مذہب ذاتی معاملہ یا اجتماعی ضرورت - تنویر احمد

کل ایک دوست سے ملاقات ہوئی ۔ موصوف ایک سرکاری محکمہ میں اونچی پوسٹ پر اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے اور انتہائی قابل اور پڑھی لکھی شخصیت ہے۔ چائے پینے کے دوران یورپ کی سماجی اور مادی ترقی پر بات شروع ہوگئی۔ ان کے انداز گفتگوسے لگ رہا تھا کہ وہ مغرب سے بہت متاثرہے ۔کہنے لگے کہ یورپ کی ترقی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مذہبی شدت پسندی سے کوسوں دور ہے اور ان کے معاشرے میں مذہب کو ذاتی حیثیت سے آزادی حاصل ہے اور مذہب کو ذاتی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کو خوشحال اور ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ایسے معاشرے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جہاں مذہب کو صرف ذات تک محدودرکھا جائے۔ ہمارے معاشرے میں ایسا پڑھا لکھا طبقہ موجود ہے جو اس قسم کے خیالات کا حامل ہے۔ اس لیے مجھے موضوع پر لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میںاپنے کالم میں ایک اسلامی معاشرے کا مغربی معاشرے سے اور نہ ہی اسلام کا دوسرے مذاہب سے موازنہ کروں گا کیونکہ اسلام ہر لحاظ سے دوسرے مذاہب سے ممتاز اور برتر ہے لیکن جہاں تک مذہب کوذاتی حیثیت دینے کا معاملہ ہے تو میں اس بات سے شدید اختلاف رکھتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگ اسلام کا علم صرف کلمے کی حد تک رکھتے ہیں۔

اگر اللہ کے نزدیک مذہب کوذات تک رکھنا مقصود ہوتا تو نبی اکرمﷺ کبھی غار سے اتر کر شہر میںتشریف فرما نہ ہوتے، کبھی طائف کی وادی میں جاکر اپنے جسم مبارک کو لہولہان نہ کرواتے، کبھی اُحد میں اپنے دندان مبارک شہید نہ کرواتے۔ اگر مذہب ذاتی معاملہ ہوتا تو دین آج مکہ و مدینہ تک محدود ہوتا۔ اگر دین کو ذاتی حیثیت حاصل ہوتی تو حضرات ابوبکر ؓو عمرؓ اپنے گھر کا پورا مال اس دین کو وسعت دینے کے لیے خرچ نہ کرتے اور اگر مذہب واقعی ذاتی معاملہ تھا تو یہ بات اللہ کے نبی کے لاڈلے نواسے اور جنت کے نوجوانوں کے سردار حضرت حسینؓ کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی جو اپنے نانا پر اترنے والے دین کی حفاظت اور اس کی بالا دستی قائم کرنے کے لیے اپنے اہل بیت کے ہمراہ مدینے سے کربلا تک کا کٹھن سفر طے کرتے ہیں اور وہاں بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہوئے آخر کار اپنا سر کٹوادیتے ہیں تاکہ دین رہتی دنیا تک قائم رہے۔ اگر دین ذاتی معاملہ تھا تو کیا ان مقدس اور پاکیزہ ہستیوں کی قربانیاں کسی دنیاوی مقصد کے حصول کی خاطر تھی؟ (نعوذباللہ)

جہاں تک مغربی معاشرے اور دوسرے مذاہب کی بات ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک ان کے مذہبی علماء اور دیگر مذہبی جماعتیں اپنے فرائض سرانجام دیتی رہی ہیں تب تک ان میں خیرکا عنصر موجود رہا ہے لیکن جب ان لوگوں نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتنا شروع کی اور مذہب کو ذاتی حیثیت دی تو ان کااخلاقی انحطاط شروع ہوگیا جس کا نتیجہ آج یہ ہوا کے وہ لوگ جیسے جیسے مادی ترقی کی معراج حاصل کررہے ہیں۔ ویسے ویسے اخلاقی پستی کی انتہا کوپہنچتے جارہے ہیں جو یقینا گھاٹے کا سودا ہے۔ جبکہ اسلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔

اسلام اپنے پیروکاروں کی اخلاقی تربیت پر زور دیتا ہے۔ اسلام میں اس بات کی قطعی گنجائش اور اجازت نہیں کہ مذہب کو ذاتی معاملہ قرر دیا جائے اور نہ ہی اسلامی تاریخ میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتے ہیں (ترجمہ) تم بہترین امت ہو جولوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کی گئی ہو تم نیک کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو (سورہ آل عمران 3:110) اس آیت میںواضح طور پر کہاگیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے پیدا کیے گئے ہو اور جب بات لوگوں کو نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے کی ہو تو یہ تب ہی ممکن ہے جب مذہب ذات کے تنگ دائرے سے نکل کر معاشرے میں اجتماعی طور پر اپنا کردارادا کرے گا۔ اس لیے مذہب کو ذات تک محدودکرنااور اس کو ترقی کی وجہ قرار دینا پڑھے لکھے طبقہ کی نا انصافی اور اسلام اور اسلامی نظام حیات سے ناواقفیت کا مظہر ہے۔