حقیقت کے قریب - مدثر مہدی

سوال مشکل ترین تھا مگر اس کا جواب ڈھونڈنا ناگزیر تھا۔ وہ گھر، گاؤں، کشور کو الوداع کہہ کر جواب کی تلاش میں نکل پڑا۔ وہ اپنے گاو ں کا سب سے دولت مند و ذہین آدمی تھا اس کی بے حساب دولت کی بنا پر سب ہی اسے ”شیخ“ کے لقب سے مخاطب کرتے۔ شیخ اس دنیا کی سب سے مضبوط شے کی کھوج میں نکلا تھا اس سوال نے اس کی راتوں کی نیند اور دن کا چین چھین لیا تھا۔ بالآخر شیخ ماں باپ، بیوی، بچوں، دوستوں، گھر بار، کاروبار سمیت تمام تر مصروفیات چھوڑ کر فقط اپنی مطلوبہ منزل کی خاطر بہت دور آ پہنچا تھا۔

دنیا کی سب سے مضبوط شے کیاہے؟ جواب دریافت کرنے کے لیے ”بابا جی“ کی جانب سے ایک ماہ کی مدت معین تھی۔ شیخ پانچ سال سے متواتر اپنے کام کاج نمٹاکر ”باباجی“ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا فیض پانے کی لگن کچھ سیکھنے کی سعی روزانہ اسے ”باباجی“ کی کٹیا میں کھینچ لاتی۔ شیخ کو وہ دن اچھی طرح یاد تھا جب اس کی پہلی ملاقات خدا کے اس دوست ”بابافرید“ سے ہوئی۔ شیخ پیسوں کے لین دین پر دوستوں سے جھگڑ کر گھر لوٹ رہاتھا کہ اچانک ایک جھونپڑی اسے آواز آئی، ”بچے مجھے سہارا دو“۔ شیخ بھاگتا دوڑتا جھونپڑی کی طرف بڑھا۔ شیخ نے بابا جی کا بازو تھام کر انہیں اٹھنے میں مدد دی۔ باباجی نے کھڑے ہوکر اسے بیٹھنے کا حکم دیا البتہ خود شیخ کے لیے پانی کا اہتمام کرنے کے بعد واپس اپنی جگہ پر آبیٹھے۔ شیخ نے”باباجی“ سے دریافت کیا آپ نے بس مجھے پانی پلانے کی غرض سے پکاراتھا؟ باباجی نے ہلکا سا مسکرا کر کہا، ”لالچ انسان کی بھوک بڑھا کر اسے اندھا کر دیتی ہے“۔ شیخ حیران کن اور جواب طلب نظروں سے باباجی کو دیکھنے لگا۔ شیخ اس سوچ میں مبتلا ہوگیا، ”باباجی“ کو اس کی پیاس، دوستوں کے ساتھ پیسوں کے تنازع کا کیسے علم ہوگیا جب کہ وہ تو وہاں موجود ہی نہ تھے۔ باباجی کی باتیں سن کر شیخ کو سکون، آرام، آسائش، راحت، قرار مل رہا تھا وہ پانچ سال سے ہر روز اسی قرار کے حصول کے لیے ان کے در پر چلا آتا۔

ایک دن باباجی نے شیخ سے پوچھا اس کائنات میں سب سے مضبوط چیز کیا ہے؟ شیخ نے نفی میں سر ہلا دیا تب باباجی نے فرمایا، ”یہ آج تمہارا پہلا ہوم ورک ہے۔ ایک مہینے میں اس کا جواب ڈھونڈ لاؤ“۔ اسی دن شیخ نے گھر چھوڑنے اور جواب ڈھونڈنے کی ٹھان لی۔ شیخ نے پہلے بیس دن میں دیہاتوں کی خاک چھانی، شہروں کی دھول کھائی مگر کہیں سے روشنی کی امید نظر نہ آئی۔ شیخ ملک کی مٹی میں رل کر گم ہوگیا ہاں مگر اس کی پیاس نہ بجھی، اس نے ندی کی شفافیت، دریا کے شور، سمندر کے سکوت، پہاڑکی پختگی وبلندی کے آگے بھی اپنا سوال رکھا مگر اسے سب ہی بے بس نظرآئے۔ اس نے گلیوں، محلوں، بازاروں، محفلوں، مجلسوں، جلسوںمیں موجود سب ہی لوگوں سے بھی پوچھاجواب میں کسی نے پانی تو کسی نے آگ کہیں سے سمندر تو کہیں سے پہاڑ جواب ملا البتہ کوئی جواب شیخ کی بے سکونی کو تسکین نہ بخش سکا اور نہ ہی کوئی اس کی تھکاوٹ، پریشانی، مشکل دور کرسکا۔ شیخ نے گزشتہ بیس روز سے نہ صرف کھا نا پینا، نیند، آرام کم کر دیا بلکہ اتنا کھانا کھاتا جو اس کو چلنے میں مدد دے سکے، نیند اتنی لیتا جو اس کی تھکاوٹ دور کر سکے۔

بیس دن کی کڑی محنت کے بعد اکیسویں روز شیخ نے جنگل کی جانب رخ کیا۔ جنگل میں شیخ کا سامنا زہریلے سانپوں، خطرناک جانوروں سے بھی ہوا مگر وہ بچتا بچاتا جنگلی درختوں کی لکڑیوں کے بنے ایک گھر کے پاس آپہنچا یہ گھر دو کمروں پر مشتمل تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اسے ایک بڑھیا نظر آئی جو مٹی کے بنے پتیلے کو آگ پر چڑھا رہی تھی۔ شیخ نے بڑھیا سے سلام عرض کیا۔ پہلے تو بڑھیا اسے دیکھ کر گھبرا گئی جب اس نے اپنی حقیقت بیان کی تب بڑھیا نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے اسے بیٹھنے کا کہا۔ بڑھیا نے شیخ کی خدمت میں جنگلی بو ٹیوں کا بنا قہوہ پیش کیا یقینا وہ پہلی بار ایسے قہوے سے مستفید ہو رہا تھا۔ بوڑھی عورت نے اسے بتایا کہ آج جمعرات ہے وہ اپنے قبیلے سمیت ہر جمعرات کے دن اپنے قبیلے کے سردار کو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ دو سال سے مخالف قبیلے کی زیر حراست ہے۔ بڑھاپے کی ماری اس عورت نے مزید بتایا کہ یہ جنگل دو حصوں میں تقسیم ہے اس زمین کے آدھے علاقے پران کا قبضہ ہے جب کہ آدھے حصے پر مخالفین کا راج ہے۔

بڑھیا کے قبیلے کا نام ”تاب“ اس کے بر عکس دشمن قبیلے کا نام ”طغیان“ تھا۔ ”تاب“ قبیلہ اپنے نام کی طرح امن پسند تو تھا ہی مگر نیکی کی عظیم مثال بھی تھا۔ اسی طرح ”طغیان“ قبیلہ اپنے نام کی طرح ظالم، سرکش، فسادی تھا۔ اس عورت نے بتایا کہ ”تابی“ جماعت کا سردار کئی بار ”طغیانی“ جماعت کو صلح کی پیشکش کر چکا ہے لیکن وہ لوگ ”تابیوں“ کے خاتمے و خونریزی کے بعد اس جنگل میں اپنی اکلوتی حکومت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ عورت کی بات ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ باہر سے شور شرابے کی آوازیں آنے لگیں۔ بڑھیا ہلکا سا مسکرا کر باہر کی جانب چل پڑی شیخ بھی اس کے پیچھے چل دیاشیخ نے دیکھا باہر درجنوں کی تعداد میں لوگ جمع تھے اب وہ عورت ان لوگوں کے عین سامنے آکھڑی ہوئی۔ شیخ نے بڑھیا سے دریافت کیا یہ لوگ کون ہیں اور یہاں کیوں آئے ہیں؟ وہ تمام لوگ کوئی ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے بوڑھی عورت کے آتے ہی خاموش ہوکر ادب سے جھک گئے۔ بڑھیا نے بتایا یہ میرا قبیلہ ہے اور میں اس قبیلے کے سردار کی بیوی ہوں جو فی الوقت گرفتار ہے۔ بڑھیا نے اپنے قبیلے کو شیخ سے متعارف کروایا یہ بھی بتایا کہ ہمارا مہمان ہے منزل کی تلاش میں یہاں آن پہنچا ہے۔ قبیلہ طغیان کے پاس ”تابیوں“ کے مقا بلے افراد و ہتھیار کی وسیع تعداد موجود تھی جس کے سبب وہ لگاتار دو سال سے اپنے سردار کو بازیاب کرانے میں ناکام ہو رہے تھے۔ میں بھی آپ کے ساتھ آنا چاہتا ہوں شاید کسی کام آسکوںشیخ بڑھیا سے مخاطب ہوا بڑھیا نے نرم لہجے میں منع کرتے ہوئے کہا یہ ”تاب“ قبیلے کی روایات و شان کے خلاف ہے۔ اس قبیلے کے ہوتے ہوئے اس کے مہمان کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہہ سکتا۔ آپ ہماری واپسی تک ہمارے حق میں دعا کریں اس بار مجھے یقین ہے ہم اپنے سردار کو لے کر ہی آئیں گے۔ یہ کہہ کر بڑھیا اپنے قبیلے سمیت چل پڑی اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ چند لمحوں ہی میں وہ اپنے ساتھیوں سمیت شیخ کی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

ان کے جانے کے بعد شیخ ان کی جیت کی دعا مانگتا رہا۔ وقت شام سے رات میں ڈھل گیا لیکن بڑھیا اور اس کے گروہ میں سے کسی کی خبر نہ آئی۔ شیخ شدید پریشانی و اضطراب میں رہا آدھی رات کے قریب یکایک صدائیں آنے لگیں۔ شیخ بے قراری، بدحواسی کی حالت میں بڑھیاکے مکان سے باہر نکلا۔ ہاں یہ تو بڑھیا ہی کے قبیلے کے لوگ تھے جو خوشی میں جھومتے، بھاگتے، دوڑتے چلے آرہے تھے۔ شیخ اب بھی پریشان تھا، اس کو کہیں بھی بوڑھی عورت دکھائی نہیں دے رہی تھی وہ بے چینی سے ہجوم میں بڑھیا کو ڈھونڈ رہا تھاکہ ا چانک بڑھیا مسکراتی ہنستی اس کے سامنے آگئی لیکن اس بار وہ اکیلی نہیںتھی اس کا سردار بھی اس کے ساتھ تھا۔ سردار کی بڑی بڑی داڑھی، گھنے سیاہ بال، توانا، تنومند جسم اور چہرے پر تبسم تھا۔ عورت نے سردار کو شیخ کے بارے میںبتایا نیز اس کے یہاں آنے کا مقصد بھی بیان کیا۔

سردار نے شیخ کا ہاتھ تھام کرچلنا شروع کردیا۔ ہر جانب جشن کا سماں تھا گروہ کا ہر فرد اس خوشی کے مزے لے رہاتھا۔ سردار نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش ہوجانے کا حکم دیا ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ سردار نے کچھ لوگوں کو نام سے پکارا وہ جس جس فرد کا نام لیتا وہ اس کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہو جاتا۔ یہ سب ہی لوگ جو سامنے آ کھڑے ہوئے معتبر، دانا، سمجھ بوجھ رکھنے والے لگ رہے تھے۔ جب وہ سامنے آکھڑے ہوئے تب سردار شیخ سے مخاطب ہوا تم جانتے ہو ان لوگوں نے دوسال میری آزادی کے لیے جنگ لڑی۔ آج یہ کامیاب ہو گئے تم ان کی کامرانی کی وجہ جانتے ہو؟ ان کی فتح یابی کی وجہ ہی تمہارا جواب ہے۔ میرے گروہ کی فتح مندی کی وجہ ان کا مضبوط ارادہ تھا۔ گروہ ”طغیان“ کے پائیدار ہتھیار، توانا و قوی افراد بھی میرے چھوٹے گروہ کے پختہ ارادے کے سامنے مجھے بے بس، مجبور، لاچار نظر آئے۔ ہاں دنیا کی سب سے مضبوط ترین شے ارادہ ہے جو انسان کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیتاہے۔ شیخ نے اپنا جواب پالیا تھا وہ منزل حاصل کر چکا تھا اس کے دل میں اب راحت تھی اس کی پیاس مٹ چکی تھی۔