عورت، داناؤں کی نظر میں - حافظ یوسف سراج

دن رات کے شور نے بالآخر مجھ جیسے سخت جان کو بھی ہلا ڈالا۔ بہت ہاتھ پاؤں مارے، معاملے کو ٹالنے اور محنت سے دور رہنے کی بہت کوشش کی، کسی دانا سے سنا تھا، محنت جوانوں کی موت ہوتی ہے، ادھر مگر یلغار ایسی تھی کہ تاب نہ لا سکا۔ اگرچہ بیداری میں مشقت تھی مگر جاگنا ہی پڑا۔ چنانچہ جی کڑا کر کے، اسلام نے عورت پر جو ظلم ڈھائے، ان کا جائزہ لینے کی ٹھان ہی لی۔ ویسے بھی آپ جانیے، آخر کب تک کوئی محض عقیدت کے بھرے میں جی سکتا ہے۔ ادھر نئی دنیا کی چکاچوند سے متاثر ہمارے دوست آئے روز دروازہ یا دیوار آن کھٹکھٹاتے ہیں کہ اٹھو، ہماری تازہ کامیابیوں کے مقابل اپنا پرانا اسلام نکالو۔ نئے پیمانوں کے مطابق ناپ تول کے چیک کرو اور بتاؤ تمھارے پلے کچھ بچا بھی یا تم اور تمھارا اسلام گئے کام سے؟ وقت آتا ہے کہ چیزیں دیکھنا، سوچنا اور ماننا پڑتی ہیں۔ چنانچہ ٹھان لی کہ اب جو ہو سو ہو یہ معاملہ دیکھا ہی جا ئے گا۔ ضرور دیکھا جائے گا کہ آخر اسلام کے اتنا دم گھونٹ دینے کے باجود مسلمان عورت اب تک زندہ کیسے رہ پائی؟

گو وسوسوں نے اس راہ تحقیق سے یوں بھی روکنا چاہا کہ اگر یہ پل صراط اتنا ہی ناقابلِ عبور ہوتا تو اتنی گھٹن اور حقوق کی ایسی دھاندلی کے باجود غیر مسلم عورت اسلام کی طرف لپکتی کیوں چلی آتی؟ دراصل دفتر میں، میں جہاں بیٹھتا ہوں ، گردن گھما کے دیکھوں تو ایک کتاب کرسٹیان بیکر کی نظر آتی ہے، کرسٹیان بیکر کی لکھی ہوئی۔ کرسٹیان بیکر یورپ کے سب سے بڑے میوزک شو کی ہر دلعزیز پریزنٹر تھیں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ کروڑوں دلوں میں دھڑکن کی طرح سمائی ہوئی تھیں ، پھر یہ سب چھوڑ کے مسلمان ہو گئی تھیں۔ یعنی اس وقت کہ جب یورپ بھر سے کروڑوں لوگ اس کے پروانے عرف فین تھے۔ تو دل میں وسوسہ آیا کہ اسلام میں عورت کے لیے یورپ کے مقابلے میں سب اندھیر تھا تو یہ کرسٹیان کیوں مسلمان ہو گئی؟ کیا اس نے خود کشی کا ارادہ باندھ رکھا تھا؟ جو مسلمان ہونے چل دی؟ چلیے یہ کام کر ہی گزری تھی تو چپ رہتی۔ حد ہے کہ جدید دنیا کے نزدیک ایسا خوفناک کام کرنے کے بعد اس پر فخریہ اس کا اظہار بھی کیا۔ پوری کتاب لکھ ماری، فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ۔ یعنی ایم ٹی وی سے مکہ تک کا سفر۔ آخر اس کی کیا مت ماری گئی تھی کہ ہر مے رکھتے یورپ کے میخانے سے یہ زم زم پینے مکہ چل دی؟

یہ بھی پڑھیں:   فیمنزم کا آشیاں اور مسلم خواتین - ڈاکٹر رضوان اسد خان

کروڑوں دلوں پر راج کرنے والی کو آخر یہ سوجھی بھی تو کیوں کہ آج زمانہ تو وہ ہے کہ فیس بک، یوٹیوب یا ٹوئٹر پر سو سے ہزار تک لائکس دینے والے فینز( پروانے) مل جائیں تو آدمی معاشرے میں عزت سے اور سر اٹھا کے جینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اور لا محالہ دنیا کی ہر چیز اور خصوصا اسلام پر رائے دینے کے قابل بھی۔ عالم تو یہ ہے کہ روشن جمہوری دور ہے، اگر سوشل میڈیا کی پوسٹ میں دن بارہ بجے لکھ دیا گیا کہ اب اور اس وقت سے ٹھیک رات شروع ہوتی ہے، اور پڑھے بے پڑھے یا روا روی میں یار لوگوں نے اسے لائک فرما دیا تو باور کر لیا جائے گا کہ ثابت ہوا اور دنیا نے کھلے دل سے تسلیم کر لیا کہ دن بارہ بجے سے رات شروع ہو گئی۔

وسوسات جب آتے ہیں تو کونسا گن کے یا پوچھ کے آتے ہیں، یعنی لورین بوتھ کے قبول ِ اسلام کا وسوسہ بھی ہمیں اس نیک کام سے روکنے چلا آیا۔ ویسے نہیں معلوم سابقہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی سالی لورین بوتھ نے اپنے قبولِ اسلام سے پہلے ہمارے ان دوستوں سے مشورہ بھی کر لیا تھا یا خود ہی اتنا بڑا فیصلہ کر ڈالا تھا؟ روشنیوں کی دنیا سے بقول ہمارے لبرل احباب کے’ اسلام کی گھٹن ‘میں چھلانگ لگانے کی یہی غلطی معروف آئرش گلوکارہ شنیڈ اوکونر بھی کر چکی ہیں۔ پھر معلوم نہیں ایسی خوفناک غلطی برطانوی صحافی ایوان ریڈلی نے بھی کیسے کر ڈالی؟ پتہ نہیں دنیا کی مختلف خواتین کو اپنی آزادی اب اتنی عزیز آخر کیوں نہیں رہی؟ ممکن ہے، ایوان ریڈلی کا قبولِ اسلام بھی طالبان کی مشہورِ زمانہ شدت پسندی ہی کا نتیجہ ہو۔ پتہ نہیں یہ طالبان کی قید سے اب تک چھوٹی بھی ہے یا نہیں؟

خیر ایسے وسوسے اور چند خواتین کی ایسی غلطیاں ہمیں ہمارے عزم سے روک نہیں سکتیں اور کسی صورت ہم اسلام کے عورت پر روا رکھے گئے’ ظلم‘ پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ اس پر آواز اٹھانے کا عزم کرکے لیپ ٹاپ سیدھا کر لیا اور اس سے پہلے کہ عورت پر اسلام کی طرف سے ہونے والے تمام ظلم ترتیب وار اس علمی و عقلی مضمون میں سپردِ کی بورڈ کرتے، یکایک ایک اور خیال نما وسوسہ آ گیا ، وہ یہ کہ تحریر اس قدر سخت چیز سے شروع نہیں کرنی چاہئے ، ورنہ لوگ سخت وحشت زدہ رہ جائیں گے۔ یہ ایک جدید دور ہے ، سمارٹ اور نازک عہد، لوگ خود بھی اور ان کے نظریات بھی بہت حساس اور نازک ہو چکے ہیں ، لوگوں کے اعصاب بھی اب پہلے جیسے نہیں رہے، اب تو خیر حکومت نے پابندی لگا دی۔ ورنہ شہر بھر کے در و دیوار انسانی اعصاب کی مردانہ کمزوریوں کی عکاسی کرتے دنیا دیکھا کرتی تھی۔ اب گو ان کے نوشتہ ٔ دیوار کرنے پر پابندی عائد ہے مگر محض پابندی لگا دینے سے حقیقتیں بدل کب جاتی ہیں۔ چنانچہ رفاہِ عامہ ملحوظ رکھتے ہوئے، بہتر یہی سمجھا کہ براہِ راست اسلام کے عورت پر توڑے گئے ظلم کے بیان سے پہلے مغر بی اور غیر اسلامی سکالرز کے عورت کو پیش کیے گئے گل ہائے عقیدت و محبت اور اقوالِ زریں پیش کر دیے جائیں۔ تا کہ تمہید خوشگوار ہو جائے۔ وہ کیا کہتے ہیں مشتے از خروارے کے تحت چند صرف چند ایک۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک بار پھر تبادلہ آبادی، ایک اور ریڈ کلف - اوریا مقبول جان

مسیحی تصور کی ترجمانی کرتے ہوئے، حضرت ترتولیان (Tertullian) فرماتے ہیں: ’’عورت شیطان کے آنے کا دروازہ، شجر ممنوع کی طرف لے جانے والی، خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کی تصویر مرد کو غارت کرنے والی ہے۔‘‘ ماشااللہ ، ماشااللہ۔ عیسائیت کے ایک اہم امام کرائی سوسم کا اظہارِ خیال بھی ایسا ہی شاندار ہے کہ پڑھ کر طبیعت سرشار ہو اٹھے۔ فرماتے ہیں، عورت ایک ناگزیر برائی، ایک پیدائشی وسوسہ، ایک مرغوب آفت، ایک خانگی خطرہ، ایک غارتگر دل ربائی اور ایک آراستہ مصیبت کا نام ہے ۔حضرت اطالیون کا قول بھی خاصے کی چیز ہے ، فرماتے ہیں: ’’گھوڑا اچھا ہو یا برا، اسے مہمیز کی ضرورت ہے، عورت اچھی ہو یا بری اسے مار کی ضرورت ہے۔‘‘ گو دنیائے عیسائیت کی عورت کے متعلق ایسی ساری ہمدردی اور خیر خواہی اس ہندوستانی فنونِ لطیفہ کے ایک عمل کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتی ،جس میں شوہرکے مرنے پر اس کی ہندوستانی زندہ بیوی کو شوہر کی چتا کے ساتھ ہی نذرِ آتش کر کے راحت پہنچا دی جاتی تھی ۔پھر بھی ایک نمونہ ہندوستانی تہذیب سے عورت کے متعلق مزید بھی پیش کیا جاتا ہے۔ ستیارتھ پرکاش کے مطابق ’’تقدیر، طوفان، موت، جہنم، زہر، زہریلے سانپ میں سے کوئی اس قدر خراب نہیں ہو سکتا،جتنی کہ عورت۔روسی کہاوت کے مطابق ، دس عورتوں میں ایک روح ہوتی ہے۔اسپینی ضرب المثل کے مطابق ۔’’بری عورت سے بچنا چاہیے، مگر اچھی صورت پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ کہیں ہم عربوں کی عورت سے محبت بھول نہ جائیں کہ وہ اس کے پیدا ہوتے ہی اسے دفنا کے ہاتھ جھاڑ لیتے تھے۔ یقینا عورت پر ٹوٹی لطافت کے اتنے سے تذکرے سے ہی آپ کی طبیعت شاد ہو اٹھی ہو گی ، چنانچہ باقی آئندہ۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.