عمران خان کی وٹس ایپ حکومت - مظہر برلاس

گزشتہ چند حکومتوں کا جائزہ لے کر میں اُن پر تنقید کرتا ہوں کیونکہ اُنہوں نے کرپشن کو رواج دیا، اُنہوں نے ملک کے ہر ادارے کو برباد کرنے کی کوشش کی، اُنہوں نے لوگوں کی زندگیوں میں مشکلات کو بڑھایا، اِسی لئے پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض پیدا ہو رہا ہے، اِس قرضے میں اِس بچے کا کوئی قصور نہیں، جن کا قصور ہے اُن کا حساب ہونا چاہئے، جس نے بھی اِس ملک کو لوٹا یا کرپشن کی، اُس سے حساب لیا جانا چاہئے۔ جن لوگوں نے حرام، حلال کی تمیز کو نظرانداز کرکے دولت کے انبار لگائے، اُنہیں معافی نہیں ملنی چاہئے۔ پاکستان کے بگڑے ہوئے نظام میں درستی آنی چاہئے۔ غالباً یہی موقف موجودہ حکمرانوں کا ہے۔ موجودہ حکومت نے لوگوں سے اِنہی باتوں پر ووٹ لیا، اب جب اِس حکومت کو آٹھ ماہ ہو گئے ہیں، آٹھ مہینوں کے بعد کچھ تو نظر آنا چاہئے تھا۔ افسوس صد افسوس کہ ابھی تک وہ خواب ادھورے ہیں، افسوس کہ باتیں بہت، عمل نہیں۔ جس حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ پی ٹی وی کا ایم ڈی بن جائے، اُس کے بارے میں کیا کہا جائے۔

موجودہ حکومت کے آغازِ سفر میں اُس کے ’’معاشی عالم چنے‘‘ نے اِسے مشکلات کی طرف دھکیل دیا، اُس کو یہ سمجھ نہ آسکی کہ تحریک انصاف کا ایجنڈا لوگوں کی بھلائی ہے، نہ کہ لوگوں کی زندگیوں میں مشکلات کا پہاڑ کھڑا کرنا۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کو حالات اچھے نہیں ملے مگر اِس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ ہر وقت پرانی حکومتوں کا رونا روتے رہیں اور خود کچھ نہ کریں۔ حکومتی وزراء باتیں تو بہت کرتے ہیں، کیا وہ عمل بھی اِس قدر کرتے ہیں؟

اِس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کرپٹ آدمی نہیں، وزیراعظم کی نیک نیتی پر بھی شک نہیں کیا جا سکتا مگر باتوں سے آگے عمل کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں اِس مرحلے پر یہ سوچنا چاہئے کہ موجودہ حکومت میں شامل وزراء باتیں تو کرتے ہیں، عمل کیوں نہیں کرتے؟ عمران خان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر تیزی سے کام کیوں نہیں ہو رہا؟ شاید اِس کی بڑی وجہ یہ ہو کہ عمران خان نے دو صوبوں میں دو ایسی شخصیات کو وزیراعلیٰ بنایا جو اِس کی اہل نہیں تھیں، اُن کی یہ قابلیت ہی نہیں ہے، نہ اُن میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ صوبوں کو چلا سکیں۔ اُن کی سادگی، ایمانداری اور کفایت شعاری پر کوئی شک نہیں مگر کام کرنے کی اہلیت تو ہونا چاہئے۔ مثلاً آپ کا ڈرائیور بہت سادہ، دیانتدار اور اچھا آدمی ہو سکتا ہے مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اس ڈرائیور کو فیکٹری کا جی ایم بنا دیں۔ دو صوبوں میں قائم تحریک انصاف کی صوبائی کابینہ پر تبصرہ کسی اور دن کروں گا، آج صرف اُن کے مشیروں پر بات کر لیتے ہیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کے پاس درجنوں مشیر ہیں مگر کارکردگی صفر، یہ مشیر کس کام کے ہیں؟ انہیں سوائے مخصوص کاموں کے عوامی فلاح کے کام کیوں نہیں آتے یا جس کام کے نام پر اُنہیں رکھا گیا ہے، وہ کام کیوں نہیں آتا؟ اُن کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ یہ صرف چند تصویریں سوشل میڈیا کی نذر کرتے ہیں، وٹس ایپ پر متحرک نظر آتے ہیں حالانکہ اُنہیں فرائض کی ادائیگی میں متحرک نظر آنا چاہئے۔ حکومت میں شامل بعض افراد کی حرکتوں کو دیکھ کر آٹھ مارچ کے پوسٹر بھی شرماتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ترک صدر رجب طیب اردوان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب ....صبا احمد

وزیراعظم عمران خان کی اپنی کابینہ کا حال بھی کوئی بہت اچھا نہیں، چند وزراء بہتر کام کر رہے ہیں مگر اکثر وزراء کے پاس صلاحیت ہی نہیں، زیادہ تعداد تو باتونی جادوگروں کی ہے۔ لوگ بجلی اور گیس کے بلوں سے تنگ ہیں اور خزانے کا وفاقی وزیر لوگوں کو مزید مہنگائی کی خبریں سنا رہا ہے، اُن سے کام نہیں چل رہا، ان کے پاس اقتصادیات کا علم نہیں، نہ ہی کام کرنے کی صلاحیت ہے، اب وہ قومی اسمبلی میں فواد چوہدری کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، باتوں سے کام نہیں چل سکتا، عمل کی ضرورت ہے۔

عمران خان بہت اچھے کپتان ہیں، دنیا میں بہت مقبول ہیں، اُن کے ہاں انسانوں کااحساس بھی ہے مگر انہیں ایک احساس یہ بھی کرنا چاہئے کہ ذاتی دوستوں کے بجائے باصلاحیت افراد کو کابینہ کا حصہ بنائیں، اپنے وزراء کے قول و فعل کا جائزہ لیں۔ اُن کی کارکردگی اور صلاحیتیں پرکھیں۔ حال ہی میں اُنہوں نے دو فیصلے بہت عمدہ کئے ہیں، اُنہوں نے ندیم افضل چن کو مشیر بنایا ہے، اُس کے اچھے ثمرات ضرور نظر آئیں گے۔ سیف اللہ نیازی کو پارٹی کا چیف آرگنائزر مقرر کیا ہے، یہ بھی اچھا فیصلہ ہے، تحریک انصاف کے کارکن اِس فیصلے سے بہت خوش ہیں۔ وزیراعظم کو مختلف حکومتی شخصیات کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہئے اور کارکردگی کا معیار باتیں نہیں عمل ہونا چاہئے۔ عمران خان کو اپنی ٹیم کی کارکردگی پر توجہ دینا چاہئے کیونکہ بعض کھلاڑیوں کی کارکردگی بہت قابلِ رشک نہیں ہے۔ عمران خان اگرچہ اپنے وزراء اور وزرائے اعلیٰ سے تنخواہ کم لیتے ہیں، کام بھی زیادہ کرتے ہیں، وزراء اور حکومتی شخصیات کو وٹس ایپ پر احکامات جاری کرتے ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ اُن کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سارے احکامات وٹس ایپ میں پھنس کر رہ جائیں، بقول منصور آفاق؎