقوتوں نے انھیں ایک سال بعد ہی اقتدار سے باہر کردیا۔ ۲۰۰۲ء میں ایک منتخب اسلامسٹ خاتون مروہ قہوجی کو محض اس لیے پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم ہونا پڑا کہ اس نے سکارف اتار کر ہاؤس کے اندر جانے سے انکار کردیا تھا۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد؛ اگرچہ دستور میں ترمیم تو نہیں ہوسکی‘ مگر حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ موجودہ صدر رجب طیب اردوان ہر عالمی اسلامی ایشو پر مسلمانوں کی صحیح نمائندگی کررہے ہیں۔ پارلیمان میں اس وقت ۲۲خواتین سکارف کے ساتھ موجود ہیں۔ صدر مملکت کی اہلیہ امینہ اردوان پوری طرح پردے میں ہوتی ہیں۔واضح رہے کہ عرب علما کے نزدیک خاتون سارا جسم ڈھانپ لے اور چہرہ ننگا رکھے تو اس کا جواز ہے۔

سیکولرازم اور لبرل ازم کا آج بڑا غوغا ہے۔ ان موضوعات پر مسلم وغیرمسلم سکالرز نے کافی کچھ لکھا ہے۔ مغربی دنیا میں مختلف ذرائع ابلاغ کا اپنا اپنا دائرہ کار ہے۔ فاروقی صاحب نے اس مضمون کی تیاری میں لندن سے نکلنے والے مشہور ہفت روزہ دی اکانومسٹ سے استفادہ کیا ہے اور اس پر اپنا تنقیدی نقطۂ نظر بھی پیش کیا ہے۔ یہ علمی موضوع ہے‘ مگر اسے عام فہم اردو زبان میں منتقل کرنے کا کام موصوف نے بہت اچھی طرح سے پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے۔