ڈھاکہ فوک فیسٹول میں اردو سے محبت - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

چند روز قبل ایسے ہی یو ٹیوب پر مٹر گشتی کے دوران اچانک شفقت امانت علی اور ڈھاکہ فوک فیسٹول کے الفاظ نظر آئے ۔ دسمبر میں ویسے ہی مشرقی پاکستان دل و دماغ پر چھایا رہتا ہے۔ مجھے تجسس ہوا کہ دیکھوں تو سہی کہ یہ کیا معاملہ ہے ۔ معلوم ہوا کہ نومبر میں ڈھاکہ میں ایک ثقافتی میلہ منعقد ہوا جس میں مختلف ممالک سے گلوکاروں نے بھی حصہ لیا۔

میں نے جھٹ شفقت امانت علی خاں کی پرفارمنس والے لنک پر کلک کیا۔ وہاں ایک تو ان کا مشہور و معروف نغمہ "کھماج" تھا اور دوسرا فریدہ خانم کی گائی غزل "آج جانے کی ضد نہ کرو" شفقت کی آواز میں تھی۔ ہر عمر کے خواتین و حضرات سے کھچا کھچ بھرا اسٹیڈیم تھا اور شفقت امانت علی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ پھر میں نے دیکھا کہ شفقت نے حاضرین سے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ گائیں۔ مجھے لگا بنگالی شائقین کو آزمائش میں ڈال دیا گلوکار نے۔ لیکن میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب سارا پنڈال شفقت کے ساتھ لہک لہک کر اردو کے یہ نغمے گانے لگا۔ وہ بہت سے حاضرین کے سامنے مائیک لے کر گئے اور خواتین و حضرات نے بہت جوش و خروش سے مختلف مصرعے ادا کیے۔ اس وقت اچانک یہ بات ذہن میں آئی کہ بعض باتیں نہ تو محض ڈنڈے یا قانون سے منوائی جا سکتی ہیں اور نہ ہی عجلت میں ایسا کیا جا سکتا ہے۔ کہاں ملک کی قومی زبان کے خلاف لسانی فساد کا مرکز ڈھاکہ اور کہاں یہ کہ آج اسی زبان میں پورا اسٹیڈیم نغمہ سرا ہے اور خوشی و انبساط ہر چہرے سے عیاں۔
ڈھاکہ فوک فیسٹیول میں شفقت امانت علی خان کی پرفارمنس
مجھے لگا بہت سے معاملات میں دھیرج اور اپنائیت وہ نتائج دے سکتے ہیں جن کا جوش اور زبردستی کے ماحول میں تصور بھی نیں کیا جا سکتا۔ کاش ہم 1971 کے بحران میں معاملات کو اسی پیرائے میں حل کر پاتے۔ تھوڑا وقت گزار پاتے تو شاید بھڑکے ہوئے جذبات کچھ سرد پڑ جاتے اور سیاسی پیشرفت کو موقع مل سکتا۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ ہم برصغیر والوں کو جدا ہونا بھی نہیں آتا۔ دراں حالیکہ اگر کچھ دوراندیشی سے کام لیا جائے تو دورس نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، یا کم از کم ان کی کوشش تو ہو سکتی ہے۔ مثلاً میرا خیال ہے کہ اگر اربوں ڈالر اسلحہ میں خرچ کرنے کے بجائے بھارت کے رہنما صرف یہ کرتے کہ اردو کو بھارت کی سرکاری زبان بنا دیتے تو یہ ترپ کا پتا ثابت ہو سکتا تھا۔ یہ ایسی چال تھی کہ اس کے سامنے پاکستان کا پورا تخیل زمین بوس ہو سکتا تھا۔ خدا کا شکر ہے انہیں یہ خیال نہیں آیا۔

ایسے ہی پاکستان نے بھی بنگلہ دیش بننے کے فوراً بعد گویا جان چھڑانے والا کام ہی کیا اور اس سے ہر قسم کا تعلق توڑ لیا۔ ٹھیک ہے ان کے ہاں ہمارے لیے تلخی تھی ۔۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں تو ایسا نہیں تھا۔ اگر ہم صرف دو کام کر لیتے تو وہاں کی آبادی کے لیے پاکستان سے تعلق توڑنا اتنا آسان نہ رہتا۔ ایک تو یہ کہ پاکستان کے کرنسی نوٹ پر بنگلہ میں تحریر جاری رہتی۔ ہمارا کیا جا رہا تھا اس میں۔ نوٹ تو چھپ ہی رہے تھے۔ یہ ہمارے لیے بھی ایک یاد دہانی کا سامان رہتا اور عبرت کا بھی۔ دوسرا یہ کہ پاکستان وہاں کے لوگوں کے لیے ویزا کے بجائے کسی اور دستاویز کو لاگو کرتا جس سے بالخصوص فنکاروں، صحافیوں اور طالب عملوں کی آمد و رفت آسان ہو جاتی ۔ انہیں لگتا کہ یہ کچھ اسپیشل رعایت ہے ان کے لیے ۔

پاکستان اور بھارت نے برطانیہ سے کچھ نہیں سیکھا۔ کیسے اس نے آدھی دنیا پر قبضہ کیا، ان پر حکومت کی لیکن آج بھی وہ سب سابق نو آبادیات ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ بھارت نے تو چلیں جو ہمارے ساتھ جو کیا سو کیا، لیکن ہمیں بنگلہ دیش کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان کا معاملہ کچھ اور تھا۔ گر ساتھ نہیں بھی رہ سکتے تھے، ساتھ ساتھ چل تو سکتے تھے۔ بس ایسے ہی چند منتشر خیالات ، آپ سے شیئر کر لیے۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */