بابری مسجد رام مندر تنازع، سردار پٹیل کا مؤقف کیا تھا؟ اُروِش کوٹھاری

جب کبھی مسئلۂ کشمیر پر بات ہوتی ہے، تو کچھ ہندستانی حسرت و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سردار پٹیل کو یاد کرتے ہیں کہ اگر وہ مزیدزندہ رہتے یا وزیر اعظم ہوتے، تو مسئلۂ کشمیر حل ہو جاتا، مگر جب بات ایودھیا تنازع کی ہوتی ہے، اس وقت یہ لوگ سردار پٹیل کو شاید و باید ہی یاد کرتے ہیں۔

ایسے وقت میں، جبکہ عدالتِ عظمی نے رام مندر۔بابری مسجد تنازع کو سلجھانے کے لیے مصالحت اور ثالثی کی شروعات کی ہے، ہمیں یہ جاننا اور یاد کرنا چاہیے کہ آزاد ہند کے پہلے وزیر داخلہ و نائب وزیراعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل بھی اس تنازع کو ’’پرامن طریقے سے اور ہندو مسلم، دونوں طبقات کے باہمی تحمل و برداشت اور خیر سگالی کے جذبے کے ساتھ‘‘ حل کرنا چاہتے تھے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے میں وہ سابق وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے ہم خیال تھے۔ سردار پٹیل جنھیں ایک ہندو ہردے سمراٹ کے طور پر جانا جاتا ہے، جس نے سومناتھ مندر تعمیر کروایا، وہ ایودھیا تنازع کو سیاسی ایشو بنائے جانے کے خلاف تھے؛ بلکہ درحقیقت وہ اس معاملے کو مسلمانوں کی رضامندی کے بغیر حل ہی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ (Sardar Patel146s Correspondence, Edited by Durga Das, Vol.9)

قبرستان کا واقعہ:
یہ تنازع دراصل نومبر 1949ء میں شروع ہوا، جیسا کہ ’’ہریجن‘‘ میں اس کے ایڈیٹر اور سینئر گاندھیائی فلاسفر کشور لال مشرووالا نے واضح طورپر بیان کیا تھا، انھوں نے اس سلسلے میں اکشے برہمچاری کا تفصیلی حوالہ دیا تھا، برہمچاری ایودھیا کے سادھو اور ضلع کانگریس کمیٹی کے سیکرٹری تھے۔ ان کے بیان کے مطابق 13؍نومبر1949ء کو ایودھیا کے قبرستان کی کچھ قبریں اکھاڑ دی گئیں، وہ خود جاے وقوعہ پر پہنچے۔ ’’قبرستان کے بیچوں بیچ ایک عمارت تھی، جسے مسلمان قناطی مسجد کے نام سے جانتے تھے، وہاں ایک سٹیج بنا دیا گیا تھا‘‘۔ (Harijan, August 19, 1950, p. 212. Muslims of Ayodhya, K. G. Mashruwala)

مسلمانوں نے اس معاملے میں سٹی مجسٹریٹ سے معمولی شکایت کی اور مطمئن ہو کر بیٹھ گئے، برہمچاری بھی مجسٹریٹ سے ملے، مگر ان کی شکایت پر ضلع انتظامیہ کی جانب سے کوئی احتیاطی کارروائی تو نہ ہوئی، البتہ15؍نومبر کو گھر کے اندر اکشے برہمچاری پر جان لیوا حملہ کر دیا گیا۔
قبروں کے اکھاڑے جانے کے بعد وہاں پر مسلسل نو دن تک راماین کا جاپ کیا گیا، اس کے بعد کئی دنوں تک بابری مسجدکے سامنے میلہ لگا رہا، لوگوں کو جمع کر کے دعوتیں کی گئیں، کھانے تقسیم کیے گئے۔ برہمچاری کے بیان کے مطابق ’’اس وقت لوگوں کو مسجد کے پاس اکٹھا کرنے کے لیے جارحانہ پروپیگنڈہ کیا گیا، تقریریں کی گئیں، جن میں یہ بتایا گیا کہ بابری مسجد کو توڑ کر رام مندر بنایا جائے گا، اس کے بعد مزید کئی قبروں اور مذہبی عمارتوں کو توڑ کر وہاں مورتیاں نصب کی گئیں‘‘۔ (Harijan, 19 August 1950, p. 212. Muslims of Ayodhya, K.G. Mashruwala)

باوجودیکہ شہر میں دفعہ 144؍نافذ تھی، مجسٹریٹ نے برہمچاری کو 23؍دسمبر 1949ء کو اشارتاً بتایا کہ ’’گزشتہ رات بابری مسجد کے اندر رام کی مورتی رکھ دی گئی ہے، جس کی اسے خبر ہے اور اگر وہاں سے مورتی کو ہٹایا گیا تو حالات آسانی سے بگڑ سکتے ہیں‘‘۔

اگلے دن نہایت زور و شور سے اعلانِ عام کیا گیا کہ بابری مسجد کے اندر بھگوان رام پرکٹ ہوئے ہیں اور لوگوں کو درشن کے لیے بلایا گیا، لوگ جمع ہوئے اور اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ’’چوں کہ پاکستان میں ایک بھی مندر نہیں چھوڑا گیا ہے؛ اس لیے ہم لوگ بھی ایودھیا میں ایک بھی مسجد یا قبرستان نہیں رہنے دیں گے‘‘۔ ان کی تقریروں میں مہاتما گاندھی، نہرو اور کانگریس حکومت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ برہمچاری اپنے بیان میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس ہنگامے کو بھڑکانے میں کئی پرانے کانگریسی بھی شامل تھے۔’’ بلکہ کانگریس کے کئی ممبرانِ اسمبلی بھی اس قسم کی غیر ذمے دارانہ باتیں کر رہے تھے‘‘۔ (Harijan, 19 August 1950, p. 212. Muslims of Ayodhya, K. G. Mashruwala)

ایودھیا تنازع پر سردار پٹیل کا خط:
اس وقت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے یوپی کے وزیراعلیٰ جی بی پنت کو ٹیلی گرام بھیجا، ساتھ ہی انھیں اس وقت کے نائب وزیراعظم اور وزیرداخلہ سردارپٹیل نے بھی ایک خط لکھا، ان کی ہدایات بالکل واضح تھیں۔ نہرو کے ٹیلی گرام کا ذکر کرنے کے ساتھ انھوں نے خط میں ان واقعات کی ٹائمنگ کے سلسلے میں اپنی تکلیف کا اظہار کیا؛ کیوں کہ تقسیم کے زخم ابھی بھرنا شروع ہی ہوئے تھے کہ یہ سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ انھوں نے واضح طور پر لکھا کہ ’’کسی بھی گروپ کی طرف سے اس معاملے کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جانا نہایت بدقسمتی ہوگی‘‘۔ انھوں نے لکھا کہ ’’یہ مسئلہ ہندو اور مسلمانوں کے باہمی بھائی چارے، تحمل و برداشت اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت حل کیا جانا چاہیے‘‘۔

پٹیل نے اپنے خط میں وضاحت کے ساتھ لکھا تھا کہ ’’اگر ہم مسلمانوں کو کھلے دل کے ساتھ اپنے ساتھ شریک کریں، تو یہ مسئلہ یقینی طور پر باہمی رضامندی سے حل ہو جائے گا، طاقت کے ذریعے اس کو حل کرنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو پھر لا اینڈ آرڈر فورسز کے ذریعے ماحول کو پرامن رکھنے کے لیے ہر قدم اٹھایا جائے، زیادتی و زبردستی پر مبنی کوئی بھی عمل برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘۔ (Sardar Patel146s Correspondence, Edited by Durga Das, Vol.9, p. 310-11)

سردار پٹیل اس مسئلے کو ایک ’’زندہ موضوع‘‘ بنانے کے سراسر خلاف تھے، مگر وہ اس کے پسِ پردہ چلنے والی رام مندر تحریک کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے یا اس کی انھیں بھنک نہیں لگ سکی۔ اکشے برہمچاری نے اس طرح کی صورتِ حال کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 22؍اگست 1950ء سے مون برت شروع کر دیا، جو 32؍دنوں کے بعد یوپی کے وزیر اعلیٰ جی بی پنت، ونوبابھاوے اور کشور لال مشرووالا کی حالات پر قابو پانے کی یقین دہانی کے بعد ختم ہوا۔ (Harijan, September 30, 1950, p. 262, Shri Akshaya Brahmachari146s Fast)

اس وقت کے یوپی کے وزیر داخلہ لال بہادر شاستری نے برہمچاری جی کو لکھا ’’حکومت نے ایودھیا کے حالات کو قابو کرنے کے سارے اقدامات کیے ہیں، اگر اب بھی کوئی کسر ہوگی، تو ہم اسے دور کرنا چاہیں گے، اس میں ہر شخص کے تعاون اور مدد کی ضرورت ہے، سب سے ضروری یہ ہے کہ وہاں ایسا ماحول بنایا جائے کہ تمام شہری اپنی زندگی پرامن طریقے سے، بھائی چارے کے ساتھ گزاریں، انھیں کوئی خطرہ نہ لاحق ہو‘‘۔ (Harijan, September 30, 1950, p. 262)

ایودھیا اب ایک سیاسی ایشو ہے، مذہبی نہیں:
گزشتہ سالوں کے دوران فرقہ وارانہ سیاست کی اُٹھان نے رام مندر کے ایشو کو مبینہ طور پر ہندو نشاتِ ثانیہ کی علامت اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ جب کچھ گاندھی وادیوں (جن میں گجرات کے مشہور صحافی رمیش اوجھا بھی شامل تھے) نے 1990ء میں مدھولمے جیسے ممتاز سوشلسٹ لیڈر کی رہنمائی و تعاون سے اس تنازع کے مثبت اور تعمیری حل کی تحریک شروع کی، تو اس وقت بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے انھیں کہا تھا کہ وہ اپنا وقت برباد نہ کریں؛ کیوں کہ رام مندر کوئی مذہبی ایشو نہیں ہے، یہ ایک سیاسی ایشو ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ ملک کے ہندوؤں کو فرقہ وارانہ خطوط پر مجتمع کرنے کا اچھا موقع ہے، جسے ہم گنوانا نہیں چاہتے۔ (Sunday supplement, Sandesh, 10-3-19, p.8)

گجراتی میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ: رام کے نام سے پتھر بھی تیرنے لگتے ہیں۔ یہ مقولہ ہمیں رام مندر۔بابری مسجد کے تنازع کے ذیل میں بھی اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی آڑ لے کر کتنے ہی لوگوں نے اپنا سیاسی کیرئیر بنایا اور مسلسل اس موضوع کو اچھال کر قومی سطح کے لیڈر بن گئے۔

(انگریزی سے ترجمہ: نایاب حسن قاسمی)