کپتان کی مدنی ریاست - عالم خان

ہوا کچھ یوں کہ پاکستانی عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے ڈھول کے تھاپ اور ڈی چوک میں رقص کی مخلوط محفلوں سے مدنی ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا، نعرہ بہت دلفریب تھا اس لیے ہر کوئی پروانوں کی طرح اس شمع پر ٹوٹا پڑتا تھا، اور پھر اسی ریاست کی بنیاد انتخابات سے پہلے ایک اللہ کے ولی کے در پر حاضری اور سجدہ سے کی گئی، جس سے کافی قبر پرستوں کے دل جیت لیے گئے اور اس پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ارض حجاز میں بغیر جوتے گرم زمین پر چلنے کی ریہرسل بھی کی گئی جس سے بچے کچھے عاشقان رسول (ص) کے شک کو یقین میں بدلنے کی کوشش کی گئی جو کافی حد تک کامیاب ہوگئی۔

اس وقت خیال یہ تھا کہ خلافت کا قیام اگر قریب نہیں تو فلاحی ریاست کا قیام دور بھی نہیں کیونکہ اسد عمر جیسے ماہرین معاشیات کی طرف سے تیل اور ڈالر کی قیمتوں میں کمی جیسے بلند بانگ دعوے اے آر وائی نیوز چینل پر اکثر نشر ہوتے تھے، اس لیے بیرون اور اندرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ تمام اداروں نے بڑھ چڑھ کر اس ریاست کو بالآخر (٢٥) جولائی کو بنا لیا، اور اسی طرح پاکستان کا نام نیا پاکستان رکھ کر کپتان نے ایک نئی اننگ کا آغاز کیا۔

مدنی ریاست کا نقاب اترنے کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ایک متدین اور داعی قادیانی کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا گیا، جس پر اہل ایمان نے بھرپور احتجاج کرکے وزیر اطلاعات کے دعووں اور دھمکیوں کے باوجود کپتان کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کردیا، اس چنگاری میں تھوڑی سی آگ باقی تھی کہ مدنی ریاست میں راتوں رات ایک ایسے کیس کا فیصلہ یورپین ممالک کے دباو پر کیا گیا جس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں نو سال لگ گئے تھے، تمام سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر ایک ایسے معاہدہ ( سینٹ کتھرین) کا حوالہ دے کر چھوٹے طبقے کو خاموش کر دیا گیا جس کا کوئی وجود نہیں اور یہ یقین دہانی کی گئی کہ آسیہ کا نام ای سی ایل میں ڈالا جاے گا اور دوبارہ نظر ثانی کی اپیل بھی کی جائیگی، ای سی ایل تھا نہ نظرثانی اور یوں مدنی ریاست سے آسیہ کو یورپ روانہ کیا گیا جہاں نہ صرف اس کا پرتپاک استقبال ہوا بلکہ وقت کے قاضی القضاۃ کو تعریفی کلمات سے بھی نوازا گیا، اور اسمبلی میں موجود محمد علی خان اور شیخ رشید جیسے عاشقان رسول (ص) انا للّٰہ وانا الیہ راجعون تک نہ کہہ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   جامعۃ الرشید کے حضرات کی خدمت میں - محمد بلال خان

اس مدنی ریاست میں حکومتی سرپرستی میں پھر ایک اور مغربی ایجنڈے پر کام کا آغاز ہوا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کپتان کے کھلاڑی نے حقائق کو مسخ کرکے تقریر کی اور کپتان کے ساتھ ساتھ محبت وطن پاکستانی خاموش رہے عوامی رد عمل اور تنقید کے بعد ایک ہدف کی طرف قدم بڑھایا گیا کہ پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنا چاہیے، جس کا حقیقی مدنی ریاست میں تصور نہیں تھا یہ ایک الگ بات ہے کہ پاکستان کا مسئلہ آبادی کا نہیں بلکہ کرپشن اور لوٹ مار جیسے ناسور کا ہے جس کے کئی عدالتی تصدیق شدہ بد عنوان کپتان کے آس پاس موجود ہیں، لیکن کپتان کو صرف شریف برادران کا احتساب کرنا تھا اس لیے اس موضوع کو تاحال بند کردیا گیا۔

فلاحی ریاست کے منتظر بیرون ملک پاکستانیوں کو دن میں تارے اس وقت دکھاے گئے جب ان پر اپنے بچوں اور خاندان کے لیے ایک سے زاید موبائل فون لانے پر ٹیکس لانے کا نہ صرف اعلان کیا گیا بلکہ ان کے اچھے دن دیکھنے کے خوابوں کو بھی انڈون سے معیشت چلانے کی پالیسی سے چکنا چور کیا گیا۔

اس وقت تک اکثر لوگ اضطراب کا شکار تھے کہ کپتان کا مقصد مدنی ریاست سے کیا ہے؟ اور جو معمولی سا ابہام تھا وہ اس وقت دور ہوا جب کپتان کے اقلیتی کھلاڑی نے شراب پر پابندی کا بل پیش کیا تو اس کو نہ صرف مدنی ریاست کے شوری (اسمبلی) نے بھاری اکثریت سے رد کیا بلکہ وزیر اطلاعات موصوف نے اس کو پبلسٹی قرار دیا، اور ساتھ ہی قومی چینل پر واضح کیا کہ جس کو پینی ہے وہ پئیں گے مدنی ریاست کو اس سے کیا؟

آتش فشاں کا یہ سلسلہ یہاں رک نہیں گیا بلکہ وزیر اطلاعات اور دیگر صوبائی وزراء کی طرف سے آئے روز مدنی ریاست میں نئے منصوبوں اور اہداف کے اعلانات سننے کو ملتے ہیں ابھی بسنت، کرسمس کی تقریبات سرکاری طور پر منائی جائیں گے اور سنیماؤں کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی تاکہ اس پر طارق جمیل صاحب کے اصلاحی بیانات چلائے جائی اور اسلامیات کو اقلیتوں سے پڑھایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا زوال کب شروع ہوگا؟ سہیل وڑائچ

ارے نادانو! مدنی ریاست صرف رسول اللہ (ص) اور خلفاے راشدین کی نہیں بلکہ حجاج، یزید اور معتصم کی بھی تھی جہاں زندگی اجیرن بن گئی تھی جہاں لوٹ مار کے ساتھ ساتھ قتل وغارت اور شراب وکباب کے محفلوں سے بھی دلجوئی کی جارہی تھی، لہذا کپتان کو معذور سمجھیے اور مدنی ریاست کے مفہوم کو وقائع سے پہچاننے کی کوشش کریں۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • عالم خان صاھب۔لکھتے وقت ذاتی اور گروہی تعصبات کو ایک طرف رکھ کر موضوع پر خامہ فرسائی کی جائے تو تحریر کی قبولیت اور اہمیت بڑھ جاتی ہے۔آپ نے لفظ قبر پرست استعمال کیا جو دنیا میں کوئی فرقہ موجود نہیں ۔ھاں البتہ مسلکی تعصب کے ماروں کی زھنی اختراع ضرور ہے۔بالکل جیسے آپ کو اگر گستاخ اور بے ادب لوگوں کا پیروکار بتا دیا جائے تو آپ کو گران گزرے گا۔لہذا اھتیاط کریں