چاند اور مریخ والوں کا قبلہ کیا ہوگا؟ حافظ محمد زبیر

جناب مبشر زیدی کی ایک تحریر نظرسے گزری کہ جس میں انہوں نے اپنے تئیں مذہب کے مقدمے پر بڑے عقلی ومنطقی اعترضات کھڑے کر دیے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ان کے اوہام ہیں جیسا کہ ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب اور ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب نے اس طرف اپنی تحریروں کے ذریعے توجہ دلائی ہے۔ مثال کے طور جناب مبشر زیدی کا کہنا ہے کہ: "مذہب کے پاس اکیسویں صدی کی دنیا کے بہت سے سوالات کے جواب نہیں ہیں۔" اور اس کی مثال انہوں نے یوں بیان کی کہ: "آج اسلام کا مرکز خانہ کعبہ ہے لیکن سوچیں کہ کل انسان چاند یا مریخ پر آباد ہوگیا تو کس طرف منہ کرکے نماز پڑھے گا؟ مذہب اس بات کا جواب نہیں دیتا کیونکہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے یہ سوال پیدا نہیں ہوا تھا۔ آپ کسی ملا سے بات کرکے دیکھیں، وہ آج بھی اس بات کا جواب نہیں دے گا۔"

واللہ اعلم، حضرت نے مذہب کو کتنا پڑھ لیا جو انہیں مذہب میں اس سوال کا جواب نظر نہیں آیا اور اس بنیاد پر انہوں نے یہ دعوی کر دیا کہ مذہب آج کے سوالات کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ بھائی، چاند یا مریخ پر آباد ہونے میں تو معلوم نہیں کتنی صدیاں اور بیت جائیں لیکن مذہب نے وہاں پر نماز پڑھنے کے حوالے سے اصولی بحث پہلے سے ہی کر رکھی ہے۔ علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ فضاء (space) میں انسانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہوگا اور وہ زمین کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں گے۔ لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر جس طرف چاہیں رخ کر کے نماز پڑھ لیں۔

اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس کا لحاظ کر لیا تھا کہ اگر مسلمانوں کے لیے قبلہ رخ ہونا مشکل ہو جائے جیسا کہ سفر کے دوران قبلہ کی ڈائیریکشن معلوم نہیں ہو پا رہی یا جنگ کی حالت میں قبلہ رخ ہونا ممکن نہیں ہے تو اب اگر وہ کسی طرف بھی رخ کر کے نماز پڑھ لیں تو نماز ہو جائے گی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۔ ترجمہ: مشرق ومغرب اللہ ہی کے لیے ہیں، پس تم جس طرف بھی منہ کر لو، اس طرف اللہ کی ذات ہے۔ اسی طرح صحیح بخاری کی روایت میں ہے: كَانَ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ وَهُوَ رَاكِبٌ فِي غَيْرِ الْقِبْلَةِ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل نماز ادا کرتے تھے اور سواری قبلہ رخ نہیں ہوتی تھی۔ تو فرض نماز میں پہلے قبلہ رخ ہونے کا اہتمام کرے اور اگر ممکن نہ ہو جیسا کہ ہوائی جہاز وغیرہ میں تو وقت پر نماز ادا کر لے، چاہے رخ کسی طرف بھی ہو۔

اللہ عزوجل نے خود اس دین اسلام میں اتنی لچک (flexibility) رکھ دی ہے کہ یہ قیامت تک آنے والے حالات وواقعات میں قابل عمل رہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ترجمہ: اللہ کا تقوی اختیار کرو، اپنی استطاعت کے مطابق۔ صحیح مسلم کی روایت میں ارشاد ہے: إذا أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم۔ ترجمہ: جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں، تو اس پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کر لو۔ صحیح مسلم کی ایک اور روایت کے مطابق جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دجال کی آمد کے وقت ایک دن ایک سال کے جتنا لمبا ہو جائے گا تو صحابہ نے عرض کیا تو پھر کیا ہم اس دن میں صرف ایک دن کی نمازیں پڑھیں گے یعنی پانچ نمازیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، اپنے اندازے سے پڑھو گے۔ تو ہم پر ہماری استطاعت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا ہی نہیں گیا کہ ہم کہیں کہ مذہب قابل عمل نہیں رہا لیکن ایک بات اہم ہے، مبشر زیدی صاحب کی استطاعت کا تعین مولوی صاحب ہی کریں گے، نہ کہ وہ خود!