23 مارچ، ایک تاثر - نورین تبسم

1995ء میں ایک برطانوی مصّنفہ کے تاثرات پڑھے جو ظاہر ہے تلخ تو لگے پر حقیقت پر مبنی بھی دِکھتے تھے۔ اُس نے کہا تھا "ایک وقت تھا جب یہ قوم(مسلمان) ایک ملک کی تلاش میں تھی، آج یہ ملک (پاکستان) ایک قوم کی تلاش میں ہے"۔

ہمارا اس بات پر کامل یقین ہے کہ پیارا ملک پاکستان ہم سب کے لیے اللہ کی خاص رحمت ہے۔ یہ جذباتی جملہ ہرگز نہیں۔ 1947ء سے تاریخ اُٹھا کر دیکھی جائے، ہمیں یعنی عوام اور ہمارے پاکستان پر کون سے ستم نہیں ڈھائے گئے۔ اشرافیہ اور باہر کی دنیا کے چالباز جواریوں نے ہماری کس کس مقام پر نہیں لوٹا۔ جس کا جہاں داؤ لگا، وہ اس تاج و تخت کو تاراج کر کے ہی گیا اور گیا بھی تو اس وجہ سے نہیں کہ ہم نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بھگا دیا بلکہ یا تو اس کا وقت پورا ہو گیا تھا یا قدرت نے اس مال غنیمت میں اس کا اتنا ہی حصہ مقرر کیا تھا۔ بہرحال جو بھی آیا اپنی خوشی سے واپس نہیں گیا۔

یہ لوٹنے والوں کے منہ پرایک طمانچہ ہے اور ہمارے لیےاللہ کی طرف رُجوع کرنےاوراپنے قول وفعل سے شُکر گُزاری کا اظہار کرنے کا ایک موقع ہے۔یہ تو اُن شیطانی قوتوں کا احوال تھا جنہوں نے ہمارے سروں پر مسلّط ہونے کی کوشش کی اور رب کے کرم سے ہم ہر بار ایک نئے عزم سے اُن کے مکروفریب سے جان چُھڑا پائے۔

اب کچھ ذکر ناگہانی آفات کا بھی ہو جائے۔ہماری آزمائشوں کا سلسلہ یوں جاری رہا کہ کبھی زمین کی گہرائیاں اورآسمان کی وسعتیں تنگ ہو گئیں، شہر کے شہر اُجڑ گئے۔ کبھی ہمارے اپنے تخلیق کردہ لوازماتِ زندگی کے اثرات آگ لگا گئے۔۔۔تو کبھی بدترین زمینی اور فضائی حادثات نے سیکنڈوں میں قیمتی زندگیاں صفحۂ ہستی سے مٹا ڈالیں۔کیا کچھ نہیں ہوا ہم عوام کے ساتھ اور ہمارے وطن پاکستان کے ساتھ۔۔۔ہمارے عظیم مُحسنوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو یا قومی اداروں پر دُشمن کے ناپاک حملے۔ اور تو اور جو یہ سب کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے وہ دوستی کا خوشنما لبادہ پہن کر "ثقافت کے نام پرہماری اخلاقیات اور تہذیب کو تباہ وبرباد کرنے کے درپے ہوئے۔ یہ سب ہماری نظروں کے سامنے اور ڈنکے کی چوٹ پر ہوتا رہا اور یہی لوگ تھے جو ہمیں بُزدلی اور بےغیرتی کے طعنے دیتے رہے اور قیام ِپاکستان کے جواز کو بھی مسترد کرنے سے نہیں ہچکچائے۔ وقت کے فرعون تاریخ بنانے کے غرور میں تاریخ بدلنے پر تُل گئے۔قائدِ اعظم کی ذات میں کیا کچھ خامیاں نہیں کھوجی گئیں ہوا یوں کہ ہم چُپ چاپ سہتے چلے گئے تو اُن کے حوصلے بڑھتے گئے۔نشانے خطا ہونے لگے تو ان کے پاس کچھ باقی نہیں بچا سوائے اپنی گھسی پٹی چالیں دُہرانے کو۔

یہ بھی پڑھیں:   بدل جاتی ہیں تقدیریں، لیکن … رسول بخش رئیس

اب ہم جان گئے ہیں "پاکستان ہمارا ہے اور ہم ہی اس کے رکھوالے ہیں"۔ پاکستان بچانے کے جھانسے میں نہیں آنا یہ سب، دُکان داری چمکانے کی باتیں ہیں۔ دل ودماغ کشادہ کرنا ہے کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا۔جو جس راستے پر ہے جانے دو پراپنا قطب نما ساتھ رکھو۔ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور اللہ سے ہی مدد مانگنا ہے- اتحاد میں طاقت اور کامیابی ہے ایک اکیلا جتنا بھی مخلص ہو اپنی ہمت سے بڑھ کر بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔اپنی عقل سے کام لے کر اُس کا ساتھ دینا ہے جو نظریے کی بات کرے۔۔۔ ملکی وقار اور خود مختاری کو مقدّم جانے۔۔۔ ذاتیات سے بلند ہو کر اُصولوں کو فوقیت دے۔

یاد رہے کسی آزمائے ہوئے کو ہرگز نہیں آزمانا۔ ہمارا دین بھی کہتا ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا۔ اتنے سالوں اَن جانے میں لُٹتے رہے، وعدوں پر اعتبار ہمیشہ کرتے چلے گئے اور وعدے کبھی وفا نہ ہوئے۔ اور اعتبار اب بھی کرنا پڑے گا کہ میدان خالی نہیں چھوڑنا۔ جہاں تک ہو سکے اپنے حصے کا کام کرنا ہے اُس چڑیا کی طرح جس نے آتش ِنمرود میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ عزم بلند اور حوصلہ جوان رکھنا ہے۔ ہمارا وطن ہمارا گھر ہے اور ہم نے ہی اس کو سنوارنا ہے۔ کوئی بھی انسان فرشتہ یا جن نہیں ہو سکتا کہ کبھی غلطی نہ کرے یا پہلے سے کی گئی غلطیوں کی لمحوں میں تلافی کر سکے. جب تک ہم خود سمجھ داری سے کام لیتے رہیں گے کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

اگر ہمیں تحفظات ہیں، خاموش تماشائی بننے میں ہی عافیت جان رہے ہیں تو پھر آئندہ بھی چُپ چاپ اپنا تماشا دیکھتے جانا ہے۔یہ ہم سے ہوتا نہیں کہ ہم فقط بھڑاس نکالنا جانتے ہیں،کبھی نہیں مانتے کہ جب کرنے کا وقت تھا تو ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہے۔ہمارے ملکی، غیرملکی، معاشی، معاشرتی، اخلاقی، انفرادی، اجتماعی خانگی، جذباتی، روحانی، اور دینی مسائل اور مصائب کی وجہ صرف اور صرف ایک ہےکہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو ذبح کیا جا رہا ہے۔ ہم صرف اس ایک کہانی سے سبق سیکھ لیں تو اُمید ہے کہ شاید سکھ کی کچھ سانسیں نصیب ہو جائیں۔باقی رب کی رضا ہے جسے سکون نہیں ملنا اسے قارون کا خزانہ بھی سکون نہیں دے سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   بدل جاتی ہیں تقدیریں، لیکن … رسول بخش رئیس

آخری بات
ہم بحیثیت قوم اپنے ملک کی تلاش میں ہیں،اس کو دور جا کر ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم نےدُور کی نظر کے چشمے لگائے ہیں، کم عقل لوگ نہیں جانتے کہ نزدیک کی نظر بھی کم زورہو سکتی ہے۔ ہم خود ہی اپنے آپ کو بد قسمتی کی بند گلی میں دھکیل رہے ہیں۔اب بھی آنکھ کُھل جائے تو وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہ ملک اللہ کی امانت ہے۔۔۔اس کا تُحفہ ہے۔۔۔اُس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا کا ثمر ہے۔اور اللہ ہمارا سب سے بڑا سہارا ہے۔

ہمارے پیارےوطن پاکستان کی بنیاد ایک نظریے پر رکھی گئی تھی اور نظریہ ہی اس کی پہچان ہے۔یہ پہچان جس نے ختم کرنے کی کوشش کی وہ خود ہی نیست ونابود ہو گیا۔نظریۂ پاکستان کو اولّیت دینے میں ہی ہماری بقا ہے۔
" پاکستان زندہ باد نظریۂ پاکستان پائندہ باد"

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.