فیس بک دیوار اور شیطان کی شیرہ کہانی - اسری غوری

کہتے ہیں گزرے وقت میں ابلیس سے ایک شخص کی ملاقات ہوئی، اس نے کہا کہ تم نے دنیا میں کیا فساد برپا کر رکھا ہے، جہاں دیکھو لوگوں کو لڑواتے ہو، فساد پھیلاتے ہو۔ ابلیس نے اس سے کہا، آؤ میں تمہیں تماشا دکھاؤں۔

اس شخص نے دیکھا کہ بستی کے بازار میں حلوائی نے ایک بڑے سے چولہے پر کڑاہی رکھی ہوئی تھی جس میں 'شیرہ' پک رہا تھا۔ ابلیس بولا، لو تماشا دیکھو۔ یہ کہہ کر اس نے 'شیرہ' سے ایک انگلی بھر کر اسے دیوار پر لگا دیا۔ 'شیرہ' کی بو سونگھ کر مکھیاں آگئیں، مکھیوں کو دیکھ کر چھپکلی نے تاک لگائی، کڑاہی کے قریب بلی بیٹھی تھی، بلی چھپکلی پر جھپٹی۔ اتفاق سے ایک حکومتی عہدیدار ادھرآ نکلا، اس کے ساتھ شکاری کتا تھا، کتے نے بلی کو جھپٹتے دیکھ کر اسے جا دبوچا۔ بلی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور حلوائی کے کڑاہے میں جا گری۔

حلوائی کو غصہ آیا۔ اس نے کتے کو ایسا کفچہ مارا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ کتے کے مالک نے حلوائی کو پکڑ کر مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا۔ اس پر محلے والے باہر نکل آئے اور انھوں نے اس عہدیدار پر حملہ کر دیا۔ اس کی پٹائی کی خبر اس کے ساتھیوں کو پہنچی تو وہ لشکر اور گولہ بارود لے کر آگئے اور بستی کو تباہ کر دیا۔

اس سب کے بعد ابلیس نے اس شخص سے کہا، دیکھا تم نے، میرا قصور صرف اتنا تھا کہ شیرے کی انگلی دیوار پر لگائی، باقی بکھیڑا کس نے کیا؟ لیکن کرنے والے کا نام کوئی نہیں لیتا۔ لوگوں نے بس مجھے ہی نشانہ بنا رکھا ہے۔

آج کل فیس بک کی دیواروں پر زور و شور سے "شیرہ لگائی مہم" جاری ہے اور جا بجا شیرے لگے دیکھ کر لوگ پہلے مکھیوں کی طرح کمنٹس میں پل پڑتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دھینگا مشتی شروع ہوتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔ بات بس یہیں تک رہتی تو بھی سہہ لیتے، مگر بات تو اس سے بھی آگے اور بہت ہی آگے نکل جاتی کہ ہر شخص اس شیرے میں انگلی بھر کر اپنے وال پر لگا کر تماشہ لگا لیتا۔ حیرانی کی انتہا نہ رہی جب اچھے اچھے سمجھدار اور "دانشور" لوگوں کو اس شیرہ مہم میں ملوث پایا اور وہ شیرہ ان دانشوران کی دیواروں سے ہوتا ہوا پھر آگے اور آگے، بہت دور پہنچ جاتا۔ ہم بھی کئی بار ایسے شیرے لگی دیواروں سے ہوتے شیرے کے اصل مالک تک پہنچے تو دیکھا وہاں تو بالکل حلوائی کی دکان والا سماں ہے۔ بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں جو ایسی ہر مہم سے بے نیاز اپنے کام پر لگے رہتے ہیں۔
فیس بک پر تین کٹیگریز بن چکی ہیں۔
1 : شیرہ لگانے والوں کی۔ 2 : شیرے پر مکھیوں، چھپکلیوں، بلی، کتے کی طرح چھپٹنے والوں کی۔ 3 : شیرہ مہم میں پیش پیش رہنے اور اس شیرے کو دیوار دیوار پہچانے والوں کی۔ 4 : آخری کٹیگری ان لوگوں کی جو اس سب کو دیکھتے تو ہیں مگر اس سے دوسو گز دور سے رہتے اور لوگوں میں بھلائی، برائی، نیکیاں، اخلاقیات، تربیت اور ایسے ہی بہت سے ضروی اور ہم کام سر انجام دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فیس ایپ یا ٹرک کی بتی - موسیٰ غنی

آپ اک بار ضرور جائزہ لیجیے آپ کس کٹیگری میں ہیں۔ اگر پہلی تین میں کسی بھی حوالے سے ہیں تو فورا سے بیشتر اپنی کٹیگری بدلنے کی فکر کیجیے اور اگر آخری اور چوتھی کٹیگری میں ہیں تو پھر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیجیے کہ اس نے آپ کو اس ابلیسی کھیل سے محفوظ رکھا اور جو کام کر رہے وہی کرتے رہیے، اور سلامت رہیے۔

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.