خاندانی نظام، شیطان کا پہلا نشانہ - فضل ہادی حسن

ابلیس جب رجیم قرار پایا تب اللہ کے ساتھ اس کا مکالمہ قرآن نے مختلف جگہوں پر مختلف الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

سورہ اعراف کا مضمون اس طرح ہے ”تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جبکہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟'' بولا: ''میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے۔'' فرمایا: ”اچھا، تو یہاں سے نیچے اُتر۔ تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے۔ نکل جا کہ درحقیقت تُو اُن لوگوں میں سے ہے جو اپنی ذلّت چاہتے ہیں۔'' بولا: ”مجھے اُ س دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔'' فرمایا: ''تجھے مہلت ہے۔'' بولا: ”اچھا تو جس طرح تُو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے، میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائےگا۔“ فرمایا: ”نِکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا۔ یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تُجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا"۔ (سورہ اعراف، 12-18)

مہلت ملی تو گھات لگانے بیٹھ گیا، کہیں انفرادی سطح پر تو کہیں اجتماعی سطح پر۔ قرآن کے مطابق وہ مختلف جگہوں سے حملہ آور ہو رہا ہے، لیکن کچھ کاموں پر اسے بے حد خوشی بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک کیفیت کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔
"ابلیس پانی یعنی سمندر پر اپنا تخت بچھاتا ہے اور اپنے لشکر لوگوں میں فساد کی غرض سے بھیجتا ہے۔ پس اس کے لشکروں میں اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جس نے سب سے بڑا فتنہ برپا کیا ہو۔ اس کے بھیجے ہوئے چیلوں میں سے ایک آ کر اسے اطلاع دیتا ہے کہ میں فلاں کے پیچھے لگا ہی رہا یہاں تک کہ اس نے یہ یہ بکواس کر ڈالی۔ تو ابلیس اسے کہتا ہے، اللہ کی قسم، تو نے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اس کا ایک چیلہ آ کر اسے اطلاع دیتا ہے کہ میں نے اس شخص کو اس حال میں چھوڑا کہ اس کے اور اس کی بیوی کے مابین جدائی ڈلوا دی تو ابلیس اپنے اس چیلے کو اپنے قریب کرتا ہے اور اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے اور کہتا ہے: کیا خوب کام ہے۔" (صحیح مسلم، جابر بن عبداللہ)

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی عورت کے مسائل - قرةالعین خان

اب یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تنازعہ اور تفریق پر شیطان خوشی کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ انسان کو ناحق مارنے سمیت دیگر بڑے جرائم سے ہٹ کر اس تنازعہ پر اتنی خوشی کیوں؟ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں پھر قرآن کی طرف جانا پڑے گا۔ ارشاد باری تعالی ہے:
"اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیاطین سلیمان ؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان ؑ نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیا طین تھے جو لوگو ں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے۔ اور پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں ، ھاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی ، حالانکہ وہ ﴿فرشتے﴾ جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے ، تو پہلے صاف طور پر متنبہّ کر دیا کرتے تھے کہ 'دیکھ ، ہم محض ایک آزمائش ہیں ، تُوکفر میں مبتلا نہ ہو' پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جُدائی ڈال دیں" (البقرہ، 102)

اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ اس دور کی سوسائٹی میں یہ ایک مشغلہ بن گیا تھا کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی اور افتراق پیدا کیا جائے، ازدواجی تعلق کو نشانہ بنایا جائے، اگر ایک طرف یہ مانگ کسی کی بیوی کے حصول کی خاطر تھی تو دوسری طرف کسی کی خوشیاں آنکھوں میں کھٹک کر حسد کی آگ میں بدل جاتی تھیں۔ زمانے کی بات ہوتی ہے، اگر اس دور میں کسی تعویذ، جادو اور ٹوٹکے کے ذریعہ اخلاقی زوال عروج پر تھا تو ہمارا یہ دور پرانے طریقوں کے علاوہ خواتین کو درپیش عائلی، معاشرتی اور سماجی مسائل کو اجاگر کرنے کے نام پر، اس دور میں اگر خاتون کا حصول یا خوشی برداشت کرنے کی ہمت نہ تھی تو اس دور میں ان امور کے علاوہ خاندانی نظام کو بگاڑنا، ازدواجی زندگی کو متاثر کرنا۔ شیطان کا 'ہدف' ایک ہی ہے، بس طریقہ کار اور زمانہ کے لحاظ سے ترجیحات بدل جاتے ہیں۔ اسی آیت میں دو فرشتوں کا نزول اور ان سے سیکھنے کے عمل اور پس منظر کو آپ عصرِ حاضر کی خواتین کے حقوق کو اُجاگر کرنے اور سُلجھانے پر منطبق کر سکتے ہیں، یہ تو آپ بتا سکیں گے کہ اس سے مسائل سلجھے یا مزید اُلجھے؟ خاتون کو استحکام اور تحفظ ملا یا عدمِ تحفظ کے ساتھ اس کے مزید استحصال کا سبب بن رہا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی عورت کے مسائل - قرةالعین خان

یہ معاملہ (ازدواجی تعلق) جہاں انفرادی ہے وہاں اجتماعی بھی ہے، بلکہ اس کے بُرے اثرات معاشرہ اور سماج پر براہِ راست پڑتے ہیں۔ انسانی تاریخ و تمدن میں مضبوط ازدواجی زندگی کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ جہاں میاں بیوی کی اچھی دوستی و رشتہ سے پورے معاشرہ پر اچھے اثرات ہوں گے وہاں ازدواجی زندگی کے کمزور ہونے سے معاشرے میں اخلاقی و سماجی خرابی کا خدشہ ہے۔ نیز یہ اسلام کے مضبوط اور گہرے خاندانی نظام کی جڑیں ہلنے بلکہ انھیں کاٹنے کا نقطہ آغاز سمجھنا چاہیے۔ بلاشبہ لڑائی جھگڑے کا آغاز میاں بیوی سے ہوتا ہے لیکن فوراً پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بچوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں جس سے بچوں میں شادی سے پہلے ہی یہ سوچ پیدا ہوجاتی ہے کہ اگر ہمیں ان کا حالات کا سامنا کرنا پڑا تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ بہتر ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق و خلع کے معاملات اور مسائل ابھی سے جاننے کی کوشش کی جائے۔

یہاں یہ بات ملحوظ نظر رکھنا چاہیے کہ ہمارا معاشرتی، سماجی اور بالخصوص مشرقی کلچر کے مسائل کو اسلام سے نتھی نہیں کرنا چاہیے بلکہ خواتین کے لیے اسلام میں ان کے حقوق سے لاعلمی کو دور کرنا ہوگا۔ یہی لاعلمی دراصل ہماری خواتین کے لیے کئی طرح کے مسائل کا سبب بن گئی ہے۔ بعض مسائل طلاق اور خلع کے معاملات سے بےخبری کا شاخسانہ ہوتے ہیں تو بعض گھر کے اندر تصفیہ طلب ہوتے ہیں۔ کمزور عدالتی نظام بھی ایک ایسی رکاوٹ ہے جس نے ایک طرف "نامردوں" کو مرد بنا دیا ہے تو دوسری طرف دانستہ طور پر عورتوں کو شتر بےمہار، یہ الگ تفصیل طلب موضوع ہے۔ جس پر پھر کبھی بات ہوگی، ان شاءاللہ۔

شیطان اور اس کے دوست، سب سے پہلے خاندان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ بناوٹی سنگھار، دلفریب ادائیں اور پُر فریب نعروں کے ساتھ انسانی جسم و دماغ پر سوار ہو کر خاندان سے لے کر معاشرہ کو کھوکھلا کر دینا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ میرے رب نے درست فرمایا ہے: "اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانون اور شیطان جِنوں کو ہر نبی کا دُشمن بنایا ہے جو ایک دُوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں، اگر تمہارے رب کی مشیَّت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے۔" (سورہ انعام 112)

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.