"گمشدہ مرشد ویلنٹائن" - محمد فاروق بھٹی

ترقی کے نام پر "ہم" باہم شیر و شکر اور "کو" ہو چکے ہیں۔ شادی بیاہ کی طویل ترین رسومات نے بھی "کو" کر دیا ہے۔ سکول، کالجز، یونیورسٹیز، دفاتر بھی "کو" ہوئے ہیں، لباس خوراک بھی، بازار، منڈی اور مارکیٹ بھی۔

سہیلی جیسے "پسماندہ" لفظ کی جگہ "یار یار اور دوست" نے لے لی ہے جو عموماً مذکر موؑنث کی قید سے آزاد ہی ہوتا ہے۔ چچا زاد بھائی، ماموں زاد بھائی، خالہ زاد بھائی کی جگہ "کزن" آ گیا ہے۔ صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ تعارف کے ساتھ عام مردوں سے ہاتھ ملا لینا بھی عام سی بات ہو گئی ہے، بلکہ "مینرز" میں شامل ہو گیا ہے۔ بڈھے پروفیسرز، ٹیوٹرز، باسز اپنی شاگردوں اور سیکرٹریوں سے پہلے عشق اور پھر بیاہ رچانے لگے ہیں۔ رشتوں کی ساری تقدیس رُل گئی ہے 😥

سوشل میڈیا پر ناواقف مرد و خواتین باہم "فرینڈز" بن رہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ روشن خیال شرمین نے اپنی بہن کے معاملے میں اجنبی فیس بک فرینڈ ریکوسٹ کو "ہراسمنٹ" سمجھ لیا تھا۔ "جینڈر بائسڈ" ہونا غیر اخلاقی اور "ایلجیبیٹی" پسند ہونا معیار اخلاق ٹھہرا ہے۔ اور ان نئی "روشن اخلاقی قدروں" کو اختیار نہ کرنے والے تنگ نظر، گھٹیا ذہنیت، مولوی، ان پڑھ اور پسماندہ کے القابات کے لیے تیار رہیں۔

چودہ فروری کے سیلاب میں نہ بہنے والے اور خاندانی روایات کی گھاس پکڑے یا دینی حمیت کا کھمبا پکڑے جم کر کھڑے ہیں اور سیلابی طغیانی ہے کہ ان کے پاوؑں اکھاڑے دیتی ہے۔ گھاس سے ہاتھ سلپ ہو کر کھمبے تک پہنچتا ہے تو اس طوفانِ بدتمیزی کا لطف لینے والے خشمگین نگاہوں سے ان لُڑھکتے پناہ گزینوں کو دیکھ کر "تنگ نظر، گھٹیا، گندی ذہنیت، مولوی، پینڈو" کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں واٹس ایپ اور مسنجر گروپس، فیسبک، ویب سائٹس سمیت سارا سوشل میڈیا چیخ چیخ کر "گھٹیا" کے ٹائٹل اچھالتے ہیں اور یہ "مزاحم لوگ" دبک کر، سہم کر "نٙکو" بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور اگر ایسے میں کسی فیصل آبادی وائس چانسلر کی معصومانہ خواہش سامنے آ جائے تو ہمارا منہ زور روشن خیال طبقہ اور "کُپی کباب گروپ" اس بیچارے کا مذاق اڑانے میں دیر نہیں لگاتا۔ بلاگز لکھے جاتے ہیں اور کالمز کی بھر مار کر دی جاتی ہے۔ بہن بھائی ویلنٹائن یا بہنلٹائن ڈے کی اصطلاح سامنے آتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جب سے سینٹ ویلنٹائن کا دن پاکستان پہنچا ہے، یہاں کے روشن خیالوں کو ان کا "گمشدہ مرشد" مل گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   نرم روی، اسلامی تعلیمات کیا ہیں - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

رہ گئی بات چودہ فروری کو حیاء ڈے یا 8 مارچ کو حجاب ڈے منانے کی بات کرنے والے لوگ، تو ان لوگوں کا معاملہ کچھ اور ہے۔ اُن کو تو ان کے مرشد سید مودودی نے کہا تھا۔
"یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اتری ہے۔ نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اتری ہے۔ ہوا کے رُخ پر اُڑنے والوں، خس و خاشاک اور پانی کے بہاوؑ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اُتری ہے۔ یہ اُن بہادر شیروں کے لیے اُتری ہے جو ہوا کا رخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں۔ جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاوؑ کو پھیر دینے کی ہمت رکھتے ہوں۔ جو صبغت اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتے ہوں اور اِسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ مسلمان جس کا نام ہے وہ دریا کے بہاوؑ پر بہنے کے لیے پیدا ہی نہیں کیا گیا ہے۔ اُس کی آفرینش کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ زندگی کے دریا کو اُس راستے پر روانہ کر دے جو اُس کے ایمان و اعتقاد میں راہِ راست ہے، صراطِ مستقیم ہے۔ اگر دریا نے رُخ اس راستہ سے پھیر دیا ہے تو اسلام کے دعویٰ میں وہ شخص جھوٹا ہے جو اس بدلے ہوئے رخ پر بہنے کے لیے راضی ہو جائے۔ حقیقت میں جو سچا مسلمان ہے وہ اس غلط رٙو دریا کی رفتار سے لڑے گا۔ اُس کا رخ پھیرنے کی کوشش میں اپنی پوری قوت صرف کر دے گا۔ کامیابی و ناکامی کی اس کو قطعاً پروا نہ ہو گی۔ وہ ہر اُس نقصان کو گوارا کر لے گا جو اس لڑائی میں پہنچے یا پہنچ سکتا ہو حتیٰ کہ اگر دریا کی روانی سے لڑتے لڑتے اس کے بازو ٹوٹ جائیں، اُس کے جوڑ بند ڈھیلے ہو جائیں اور پانی کی موجیں اُسے نیم جان کر کے کسی کنارے پر پھینک دیں، تب بھی اس کی روح ہرگز شکست نہ کھائے گی۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے دل میں اپنی اُس ظاہری ناکامی پر افسوس یا دریا کی رٙو پر بہنے والوں کی کامرانیوں پر رشک کا جذبہ راہ نہ پائے گا۔"