کیا قانون کی لاقانونیت کا بھی کوئی علاج ہے؟ رانا اورنگزیب رنگا

یہ پاکستان ہے، اس میں کہنے کو تہتر کا آئین موجود ہے، مگر آئین کی عملداری کہیں نظر نہیں آتی۔ عدالت ہو یا تھانہ، ہسپتال ہو یا پٹوار خانہ، سب جگہ پہلے آپ کو کوئی واقفیت یا سفارش تلاش کرنا پڑے گی۔ دوسرا رستہ رشوت کا ہے جو سفارش و واقفیت سے بھی زیادہ کارگر ہے۔ تیسرا اور سب سے مشکل رستہ قانونی ہے مگر قانون کہیں موجود نہیں۔ قانون کی حدود کا تعین بھی سائل کا سٹیٹس دیکھ کے طے ہوتا ہے۔ جہاں تک رشوت پھیلے گی وہاں تک قانون سکڑے گا، جہاں تک سفارش اور تعلقات کا دائرہ وسیع ہوگا وہاں تک قانون کا دائرہ تنگ ہوگا۔ مگر سائل کے بے بس و لاچار ہونے کی صورت میں قانون کے اختیارات لامحدود ہوتے ہیں۔

پاکستان کے طول وعرض میں قانون کی لاقانونیت کے لاکھوں افسانے بکھرے پڑے ہیں۔مگر کہیں شنوائی نہیں، ہم عوام خود ہی تماشا خود ہی تماشائی ہیں۔ ایک طرف اگر ارباب اقتدار نے قانون کی لاقانونیت کو نکیل ڈالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، وہیں عوام نے بھی بےبس کینچوے کا کردار ادا کیا کہ جس کو بچہ پکڑے یا بڑا وہ بس کسمسانے کے علاوہ کوئی مزاحمت نہیں کرتا۔

قانون کی تمام لاقونیت کی بدترین شکل پولیس کی صورت میں ایک مسلسل عذاب کی طرح عوام پر مسلط ہے۔ ایسے ایسے شاہکار کارنامے پولیس نے سرانجام دیے کہ انسانیت منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ ان قانونی درندوں نے ایسے ایسے عوام کو بھنبھوڑا ہے کہ الامان والحفیظ۔ مگر لبرل این جی اوز اور پیڈ دانشور ہر وقت فوج کو مطعون کرتے ہیں کیونکہ فوج ان کے آقاؤں کے ایجنڈے کی تکمیل میں واحد رکاوٹ، جبکہ پولیس ان کی مدد گار ہے۔ فوج اگر کسی مجرم کو بھی گرفتار کرلے تو فوراً مسنگ پرسن بلوچ محاذ اور موم بتی آنٹیاں ایکشن میں آجاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہاہا کار مچ جاتی ہے جبکہ پولیس روزانہ بھی بےگناہوں کو اٹھاتی پھرے، جعلی پولیس مقابلوں کا ڈرامہ رچائے مگر ان کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ میرے علم میں آنے والا تازہ ترین کارنامہ جو کہ تھانہ صدر سمندری کے ہونہار قابل اور بہادر انچارج کی طرف سے سر انجام دیا گیا، اس تحریر کو لکھنے کا محرک بنا۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈاکے مارتی پولیس کا ہاتھ کون روکے گا - محمد عنصر عثمانی

واقعہ یہ ہے کہ ایک مفرور ملزم کو پکڑنے کےلیے اس کے محکمہ تعلیم کے ملازم والد اور ایک دماغی مریض بھائی کو اٹھا لیا گیا۔ اور پھر رات دس بجے اس کے ماموں زاد بھائی کو گھر کی دیواریں پھلانگ کے اٹھایا گیا۔ تین دن تک ان کو ایس ایچ او تھانہ صدر سمندری نے اپنے نجی ٹارچر سیل میں رکھا، جب اہل علاقہ نے تھانے میں چکر پہ چکر لگائے تو سمندری کے بہادر افسر نے اپنی پیشہ ورانہ قابلیت کے زور پر تین بےگناہوں پر کیس بنایا کہ ان تینوں نے ڈنڈوں اور کلہاڑیوں سے حملہ کر کے دس پولیس اہلکاروں سے مفرور ملزم چھڑوا لیا۔

سوال یہ ہے کہ پھر ان دس اہلکاروں کو پولیس میں رہنے کیوں دیا جائے جن کے قبضے سے صرف تین ملزم ایک گرفتار شدہ مجرم کو چھڑوا لیں۔ چلیں یہ تو محکمے کا کام ہے کہ اپنے ملازمین سے ان کی بہادری و فرض شناسی کا جواب مانگے یا ان کو کسی تقریب میں خرج تحسین پیش کرے۔ ہمارا سوال تو یہ ہے کہ جن تین ملزمان نے حملہ کرکے مفرور کو فرار کروایا، وہ خود کیسے گرفتار ہوگئے؟ یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے ضمیر نے ان کو ملامت کی ہو کہ ہم سے ایک جرم سرزد ہو چکا ہے، اب خود کو قانون کی لاقانونیت کے حوالے کردینا چاہیے، تاکہ مذکورہ ایس ایچ او صاحب تینوں باجماعت گالیوں تھپڑوں اور ٹھڈوں سے سرفراز فرما سکیں۔

جب اہل علاقہ ڈی ایس پی صاحب کے پاس گئے تو انہوں نے اپنے ماتحت اہلکاروں کی اس بہادری و فرض شناسی کی خوب تعریف کی۔ کیوں نہ کرتے آخر کو حصہ تو ملتا ہی ہے نا۔ ایس پی صاحب تاندلیانوالہ والا سرکل کے الفاظ تو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ فرماتے ہیں کہ جی ہم پر اوپر سے دباؤ ہے، ذرا سا صبر کرلیں، آپ کے بندے آپ کو مل جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدارا سٹریٹ کرائم کو روکیے - راجہ احسان

میں نے وزیراعظم صاحب کے سیٹیزن پورٹل میں درخواست دے دی ہے جس کے ردعمل میں انھی ایس پی صاحب کو تفتیش کا حکم دے دیا گیا جن کے حکم سے یہ سب ہو رہا ہے۔ جناب وزیراعظم صاحب! بس یہ بتا دیں عوام جائیں تو جائیں کہاں؟ کیا اس قانون کی لاقانونیت کا بھی کوئی علاج ہے؟