تائید تازہ - امجد اسلام امجد

یوں تو ہر برس ہی 23 مارچ کے ساتھ بہت سی خوبصورت یادیں تازہ ہو جاتی ہیں کہ آج سے 79 برس قبل اسی روز ایسی قرارداد پیش کی گئی تھی جس نے اس برصغیر کی شکل اور قسمت دونوں کو بدل کر رکھ دیا اور جس کے نتیجے میں وہ ملک معرض وجود میں آیا جو آج ہمارا وطن ہی نہیں ہماری شان اور پہچان بھی ہے۔ اس حوالے سے مجھے بہت سے پروگراموں میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے لیکن اس بار ایک بہت مثبت اور اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی کہ ہر پلیٹ فارم پر یادِ ماضی کی اس تائید تازہ کے ساتھ ساتھ آج کی نوجوان اور آنے والی نسلوں کی بات بھی کی گئی۔

میڈیا کے بے جہت پروپیگنڈے اور نصابی کتابوں میں تحریک پاکستان اس کی ضرورت اور اس کے مختلف مراحل کو جس غیر ذمے داری اور بے احتیاطی سے پیش کیاجاتا ہے اس کے نتیجے میں آج کا نوجوان نہ اسے سمجھ پاتا ہے اور نہ ہی سمجھنے کا شوق رکھتا ہے۔ ایک طرف بعض دینی مدارس کی تعلیم اور فکر ہے جس کے متاثرین سوال کرنے اور سمجھنے کی کوشش کے بجائے اپنے باپ سمان استاد کو قتل کردیتے ہیں اور دوسری طرف سوشل میڈیا کی افواہ نما خبروں اور بے مہار تصورِ آزادی کے وہ پروردہ ہیں جنھیں اپنے جسم سے آگے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ سارا معاشرہ عمومی طور پر انھیں دو حدوں کے حصار میں ہے اورکوئی نہیں جو ان کناروں کو ملانے کے لیے وہ پل تعمیر کرے جس میں ماضی حال اور مستقبل ایک ہی لڑی کے دانے بن جائیں۔

عام طور پر اس پل کی عدم موجودگی کی ذمے داری ہماری زمینی، ملی اور قومی تاریخ کے شارحین پر ڈالی جاتی ہے کہ جن کی پھیلائی ہوئی کچھ غلط اور مشکوک اطلاعات کی وجہ سے نوجوان نسل کا اعتباراس صحیح اور مصدقہ تاریخ سے بھی اٹھ گیا ہے جس کا وہ خود بھی حصہ ہے۔

وہ سوشل میڈیا پر لگائی مولانا ابوالکلام آزاد کی ایسی نام نہاد تقریر اور تحریر پر تو بھروسہ کر لیتے ہیں کہ جس میں پاکستان کی ایک علاحدہ وطن بننے کی مخالفت میں کچھ ایسے دلائل دیے گئے ہیں جو بظاہر بعد میں پیش آنے والے واقعات سے کلی یا جزوی مطابقت رکھتے ہیں مگر برصغیر میں برٹش راج کے بعد پیدا ہونے والے ان نئے نئے رشتوں اور تقاضوں پر ایک سرسری سی نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتے جن کی وجہ سے صدیوں سے ایک ساتھ ہنسی خوشی رہنے والوں کے لیے مل کر رہنا مشکل بلکہ ناممکن ہو گیا تھا اور یہ کہ وہ سب لوگ بھی اسی کانگریس جماعت سے تعلق رکھتے تھے جن کے مولانا آزاد تمام عمر ہم آواز رہے اور جن کی مخالفت اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنے تحفظ کے لیے 23 مارچ 1940ء کو اپنے لیے ایک علیحدہ ملک اور تقسیم ہندوستان کا بظاہر مشکل اور ایک حوالے سے ناخوشگوار فیصلہ کرنا پڑا۔

ایک خاص انداز سے پھیلائی ہوئی خبروں سے بظاہر یوں لگتا ہے جیسے قائداعظم محمدعلی جناح ایک ضدی اور خود پرست انسان تھے جو تقسیم سے کم سودے پر راضی ہی نہیں ہوتے تھے اس لیے مجبوراً کانگریسی لیڈروں کو اس پر راضی ہونا پڑا اور یہ کہ یہ سب کچھ برٹش گورنمنٹ کے ایما، سازش اور امداد کے سبب ہوا جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس قرارداد کی منظوری کے سات سال بعد اور قیام پاکستان سے پانچ ماہ قبل قائداعظم ایسی ہر مائنس پاکستان تجویز کے لیے تیار تھے جس میں برصغیر کے مسلمانوں کو وہ تحفظات اور حقوق حاصل ہوں اور عددی اکثریت کی بنا پر ان سے وہ ناانصافیاں نہ کی جاسکیں جو اس وقت کے تصور جمہوریت میں موجود اور رائج تھیں۔ اور رہی بات انگریز کی حمایت یا سازش کی تو اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کے ریڈکلف ایوارڈ کی شکل میں جاتے جاتے اس نے ایک ایسا کام دکھایا جس کے منفی اثرات سے ہم آج تک باہر نہیں آ سکے۔

اب چونکہ یہ دن ان آرزوئوں اور حوصلوں سے عبارت ہے اس لیے اس تاریخی تشریح اور مغالطوں کی مزید اصلاح کو کسی اور وقت پر چھوڑتے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم نے بطور قوم اپنے اس عہد کو کس حد تک اور کس طرح سے نبھایا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ان حالات اور رویوں کو سمجھا جائے کہ جن سے گزشتہ آٹھ دہائیوں میں ہمارے جیسے صدیوں کی غلامی سے نئے نئے آزاد ہونے والے نیم جاہل اور ترقی کی دوڑ میں انتہائی پیچھے رہ گئے تیسری دنیا کے بیشترممالک گزرے ہیں۔

دوعظیم جنگوں کے باعث انگریز کو ہندوستان سمیت اپنی کئی نوآبادیوں سے اچانک نکلنا تو پڑا مگر دیکھا جائے تو یہاں کے لوگ ابھی ذہنی، معاشی اور سیاسی کسی بھی حوالے سے اس ذمے داری کو نبھانے کے لیے تیار نہیں تھے جب کہ برصغیر کی حد تک مسلمان قوم عمومی طور پر ہندو اکثریت سے بھی کہیں پیچھے تھی اس پر ستم یہ ہوا کہ نہ صرف دس لاکھ انسان غیر متوقع اور خوفناک فسادات کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے اور ان میں سے ایک بہت بڑی تعداد ہجرت کے عمل میں جان ومال اور عزت و آبرو سے بھی محروم ہوئی بلکہ انگریز کی غیر منصفانہ تقسیم کے علاوہ بھارت نے کئی ایسے علاقوں پر بھی کسی نہ کسی بہانے سے قبضہ کرلیا جن میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور مزید ستم یہ ہوا کہ قائداعظم محمدعلی جناح جو اس صورتحال کو سنبھالنے کی سب سے زیادہ اہلیت رکھتے تھے وہ ایک طویل بیماری کے بعد آزادی کے پہلے ہی سال کے اختتام پر ہم سے جدا ہو گئے اوریوں جو خلاء اور تضادات پیدا ہوئے ان کی کوکھ سے کوئی دوسرا رہنما پیدا ہونے کے بجائے اپنے اپنے مفادات کے حامل مختلف طبقات کا ایک ایسا گٹھ جوڑ شروع ہوا جو گروہ در گروہ پیچیدہ تر ہوتا چلا گیا اور یوں وہ مثبت اور ایمانی طاقت جو آزادی کی بنیاد اور حاصل بنی تھی اس طرح سے قائم نہ رہ سکی جو اس کا حق تھا۔ اس طرزعمل کا سب سے نقصان دہ پہلو یہ تھا کہ ان مفاد پرست عناصر نے نہ تو نوجوان نسل کی تربیت کی اور نہ ہی انھیں آگے بڑھنے کا راستہ دیا جب کہ دوسری طرف دنیا تیزی سے نئے افکار اور ہمہ جہت ترقی کے نئے رستوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ دیکھا جائے تو قرارداد پاکستان سے لے کر اب تک ہمیں سب سے زیادہ نقصان اسی رویے کی وجہ سے پہنچا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ اس کی طرف کسی نے ِسرے سے توجہ ہی نہ دی ہو مگر عملاً نہ تو مطلوبہ تبدیلی عمل میں آ سکی اور نہ ہی نوجوان نسل کو وہ نمائندگی اور شراکت مل سکی جو اس کا حق تھا۔

سو اس بار کے 23 مارچ کی سب سے خوش آئیند بات تو یہی ہے کہ اب اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور نوجوان نسل کو قومی دھارے میں اس کا صحیح مقام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو بلاشبہ ایک بہت اہم اور مستحسن عمل ہے۔ اس موقع پر مجھے اپنی نوجوانی کے زمانے کی لکھی ہوئی ایک قومی نظم کی یہ لائنیں تائیدِ تازہ کے طور پر پیش کرنے میں بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ:


مرے وطن مری ہستی کا منتہا تو ہے

مرے خیال کی ندرت، تیری جبیں تک ہے

میں مشتِ خاک سہی، تیرے کارواں کی ہوں

میرے فلک کی بلندی تیری زمیں تک ہے

میں تیری خاک کی آواز بن کے اٹھا ہوں

مری زباں میں اثر دے کہ میری موجِ صدا

دل و نظر میں تمنا کے پھول مہکائے

مری صدا میرے اہل وطن کی بن جائے

میں سیلِ شوق کا آغاز بن کے اٹھا ہوں

مرے وطن میں تیری خواہشوں کا سایا ہوں

میں ایک شاعرِ گمنام ہوں میرے بس میں

مرا وجود تھا سو آج لے کے آیا ہوں

مرے لہو کی سلامی قبول کرلینا

یہ جنسِ خام سہی، رزق پائے باد سہی

مگر یہ دیکھ کہ کس آرزو سے لایا
/poetry]