نیوزی لینڈ میں کیا اور پاکستان میں کیا ہو رہا ہے! انصار عباسی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دہشت گردی کرنے والا آسٹریلوی شہری ضرور گمنام ہی رہے گا مگر جن پچاس مسلمانوں کو شہید کیا گیا، وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ دہشت گرد مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا لیکن اس دہشت گردی کے واقعہ کے بعد اسلام کا جس طرح نیوزی لینڈ کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک میں تعارف ہو رہا ہے، اُس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

کوئی سوچ سکتا تھا کہ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی ہوگی، اُس ملک کی خاتون وزیراعظم السلام علیکم کہہ کر پارلیمنٹ میں اپنا خطاب شروع کرے گی، دوپٹہ اوڑھے گی، غیر مسلم شہری وہاں کی مساجد میں مسلمانوں کو نماز پڑھتا دیکھنے کے لیے آ رہے ہوں گے، اذان جس کے لیے کئی غیر مسلم اور مغربی ممالک میں لائوڈ اسپیکر کی اجازت نہ تھی، وہاں چوکوں اور چوراہوں میں غیر مسلموں کے ہجوم اذان سننے کے لیے کھڑے دکھائی دیتے ہوں گے؟ نیوزی لینڈ کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ آئندہ جمعہ کے روز نمازِ جمعہ کی اذان سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہِ راست نشر کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ملک کی خواتین مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر جمعہ کے روز اسکارف پہنیں گی۔ یہ وہی اسکارف ہے جس پر چند مغربی ممالک میں پابندی تک لگائی گئی، کئی ممالک میں بسنے والی مسلمان خواتین کے اسکارف کو نوچا گیا اور اُنہیں ہراساں کیا گیا بلکہ ایک اہم مغربی ملک کی عدالت میں تو ایک مسلمان خاتون کو اسلامی لباس پہننے پر شہید بھی کر دیا گیا تھا۔

داڑھی جس کو مسلمانوں کے لیے 9/11کے بعد دہشت گردی اور شدت پسندی کے ساتھ ایسے جوڑ دیا گیا کہ مسلمان ممالک میں بھی داڑھی والوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا رہا، اب دو داڑھی والے پاکستانی نژاد نعیم رشید اور اُن کے جواں سال بیٹے جو اس دہشت گردی کے واقعہ میں شہید ہوئے، کو دنیا بھر کا میڈیا ہیرو کے طور پر پیش کر رہا ہے کیونکہ ان دونوں باپ بیٹے نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے دہشتگرد حملہ آور پر قابو پانے کی کوشش میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ اس سانحہ کے بعد شہید نعیم رشید کی بیوہ کا جو انٹرویو لیا گیا اُس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا کہ یہ کیسی خاتون ہے جس کا شوہر اور جواں سال بیٹا اُس سے چھن گئے لیکن اس پردہ دار مسلمان خاتون کے صبر کا یہ حال ہے کہ اپنے پیاروں کی شہادت پر کسی سے کوئی گلہ نہیں کر رہی بلکہ کہتی ہے کہ اُسے ترس آ رہا ہے اُس دہشت گرد اور قاتل پر، جس نے نفرت کی بنا پر اتنا بڑا جرم کر دیا۔ یہ خاتون مسکرا کر انٹرویو دیتے ہوئے اپنے شہید خاوند اور شہید بیٹے کی انسانیت سے محبت اور بہادری پر فخر کرتی ہے۔ ایک انٹرویو میں خاتون صحافی نے اس مسلمان خاتون سے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے شوہر اور بیٹے کو کھونے کے بعد بھی اتنی پُراعتماد ہے اور صبر کے ساتھ بات کر رہی ہے تو اُس مومن خاتون نے کہا کہ اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ صرف اور صرف میرا عقیدہ اور ایمان ہے۔ انٹرویو لینے والی خاتون کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ کسی بھی وقت رو پڑے گی۔ گویا دہشت گرد نے جو سوچا تھا اُس کا بالکل الٹ ہو رہا ہے۔ اسلام کا نیوزی لینڈ کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک میں ایک ایسا تعارف ہو رہا ہے جس کے لیے وہاں پہلے رستے بند تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مصر سے مکہ اور کشمیر تک - محمد رضی الاسلام ندوی

یہ سب دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے لیکن جب ہم اپنے گھر یعنی اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان کو دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ ہم مسلمان ہو کر بھی کیا کر رہے ہیں اور جو کر رہے ہیں وہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ اسے دیکھ کر کوئی غیر مسلم متاثر تو کیا ہو گا بلکہ الٹا ہم پر ہنسے گا۔ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کا جب واقعہ پیش آیا اور پچاس مسلمان جن میں 9پاکستانی بھی شامل تھے، شہید ہوئے تو اُس وقت پاکستان میں PSL کے آخری میچ ہو رہے تھے۔ اس واقعہ کے اگلے روز کراچی کرکٹ اسٹیڈیم میں میچ شروع ہونے سے قبل گرائونڈ میں مدمقابل دونوں ٹیمیں اکٹھی ہوئیں اور مغرب کی اندھی تقلید میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ ہمارے مسلمان بھائی، بہنیں جو نیوزی لینڈ میں شہید ہوئے اُن کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بجائے ایک منٹ کی خاموشی ایسے اختیار کی گئی جیسے ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ایسے مواقع پر اسلام ہمیں کیا سکھاتا ہے۔ سانحہ نیوزی لینڈ کے تیسرے دن جب دنیا اس دہشت گردی کے واقعہ پر ابھی سوگ منا رہی تھی، ہم نے کراچی میں فائنل میچ سے پہلے خوب ناچ گانا کیا اور یہ سب کچھ اُس وقت بھی جاری رہا جب اسٹیڈیم کے اردگرد مساجد میں مغرب کی نماز کے لیے اذان دی جا رہی تھی، وہی اذان جسے مغرب میں بسنے والے غیر مسلم آج کل خاموشی کے ساتھ سن رہے ہیں۔ اس پر نہ PCBکے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا اور نہ کسی دوسرے ذمہ دار سے پوچھ گچھ ہوئی۔

ابھی 8مارچ کو منعقد ہونے والےحد سے بڑھے ہوئے آزادی مارچ مظاہرے کی گرد نہ بیٹھی تھی کہ ملک کے مختلف شہروں میں ایک پرائیویٹ کار اور موٹر سائیکل سروس مہیا کرنے والی کمپنی نے دیوہیکل بل بورڈز لگائے جن میں ایک دلہن کو اشارہ کرتے دکھایا گیا اور اشتہار میں لکھا تھا ’’اپنی شادی سے بھاگنا ہو تو ... بائیک کرو‘‘۔ اس پر سوشل میڈیا پہ شور اٹھا جس کے نتیجہ میں متعلقہ کمپنی نے یہ بیہودہ اشتہار اتروا دیے لیکن اس معاملہ پر بھی حکومت اور متعلقہ اداروں نے کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے پاکستانی نعیم رشید کی بیوہ کے انٹرویو کی بہت تعریف کی، جو خوش آئند بات ہے لیکن میری خان صاحب سے درخواست ہو گی کہ وہ ذرا پاکستان جسے وہ ریاستِ مدینہ کی طرز پر چلانا چاہتے ہیں، کے معاملات کو دیکھیں اور اس قوم کو اسلام کی تعلیمات سکھائیں تاکہ ہم اچھے انسان اور اچھے مسلمان پیدا کریں نہ کہ آدھے تیتر اور آدھے بٹیر۔