نیوزی لینڈ کا افسوسناک واقعہ، سوچنے کی سات باتیں - یوسف سراج

نیوزی لینڈ کا واقعہ افسوسناک ترین معاملہ ہے، مسلمانوں کا خصوصا اور دنیا بھر میں انسانوں کا درد رکھنے والوں کا دل عموما دکھ سے بھر گیا ہے۔ اس مرحلے پر چند چیزیں اب سوچنے کی ہیں۔

1- یہ بات اب دنیا کو زیادہ سمجھ آ سکتی ہے یا سمجھائی جا سکتی ہے کہ دنیا میں ہونے والے چند لوگوں کے فعل کو پوری قوم یا ان کے مذہب سے جوڑنا سراسر زیادتی ہوتی ہے، کوئی قوم اپنے چند افراد کے فعل کی ذمے دار نہیں ہوتی۔ ایسا کرنا نری زیادتی اور نا انصافی ہوتی ہے اور اب تک یہ زیادتی اور نا انصافی سب سے زیادہ مسلمانوں کے ساتھ روا رکھی گئی۔

2- اگرچہ قاتل کا اطمینان، سفاکی اور اتنی دیر تک سیکیورٹی اداروں کی عدمِ مداخلت کئی سوالوں کو جنم دیتی ہے، مگر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا لہجہ ،لفظ اور تاثر تینوں ذمے دارانہ رویے کے مظہر تھے، انھوں نے اس سانحہ کو اپنی تاریخ کا سیاہ ترین دن کہا، بغیر لگی لپٹی رکھے صاف طور پر اسے دہشت گردی کا واقعہ کہا،اور خصوصا تارکین وطن کے درد کو محسوس کرتے ہوئے، نیوزی لینڈ کو تارکینِ وطن کا اپنا گھر کہا۔ ایسے موقعے پر ایسے الفاظ تارکین وطن کیخلاف ابلتے مشتعل لاوے کو دبا دینے کا کام دیتے ہیں۔ایسے موقعے پر ایک مدبر ذمے دار کا یہی رویہ ہوتا ہے، وزیراعظم نے یہی انداز اپنایا، اس پر ان کی تحسین۔

3_ اس موقع پر نیوزی لینڈ کے ایک سینیٹر نے بدترین تعصب کا اظہار کیا۔ مسلمانوں کو ، ان کے مذہب کو ایسے ہی کام کا محرک اور انھیں ایسے ہی انجام کا مستحق قرار دیا،یہ بدترین اور شدت پسندانہ سوچ تھی،قطع نظر اس کی مذمت کے، اس فعل سے اندازہ کیا جا سکتا ہے،کہ آدمی مشرقی ہو یا مغربی ، اِدھر کے نصاب تعلیم کا فیض یافتہ ہو یا ادھر کے نظامِ تعلیم کا پروردہ، جہل اور تعصب کسی نصاب کی میراث نہیں ہوتے، بطور گھٹیا انسان یہ کہیں بھی اور کسی میں بھی پھل پھول سکتے ہیں، اس پر بھی کسی ایک نسل کو مطعون کرنا ناانصافی ہے۔ ہاں البتہ مجموعی طور پر نیوزی لینڈ کے عوام کا رویہ ہمدرادانہ تھا، انھوں کے اس سفاکی پر مظلوموں کا ساتھ دیا۔ انھیں پھول پیش کیے، وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایمریٹس کے طیارے کے قریب آسمانی بجلی گرنے کا منظر

4- یہ بھی واضح ہوا کہ ضروری نہیں کہ دیارِ غیر میں جا بسنے والے بے دین ، غدار یا بزدل ہی ہو گئے ہوں۔ نیوزی لینڈ میں اسقدر خوبصورت مسجد، جمعے کا ایسا اجتماع، اتنے بڑے واقعے کے بعد اسی مسجد میں سڑک پر نمازِ مغرب کی ادائیگی کے لیے اتنے لوگوں کی شرکت اور پھر ایک پاکستانی کے ظلم کے خلاف جان ہانے جیسے معاملات سے کئی چیزوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یعنی سب کچھ رونے کو ہی نہیں، بہت کچھ مطمئن کر دینے والا بھی ہے۔

5- یہ ماننے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ مسلمان ملکوں میں سماجی و معاشی ضروریات و سہولیات کی فراہمی کے مواقع اور انصاف کی شدید قلت ہے، جس کے باعث مجبورا یہ پنچھی ایسے رزق کی تلاش میں بیگانی منڈیروں پہ جا بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ جب تک آپ اپنے ممالک میں بہتری نہیں لاتے ، آپ باشندگانِ وطن اور تارکین وطن کے درد میں مبتلا ہو کے بھی ان کا صحیح فائدہ نہیں کر سکتے۔

6- یہ بات ماننے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ یہ ایک منظم اور منصوبہ بندی سے کی گئی دہشتگردی کی واردات تھی، اسلحہ پر لکھے نعرے اس خوفناک حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ نفرت میں مسلمانوں کی طرف سے ہی کچھ لوگ حد سے نہیں بڑھ جاتے ،جوابا معاملہ بھی ایسا ہی بلکہ کچھ بڑھا ہوا ہی ہے۔ ان کے نصاب میں خلافت پڑھائی نہیں جاتی کہ وہ خلافت کے خلاف نعرے نصاب سے سیکھ آئے، نہ ایک فرد خصوصا مغربی باشندہ ایسا دور دراز کا ذہنی سفر کر سکتا ہے، اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں برین واشنگ کے لیے پورا اہتمام ہوتا ہے، جس کے ثمرات پھر ایسے نکلتے ہیں۔ البتہ وہ ممالک طاقتور ہیں، ان پر الزام لگانا دنیا کو دشوار لگتا ہے۔

7- اس موقع کو دنیا کے کچھ لوگوں نے اور ہمارے ہاں کے بعض انسانیت کا دم بھرنے والوں نے ایک بار پھر نسل پرستانہ اور مذہبی تنفر کے طور پر لیا، ٹرمپ نے اسے دہشتگردی کہنے سے گریز کیا۔ میڈیا ایسے سفاک اور منظم دہشتگردی میں ملوث شخص کو ذہنی مریض کہتا رہا، حالانکہ یہی شخص اگر بدقسمتی سے کوئی مسلمان ہوتا تو تمام مسلمانوں پر الزامات کی بھرمار کر دی جاتی ،انکی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی جاتی۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.