نماز کی فرضیت اور احکام - خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے08 رجب 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "نماز کی فرضیت اور احکام" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ایک دن اور رات میں ہر بالغ مسلمان پر پانچ نمازیں فرض ہیں، ان کا منکر کافر ہے، جان بوجھ کر نماز ترک کرنے سے انسان اللہ کی حفاظت سے باہر ہو جاتا ہے۔ نماز کو حج کی طرح مقررہ شرعی وقت پر پڑھنا لازمی ہے؛ اس لیے نماز کو وقت سے مقدم یا مؤخر نہیں کیا جا سکتا، قرآن کریم میں نماز کے لئے سستی بھی ہلاکت کا باعث بتلائی گئی ہے۔ اگر کوئی بھول جائے یا سویا رہ جائے تو جیسے ہی نماز یاد آئے یا بیدار ہو تو ادا کر لے یہی اس کا کفارہ ہے، عصر کی نماز کو سورج زرد ہونے پہلے، عشا کی نماز آدھی رات سے پہلے اور فجر کی نماز طلوع آفتاب سے قبل ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی طلوع آفتاب کے بعد کا الارم لگا کر سوئے تو یہ عمداً نماز ترک کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ نماز کے لئے اہل خانہ کو ترغیب دینا گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہے، بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دینا چاہیے تا کہ بالغ ہونے سے پہلے نمازی بن جائیں۔ مرد کا بلا عذر جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز ادا کرنا گمراہی اور منافقوں کا کام ہے۔ نماز کے لئے صبح شام مساجد کا رخ کرنے سے اللہ تعالی اپنے ہاں مہمانی کا انتظام فرماتا ہے، آخر میں انہوں نے سب کے لئے دعا کروائی۔

عربی خطبہ کی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کا فرمان ہے: {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} اور نماز قائم کریں دن کے دونوں کناروں میں اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی[هود: 114]، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، یہ گواہی ہمیں شرک، نافرمانی اور رو گردانی سے تحفظ دیتی ہے۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر دائمی اور پاکیزہ صلاۃ و سلام نازل فرمائے ؛ جن کی بدولت ہمارے اجر میں اضافہ ہوگا، ہماری پریشانیاں، آزمائشیں اور تباہ کاریاں ختم ہو جائیں گی۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو ؛ کیونکہ تقوی مضبوط ترین معاون اور وفا دار ناصر ہے {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔[التوبة: 119]

مسلمانو!

اللہ تعالی نے لوگوں کے لئے دینی سنگ میل واضح اور شرعی احکامات بتلا دئیے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی نے ایک دن اور رات میں لوگوں پر پانچ فرض نمازیں لازمی قرار دیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [پانچوں]نمازوں کی پابندی کرو اور درمیانی نماز کی بھی، نیز اللہ کے سامنے با ادب کھڑے ہو جاؤ۔ [البقرة: 238]

لہذا جان بوجھ کر نماز کا انکار کرتے ہوئے نماز چھوڑنے والے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جیسے کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (انسان اور شرک و کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے) مسلم

ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "مجھے میرے خلیل ﷺ نے تاکیدی نصیحت فرمائی کہ: "(تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنانا چاہے تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے، نیز جان بوجھ کر کبھی نماز مت چھوڑنا؛ کیونکہ عمداً نماز چھوڑنے والے سے [اللہ کی حفاظت کی ] ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے، نہ ہی کبھی شراب نوشی کرنا ؛کیونکہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے) ابن ماجہ

مسلمانو!

تمام علمائے کرام کا اجماع ہے کہ پانچوں نمازوں کا ایک متعین اور مقررہ وقت ہے، نیز ان اوقات کا ابتدائی اور آخری وقت بھی ہے، چنانچہ کسی مسلمان کے لئے نماز کو وقت کے آغاز سے پہلے ادا کرنا یا وقت کے بعد ادا کرنا جائز نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا} بے شک نماز مومنوں پر وقت مقررہ میں فرض ہے۔[النساء: 103] سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "نماز کا وقت بھی حج کے وقت کی طرح ہے۔" تو جس طرح حج ؛ حج کے مہینوں سے ہٹ کر کرنا جائز نہیں، وقوف عرفات؛ یوم عرفہ کے بعد جائز نہیں، اور جمعے کی ادائیگی ہفتے کے دن نہیں ہو سکتی تو بعینہ فرض نمازوں کے اوقات میں بھی کوتاہی جائز نہیں ہے، اللہ تعالی نے شرعی وقت گزرنے کے بعد فرض نماز ادا کرنے والوں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: {فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (4) الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} ہلاکت ہے ایسے نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔[الماعون: 4، 5]

یہ ایسے منافقوں اور فاسق مسلمانوں کی حالت زار ہے جو دن کی نماز رات کو اور رات کی نماز دن میں اپنی مرضی سے ادا کرتے ہیں، نہ کہ قبولیتِ نماز کی شرائط کے مطابق؛ صرف اس لیے کہ وہ سستی اور گناہ کا شکار ہیں، انہوں نے نماز کو اہمیت ہی نہیں دی ہوئی۔

نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جس کی نماز فوت ہو گئی تو گویا اس کے گھر والے اور دولت تباہ ہو گئی) ابن حبان

حدیث کے عربی الفاظ میں " وُتِرَ" اس شخص پر بولا جاتا ہے جس کا کوئی عزیز قتل ہو گیا ہو یا اس کی دولت لٹ جائے اور اسے نہ تو اپنا حق ملے اور نہ ہی بدلہ ملے، تو ایسے شخص کے ساتھ تارک نماز کو تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ تارک نماز کو ایک تو نماز چھوٹنے کا غم ہوتا ہے اور دوسرا ثواب سے محرومی بھی حصے میں آتی ہے بالکل اسی شخص کی طرح جس کو اپنا مال بھی نہ ملا اور حصولِ حق کی تگ و دو بھی رائیگاں گئی۔

اور نماز فوت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ: بغیر کسی عذر کے وقت گزرنے کے بعد تک نماز مؤخر کی جائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا: "جو شخص عمداً نماز اس نیت سے چھوڑتا ہے کہ وقت گزرنے کے بعد قضا دے دوں گا، تو کیا اس کا یہ عمل کبیرہ گناہوں میں شمار ہو گا؟ تو انہوں نے جواب دیا: نماز کو عمداً مقررہ وقت کے بعد ادا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ: "جس شخص نے ایک نماز بھی جان بوجھ کر چھوڑی تو اس نے عظیم کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا، اسے توبہ اور نیک اعمال کر کے اپنے اس گناہ کو مٹانے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر وہ نماز کی قضا دے بھی دے تو محض قضا دینے سے گناہ نہیں دھلے گا، اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   اگر دورانِ نماز موبائل کی گھنٹی بجنے لگے - محمد رضی الاسلام ندوی

مسلمانو!

جس شخص کی نماز بھولنے یا سونے کی وجہ سے رہ جائے تو اس پر قضا لازمی ہے، سویا ہوا شخص جس وقت بھی بیدار ہو نماز کی قضا دے گا، اور اسی طرح بھولنے والا شخص جیسے ہی بھولی ہوئی نماز یاد آئے تو نماز پڑھے؛ اس کی دلیل انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص نماز بھول جائے یا سویا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جیسے ہی یاد آئے نماز ادا کر لے، اس کا کفارہ صرف یہی ہے۔) متفق علیہ

مسلمانو!

ایسے شخص کا نماز کا وقت شروع ہو جانے کے بعد سونا بھی کوتاہی میں شامل ہے جسے غالب گمان ہو کہ اگر وہ سو گیا تو نماز کا اختیاری وقت یا پورا وقت نکل جائے گا، ہاں اگر اسے یقین ہو کہ کوئی اسے بیدار کر دے گا، یا اس کا غالب گمان ہو کہ الارم والی گھڑی اسے بیدار کر دے گی تو یہ کوتاہی میں شامل نہیں۔

کوئی بھی نماز عصر کو بلا عذر سورج کے زرد ہونے تک مؤخر مت کرے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اہل علم کے صحیح ترین موقف کے مطابق وہ گناہ گار ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: (نماز عصر کا وقت سورج کے زرد نہ ہونے تک ہے) مسلم

نیز سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (یہ منافقوں کی نماز ہے ۔ یہ منافقوں کی نماز ہے ۔ یہ منافقوں کی نماز ہے : کہ ان میں سے کوئی سورج زرد ہونے تک بیٹھا رہتا ہے اور پھر جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان، یا شیطان کے ایک سینگ پر آ جائے تو کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے ، اور بہت ہی تھوڑا اللہ کا ذکر کرتا ہے) مسلم

لہذا اگر نماز عصر کی تاخیر سورج زرد ہونے تک جائز ہوتی تو آپ ﷺ اس کی مذمت نہ فرماتے اور نہ ہی اسے منافقت کی علامت قرار دیتے۔

اسی طرح نماز عشا کو آدھی رات سے لیٹ نہ کرے؛ کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (نماز عشا کا وقت آدھی رات تک ہے) مسلم

اور نماز فجر کو طلوعِ آفتاب تک مؤخر نہ کرے؛ کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (نماز فجر کا وقت طلوعِ فجر سے لیکر سورج طلوع ہونے تک ہے) مسلم

اگر کوئی شخص نماز کی ایک رکعت رکوع و سجود سمیت وقت ختم ہونے سے پہلے پا لے تو اس نے پوری نماز پا لی؛ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص نماز کی ایک رکعت پا لے تو اس نے پوری نماز پا لی) متفق علیہ

جو شخص جان بوجھ کر الارم طلوع آفتاب کے بعد لگانے کا عادی ہے، وہ نماز فجر کی پروا کیے بغیر بیدار ہونے کے اسباب بھی نہیں اپناتا، نہ ہی خود جلدی سوتا ہے نہ کسی کی اٹھانے کی ذمہ داری لگاتا ہے، تو وہ بھی سستی کا شکار ہے، بلکہ ممکن ہے کہ وہ عمداً نماز ترک کرنے والوں میں شامل ہو۔

تاہم جس شخص کی نیند بہت گہری ہو ساتھ میں بھر پور کوشش کرتے ہوئے نماز کے لیے بیدار ہونے کے اسباب بھی اپنائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے؛ کیونکہ اس نے کوتاہی نہیں دکھائی۔

سوئے ہوئے شخص کو نماز کے لئے بیدار کرنا واجب ہے۔ اسی طرح جب نماز کا وقت کم رہ جائے تو اسے متنبہ کرنا واجب ہے؛ کیونکہ یہ نیکی اور تقوی کے کام پر تعاون ہے، ویسے بھی محو خواب آدمی کا حکم غافل شخص جیسا ہوتا ہے اور غافل کو متنبہ کرنا واجب ہے۔

مرد اپنے اہل خانہ پر مکمل توجہ رکھے، انہیں فرض نماز کی ادائیگی کا حکم دے، نماز فجر کے لئے اتنا پہلے اٹھائے کہ طہارت اور وضو کر کے طلوع آفتاب سے قبل مکمل طور پر نماز ادا کر سکیں۔

بچوں پر اگرچہ نماز فرض نہیں ہے لیکن نماز کا عادی بنانے کے لئے انہیں نماز کا حکم دیا جائے گا، اس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: (سات سال کی عمر میں اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، دس سال کی عمر میں نماز کے لئے سزا دو اور ان کے بستر الگ الگ کر دو) ابو داود

راستوں ، کھیل کے میدانوں ، مساجد کے آس پاس اور مساجد کے اندر کھیل کود میں مشغول جو چھوٹے بچے، لڑکے اور نوجوان نماز با جماعت ادا نہیں کرتے، اقامت اور اذان کا بالکل خیال نہیں کرتے، نہ ہی اس عظیم عبادت کا وقار ملحوظ خاطر رکھتے ہیں، ان کے سرپرست حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان پر توجہ دیں، اور ان کے قریب سے گزرنے والوں کو چاہیے کہ انہیں سمجھائیں اور نصیحت کریں۔

جس شخص کی متعدد نمازیں رہ جائیں تو ان کی ترتیب وار قضا واجب ہے، البتہ نماز پڑھتے ہوئے یاد آیا کہ اس کی پچھلی نماز رہتی ہے تو وہ اپنی موجودہ نماز مکمل کرے، اسے نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ موجودہ نماز کا وقت کم رہ جائے تو ترتیب کی ضرورت کالعدم ہو جاتی ہے، اس لیے ایسا شخص موجودہ نماز پہلے پڑھے اور پھر فوت شدہ نماز ادا کرے۔

مسلمانو!

خیال کرنا؛ کہیں تمہاری دولت اور اولاد تمھیں غافل نہ کر دیں!

تمہاری تجارت اور لین دین تمہیں بھلا نہ دیں!

تمہارے بازار اور دکانیں وقت پر نماز کی ادائیگی اور اللہ کی جانب سے عائد کردہ ذمہ داریوں سے مشغول نہ کر دیں!

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: " جس کو اللہ تعالی سے اسلام کی حالت میں ملنا پسند ہے تو وہ پابندی کے ساتھ نمازیں وہاں کرے جہاں اذان دی جاتی ہے ؛ کیونکہ اللہ تعالی نے تمہارے نبی ﷺ کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کر دیے ہیں اور نمازوں کی پابندی انہیں میں شامل ہے، کیونکہ اگر تم نمازیں اپنے گھروں میں ایسے پڑھو جیسے یہ جماعت سے پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے ۔ کوئی آدمی اچھی طرح پاک صاف ہو کر مکمل وضو کرتا ہے ، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے اٹھائے ہوئے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ، اور اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ کم کر دیتا ہے ، اور میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کوئی بھی نماز با جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا ، سوائے ایسے منافق کے جس کا نفاق سب کو معلوم تھا، بسا اوقات آدمی کو جماعت کے لئے دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر لایا جاتا اور پھر اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا" مسلم

یہ بھی پڑھیں:   اگر دورانِ نماز موبائل کی گھنٹی بجنے لگے - محمد رضی الاسلام ندوی

مسلمانو!

کون سی پکار اذان سے زیادہ چاشنی اور مٹھاس بھری ہے؟ کس کی آواز مؤذن سے زیادہ خوبصورت اور اچھی ہے؟ اس لیے اے مؤذن دلوں کو اذان سنائیں، نماز سے دل کو سکون حاصل ہو گا، رحمن کی جانب لوگوں کو بلانے والے اذان کے ذریعے نیند سے بیدار کریں۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہمہ قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، جو پناہ طلب کرنے والوں کو پناہ دیتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، وہ علاج کے باوجود صحت یابی سے مایوس ہونے والوں کو بھی شفا دیتا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی اطاعت کرنے والا راہ راست پا لیتا ہے، جبکہ آپ کی نافرمانی کرنے والا گمراہ ہو جاتا ہے، اللہ تعالی اُن پر، انکی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،دائمی سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو، اور اللہ تعالی کو اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نافرمانی مت کرو {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے کما حقہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام پر۔[آل عمران: 102]

میرے بھیّا!

اذان سن کر بھی نماز کے لیے حاضر نہ ہونے والے!

نماز کے بارے میں تاخیر اور تساہل کا شکار ہو کر منہ موڑنے والے!

سستی، مصروفیت اور بے پروائی برتنے والے!

اتنا بڑا اجر تقسیم کیا جا رہا ہے اور تم غفلت میں مگن ہو اور گناہ اٹھا رہے ہو!

یہ تو قرب الہی، عزت افزائی اور اجر حاصل کرنے کے مواقع ہیں!

لیکن تم دور کہیں برائی اور دھوکے میں پڑے ہوئے ہو!

صبح یا شام کے وقت مسجد جانے والا مہمان کی طرح ہوتا ہے، لیکن اس کا میزبان کون ہے؟

وہ کس کا مہمان بنتا ہے؟

وہ کس کی طرف جا رہا ہے؟

وہ اللہ کریم کی ضیافت ، تکریم اور انعام و اکرام پانے جا رہا ہے، جیسے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص بھی صبح اور شام کے وقت مسجد جائے تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت سے مہمانی کا اہتمام فرماتا ہے وہ جب بھی صبح یا شام کے وقت مسجد جائے ۔) متفق علیہ

اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں مہمانی کا اہتمام فرماتا ہے، اللہ اکبر!

یہ کیسی مہمانی ، کرم نوازی، انعام، رزق، نوازش، خاطر تواضع اور آؤ بھگت ہو گی جو اللہ تعالی اپنے مہمان کے لئے تیار فرماتا ہے، یہ کتنا بڑا اجر ہے اور کتنی عظیم تکریم ہے۔

اتنے بڑے اجر و ثواب کے بعد مسجد سے کوئی محروم اور بد بخت ہی دور رہے گا، ایک قوم ایسی رہے گی جو نمازوں سے پیچھے رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں پیچھے کر دے گا۔

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود و سلام نازل فرما، یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین، تمام صحابہ کرام، اہل بیت ،تابعین و تبع تابعین سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا کریم! یا وہاب!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! دین دشمن قوتوں کو نیست و نابود فرما ۔

یا اللہ! تمام تر اسلامی ممالک کو بھر پور امن و سلامتی اور استحکام عطا فرما۔ یا اللہ! مملکت حرمین شریفین کو مکاروں کی مکاری، عیاروں کی عیاری، حاسدوں کے حسد، اور کینہ پرور لوگوں کے کینے سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے کاموں کے لیے رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن سے اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ اور فائدہ ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! سرحدوں اور مورچوں پر مامور ہماری افواج کی مدد فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! سیکورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں بہترین صلہ اور بدلہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ لوگوں کو عافیت نواز، یا اللہ! مصیبت زدہ لوگوں کو عافیت نواز، یا اللہ! مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، یا اللہ! ہم پر جارحیت کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا کریم! یا عظیم! یا رحیم!

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.