مسجد سے عورت مارچ تک - حسن نثار

’’مسجد کی غیر قانونی توسیع خلاف اسلام، سرکاری زمین پر مدرسہ صرف حکومت بنا سکتی ہے‘‘: سپریم کورٹ ’’لال مسجد کا رقبہ کتنا؟ زمین کس کی ملکیت ہے؟‘‘ : جسٹس گلزار ’’ایسے سوالات کے جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا‘‘: وکیل لال مسجد

اللہ بخشے ہمارے دوست تھے میجر رشید وڑائچ، دبنگ، ملنگ، درد دل رکھنے والا ایک بے چین، بے قرار آدمی جو پاکستان کو ہر برائی سے پاک دیکھنا چاہتا تھا۔ عمر کے آخری حصے میں میجر صرف ’’مسجد مرکز تحریک‘‘ کو اپنی زندگی کا مقصد و محور بنا چکے تھے۔ وہ اس خیال سے مسحور تھے کہ اگر مسجد صحیح معنوں میں ہماری زندگیوں کا مرکز بن جائے تو بے تحاشا مسائل و مصائب سے معاشرہ کو نجات مل سکتی ہے۔ جن دنوں اس آئیڈیا پر برین سٹارمنگ ہو رہی تھی .....’’بیلی پور‘‘ میں ایک میٹنگ کے دوران کسی دوست نے کہا ’’بہت سی مساجد تو خود تجاوزات میں ملوث یا قبضہ کی زمینوں پر ہوتی ہیں‘‘۔ تو میجر صاحب بولے .....’’ اس میں مسجد کا تو ظاہر ہے کوئی قصور نہیں، مخصوص ذہنیت کارفرما ہوتی ہے جس کی وجہ لاعلمی اور بےخبری بھی ہوسکتی ہے اور اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ بے چارہ مولوی مجرم نہیں ہوتا، مجرم نے اس کا حلیہ چرایا ہوا ہوتا ہے‘‘۔

اصل بات یہ کہ ابتدائی طور پر مسجد تو تھی ہی کثیر المقاصد جسے آج کی عام زبان میں ’’کمیونٹی سنٹر‘‘ کہہ لیں۔ سب سے بڑی مثال خود مسجد نبوی جو ہر اعتبار سے مسلمانوں کا محور و مرکز تھی۔ یہ تو علامت ہے تعلیم، تربیت، تنظیم، تہذیب، تمیز، ترتیب، توازن، تفکر اور ہر قسم کے نظم و ضبط یعنی ڈسپلن کی جس میں جسمانی، فکری، سماجی، روحانی، نفسیاتی، جذباتی غرضیکہ ہر قسم کا ڈسپلن شامل ہے جس کی پہلی اینٹ ہی پابندیٔ اوقات ہے، صفیں سیدھی رکھنے کا مطلب ہے زندگی کا ہر معاملہ سیدھا رکھنا، چھل فریب سے پاک معاملات اور طرز زندگی۔ وضو بھی ظاہر ہے جسمانی اعضا کی صفائی تک ہی محدود نہیں بلکہ آنکھ سے لے کر روح تک کی پاکیزگی بھی اس میں شامل ہے اور سجدہ ......... سبحان اللہ۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے اور مسجد - سعدیہ طاہر

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

سوچ سمجھ کر دیا ہوا ایک سجدہ زمین کو زمینی خدائوں سے پاک کرسکتا ہے۔ پورے معاشرے کو زندہ بتوں اور ان کے استحصال سے نجات دلا سکتا ہے، لیکن سجدہ سچا ہو، اتنا سچا کہ تیر جسم میں پیوست تھا اور نکالنا محال تو فرمایا ’’جب سجدہ میں جائوں تو نکال لینا کہ سجدہ کے دوران خوف خدا سے فولادی جسم موم ہو چکا ہوتاہے۔‘‘ باجماعت نماز کا مطلب صرف کندھے سے کندھے ملانا نہیں کہ اصل ہدف تو دلوں کو دلوں سے ملانا ہے۔تو جو سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صداترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میںسجدہ سچا ہو تو پرشیا، روما جیسی سپرپاورز بھی سرنگوں ہو جاتی ہیں، اگر اس میں کھوٹ ہو تو ’’تجھے کیا ملے گا نماز میں؟‘‘ والی کبھی نہ ختم ہونے والی رات مقدر ہو جاتی ہے۔مسجد اور تجاوزات مسجد اور قبضہ کی زمین پریہ تو ممکن ہی نہیں اور اگر کہیں ایسا ہے تو وہ مسجد ہی نہیں کہ سجدوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ سچا سجدہ تو زندہ معجزہ ہوتا ہے جو دنیا کی امامت کے درکھول دیتا ہے اور یہ صدیوں پہلے ہو بھی چکا ۔

دوسرے موضوع کا تعلق بھی تعلیم و تربیت، تفکر تدبر سے ہے۔ وومنز ڈے پر کچھ بیبیوں نے اسلام آباد میں کوئی ایسا عورت مارچ کیا جس کی گونج ابھی تک فضائوں میں ہے۔ تفصیلات کو چھوڑیں صرف اس مارچ کے مرکزی خیال پر غور فرمائیں۔ ’’میراجسم میری مرضی‘‘ بالکل صحیح بات ہے....... سو فیصد درست۔ اگر جسم تمہارا ہے تو مرضی بھی یقیناً تمہاری چلے گی اور چلنی چاہیے، لیکن کیا واقعی یہ جسم تمہارا ہے؟ یا خالق و مالک و رازق کی امانت ہے جو چند سانسوں، چند سالوں کے لئے امانت کے طور پر تمہیں سونپا گیا تو خود ہی سوچ لو دیانت کا تقاضا کیا ہے۔ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق یوں یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

یہ بھی پڑھیں:   بچے اور مسجد - سعدیہ طاہر

جسم ہمارا تمہارا ہوتا تو خود کشی حرام نہ ہوتی۔ یہاں کچھ بھی تو ہمارا تمہارا نہیں، کیا ہم اپنی مرضی سے پیدا ہوتے ہیں؟ کیا ہمیں ماں باپ کے انتخاب کا اختیار ہے؟ کیا ہم بہن بھائی خود منتخب کرتے ہیں؟ کیا ہم پیدا ہونے کے لیے گھر، خاندان، شہر، ملک یہاں تک کہ مذہب کا بھی اختیار رکھتے ہیں؟ کیا ہمیں اپنی شکل صورت، رنگ، جسامت، افتاد طبع پر کسی بھی قسم کا کوئی اختیار ہے؟ کیا موت ہمارے اختیار میں ہے؟ نہیں...... ہرگز نہیں، نیک دل بیبیو! جسم تو کیا........ یہاں کچھ بھی ہمارا نہیں کہ ہم تو اپنے بلڈ گروپ کے سامنے بھی بے بس ہیں۔ اور یہی اصل کام، اصل امتحان ہے’’ اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘‘۔ نہ جسم میرا، نہ مرضی میری نہ آغاز مرے بس میں، نہ انجام مرے بس میں۔ لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلےاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے۔