سال پھر بدل رہا ہے - امجد طفیل بھٹی

نئے سال کی آمد آمد ہے مگر حالات میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آ رہا۔ الیکشن ہوگئے حکومتیں نئی بن گئیں صدر ، وزیراعظم ، وزارا ، وزارا اعلیٰ سب تبدیل ہوگئے مگر عام عوام کی نظریں ابھی بھی تبدیلی کی منتظر ہیں۔ عوامی نمائندے جو کہ الیکشن سے پہلے اپنے آپکو حقیقی عوامی نمائندے اور عوام کی امنگوں کے ترجمان کہلوانے کے شوقین تھے اب عوام سے دوریاں بڑھانے لگے ہیں۔ سب کچھ تبدیل ہوگیا ہے مگر حکومتی وعدے اور بیانات ہیں کہ تبدیل ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی جماعت تحریک انصاف ملک میں تبدیلی تو یقیناً لا چکی ہے مگر چار مہینے ہو چکے ہیں عوام خاص طور پر متوسط اور غریب طبقہ کے حالات زندگی پہلے سے بھی بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ بازار سے کوئی چیز خریدنے جائیں تو ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ ڈالر کا ریٹ تو دیکھیں کہاں پہنچ گیا ہے۔ اب ایک کم پڑھے اور دیہات میں رہنے والے پاکستانی کو کیا خبر کہ سبزی ، آٹے اور دال چاول کے ساتھ ڈالر کا کیا تعلق ہے ؟ اْسے کیا خبر کہ آئی ایم ایف سے قرضہ کی شرائط کے پیچھے چھپی حقیقت کیا ہے ؟ اْسے کیا خبر کہ ملکی خزانہ خالی ہے ؟ اْسے اس بات سے کیا لینا دینا کی درآمدات اور برآمدات میں توازن کیا ہوتا ہے ؟ ان سب معاملات کا عام عوام کے ساتھ اس لیے بھی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ تو پہلے کی طرح بدحال ہی ہے ، پہلے سے زیادہ محنت کرنے کے باوجود اسکے حالات تو جوں کے توں ہیں۔ وہ تو پہلے بھی بچوں کے سکول کی فیسوں پہ روتا تھا آج پہلے سے بھی زیادہ پریشانی کا شکار ہے۔ وہ تو پہلے بھی علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں کے دھکے کھاتا تھا آج پہلے سے بھی لمبی لائن میں لگ کر پرچی حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ اسکے گھر میں پہلے بھی بمشکل دو وقت کا کھانا بنتا تھا آج اس سے بھی زیادہ مشکل سے دو وقت کھانا میسر ہے۔ معیشت ، بجٹ ، انکم ٹیکس ، اور اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا نہ پہلے غریبوں کو پتہ تھا اور نہ آج ملک کی بیشتر آبادی اس گورکھ دھندے سے واقف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اور آپشنز، بس ایک ہی آپشن ہے - پروفیسر جمیل چودھری

عام عوام کی بلا سے کہ منی بجٹ آنے والا ہے ، ٹیکس نیٹ بڑھایا جارہا ہے ، حکومتی اخراجات میں کمی لائی جارہی ہے اور وزیروں کے بیرون ملک علاج پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ عوام کو غرض ہے کہ بس اْسے زندگی گزارنے کے لیے ضروریات زندگی یعنی علاج ، بچوں کی تعلیم ، بجلی ، گیس اور پانی اسکی قوت خرید کے اندر مل رہا ہے۔ اْسے اس بات سے غرض نہیں ہے کہ وزیروں کے پاس گاڑیاں اور گارڈز کتنے ہیں اْسے اس بات سے غرض ہے کہ اسکا عوامی نمائندہ اسے میسر ہے کہ نہیں۔ عام عوام کو غرض نہیں کہ آئی جی پولیس کون ہے اور پولیس کی یونیفارم کا رنگ کیا ہے اسے غرض ہے تو اس بات سے کہ تھانے میں اسکی داد رسی ہورہی ہے کہ نہیں۔ اْسے اس بات سے غرض نہیں کہ وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی بنا دیا جائے اسے اس بات سے غرض ہے کہ اسکے بچوں کو سرکاری سکولوں میں مفت تعلیم اور کتابیں مہیا ہیں کہ نہیں۔ اْسے اس بات سے غرض نہیں کہ اسکا صدراور وزیراعظم کہاں سے علاج کراتے ہیں اسے اس بات سے غرض ہے کہ اسکو سرکاری ہسپتال میں مفت طبی سہولیات میسر ہیں کہ نہیں۔ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ بنی گالہ ، رائے ونڈ محلات اور بلاول ہاؤس کا رقبہ کتنا ہے اسے غرض ہے تو اس بات سے کہ اسکے سر پہ چھت اسکی اپنی ہے یا کرائے کی ہے۔

پاکستان میں عام اور غریب عوام ہر سال کے اختتام پر اس امید پہ ہوتے ہیں کہ شاید نیا آنے والا سال پہلے سے کچھ مختلف ہوگا، اسی آس پہ ستر سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے ، کئی حکومتیں بدلیں ، جمہوریت ، آمریت ، جمہوری آمریت اور آمرانہ جمہوریت سب نے باری باری طبع آزمائی کی، ڈکٹیٹر جمہوریت پسندی کا درس دیتے رہے اور جمہوریت پسند خود سے ڈکٹیٹر بن کر عوام کی قسمت کے فیصلے اپنے اپنے ڈرائنگ رومز میں کرتے چلے گئے ، ذاتی مفاد کے حامل منصوبے عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے چلے گئے ، رشوت اور سفارش کے بل بوتے پر نااہل لوگ اعلیٰ عہدوں تک پہنچ کر میرٹ کا گلا گھونٹتے چلے گئے مگر ہر بار متاثر صرف اور صرف عام آدمی ہی ہوا۔ روزگار ختم ہوا تو غریب کا ہوا ، گھر میں فاقے آئے تو غریب کے گھر آئے ، امیر امیر تر ہوتا گیا اور غریب غریب ہوتا گیا۔ سب نے اپنا اپنا سوچا اور ملک کا کسی نے نہ سوچا۔ غریب کو اپنے معاملات سے فرصت نہیں اور امیر کو اپنی دولت بچانے سے فرصت نہیں ، غریب ملک کی خاطر قربانیاں دیتے رہے اور امیر ملک کو دوسرا وطن سمجھ کر اپنی جائیدادیں اور سرمایے بیرون ملک منتقل کرتے رہے۔ ہمارے حکمرانوں کی اولادیں باہر ، کاروبار باہر جبکہ مرنے کے لیے اور اْنہیں اقتدار تک پہنچانے والے پاکستان کے وہ غریب عوام جن کے پاس کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی نہیں۔نہ جانے کب ہمارے حکمران پاکستان کی پالیسیاں غریب عوام کو مدنظر رکھ کر بنائیں گے ؟ سال کے بدلنے سے حالات کے بدلنے کا تعلق ہر گز نہیں ہے بلکہ عوام کو اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے جو کہ خود اپنے ہاتھوں سے مہریں لگا کر ان لوگوں کو اقتدار سے نوازتے ہیں جن کا غربت اور غریب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.