’’اکھنڈ بھارت‘‘کا کھیل؟ شاہنواز فاروقی

پاکستان کے سول اور فوجی حکمرانوں کو نہ بھارت سے دوستی کرنی آئی، نہ بھارت سے دشمنی کرنی آئی۔ اصول ہے: دوستی وہ نبھاتا ہے جو اپنی انا کو دوستی پر قربان کرسکے۔ اور دشمنی وہ کرسکتا ہے جو اپنی انفرادی اور اجتماعی انا پر اصرار کرے۔ پاکستان کے حکمران طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھارت کے سامنے قربانی پیش کرتا ہے تو اپنے نظریے کی، اپنی تہذیب کی، اپنی تاریخ کی۔ رہا اپنی انا پر اصرار کا معاملہ، تو امریکہ اور بھارت کے سامنے ہمارے حکمران طبقے کی کوئی انا ہی نہیں ہوتی… نہ انفرادی انا، نہ اجتماعی انا۔ امریکہ اور بھارت کے سامنے آتے ہی ہمارے حکمرانوں کی انا کا الف غائب ہوجاتا ہے اور وہ کہنے لگتے ہیں: دیکھو ہم نے آپ سے انا تھوڑی کہا ہے، ہم تو ’’نا‘‘ کہہ رہے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو عمران خان بھارت کے حوالے سے نوازشریف ثانی بن کر ابھرچکے ہیں۔ اس اجمال کی تفصیل رونگٹے کھڑے کردینے والی ہے، چنانچہ اسے آپ عمران خان کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔

عمران خان نے کرتارپور راہ داری کا ’’سنگِ بے بنیاد‘‘ رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’پاکستان نے بھارت کو امن اور خیرسگالی کا ’’تاریخی پیغام‘‘ دے دیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ فرانس اور جرمنی یونین بناسکتے ہیں تو پاکستان اور بھارت ایسا کیوں نہیں کرسکتے! انہوں نے کہا کہ ایٹمی طاقتوں کے مابین جنگ کا تصور پاگل پن ہے، چنانچہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی سیکھنے کے لیے ہے، رہنے کے لیے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام دوستی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، فوج اور تمام ادارے ایک ہی پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی مگر ہم مسئلہ کشمیر حل نہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلقات کے سلسلے میں دونوں طرف سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کی زنجیر کو توڑنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تجارت کے لیے سرحدیں کھولنا ہوں گی۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی، 29نومبر 2018ء)

پاکستان کے فوجی اور سول حکمران بھارت کے ساتھ دوستی، امن اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں، مگر ان کے مزاج میں ایسی پستی اور گھٹیا پن ہے کہ وہ مذاکرات، دوستی اور امن کو ’’بھیک‘‘ بنا دیتے ہیں۔ جنرل پرویزمشرف کارگل کے ہیرو تھے اور اس حوالے سے اکڑتے پھرتے تھے۔ اس کا جواز بھی تھا۔ پاکستان نے کارگل میں بھارت کی دو ڈویژن فوج کو پھنسایا تھا۔ اُس فوج کے پاس دو ہی امکانات تھے: بھوک سے مرجائے یا پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اپنی تاریخ میں پہلی بار امریکہ سے مداخلت کی بھیک مانگی۔ لیکن یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ جنرل پرویزمشرف کارگل کی بلندیوں سے اترے تو بھارت سے صبح شام مذاکرات کی بھیک مانگنے لگے۔ اللہ کے نام پر بھارت مذاکرات کرلے۔ بھگوان کے نام پر بھارت مذاکرات کرے۔ دوستی کے نام پر بھارت مذاکرات کرے۔ امن کے نام پر بھارت مذاکرات کرے۔ امریکی دبائو پر بھارت نے بالآخر جنرل پرویز کو مذاکرات کی بھیک دی۔ آگرہ میں مذاکرات ہوئے۔ جنرل پرویز نے مذاکرات میں کشمیر کو فروخت کر ڈالا، مگر بھارت نے عین وقت پر وہی کیا جو اُس کی فطرت ہے۔ اُس نے جنرل پرویزمشرف کے بھیک کے کٹورے کو زمین پر دے مارا اور جنرل پرویزمشرف کے پاس اگر کوئی منہ تھا تو وہ اپنا سا منہ لے کر پاکستان لوٹ آئے۔ اردو میں ایسی صورتِ حال کے لیے ایک محاورہ ہے ’’لوٹ کے بدھو گھر کو آئے‘‘۔

میاں نوازشریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے بھارت نوازی کی ایک نئی تاریخ رقم کرڈالی۔ انہیں مودی نے اپنی تقریبِ حلف برداری میں اسی طرح طلب کیا جس طرح بادشاہ سلامت کسی درباری، باج گزار کو دربار میں طلب فرماتے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ میاں صاحب نے اس ’’طلبی‘‘ کو بھی اعزاز باور کرایا۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات دو مذاہب، دو تہذیبوں، دو تاریخوں اور دو قوموں کے تعلقات ہیں، مگر میاں نوازشریف نے پاک بھارت تعلقات کو مودی اور نوازشریف کے تعلقات بنادیا۔ یہ محض اتفاق ہے کہ میاں صاحب اقتدار میں نہ رہے۔ وہ اقتدار میں رہتے تو بھارت ان کے گال پر بھی اسی طرح طمانچہ مارتا جس طرح اُس نے جنرل پرویزمشرف کے گال پر مارا تھا۔ عمران خان اور ان کی سرپرست فوجی اسٹیبلشمنٹ کی کوئی ’’خودی‘‘ ہوتی تو انہیں محسوس ہوتا کہ بھارت نے کرتاپور راہداری کا ’’سنگِ بے بنیاد‘‘ رکھنے کے موقع پر عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ہے۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے صاف کہا ہے کہ کرتارپور ایک الگ قصہ ہے اور دو طرفہ مذاکرات ایک الگ کہانی ہے۔ پاکستان کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے وہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی سرپرستی سے جان چھڑائے اور بھارت کو اپنی دہشت گردی سے محفوظ کرے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ دہشت گرد بھارت ہے مگر وہ دہشت گردی کا الزام پاکستان پر عاید کررہا ہے۔ کلبھوشن پاکستان کا نہیں بھارت کا جاسوس ہے، وہ بھارت میں نہیں پاکستان میں پکڑا گیا ہے۔ مگر کلبھوشن بھارت کو کیوں یاد ہوگا! عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے حافظے سے بھی اچانک کلبھوشن کا نام غائب ہوگیا، ایسا نہ ہوتا تو عمران خان کرتارپور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس کا تذکرہ ضرور کرتے۔ مگر عمران خان کا اصل جرم یہ نہیں ہے۔

عمران خان کا اصل جرم یہ ہے کہ وہ اکھنڈ بھارت کے راستے میں چل نکلے ہیں۔ پاکستان میں کوئی معقول شخص ایسا نہیں جو مسئلہ کشمیر کا حل نہ چاہتا ہو۔ پاکستان میں کوئی معقول شخص ایسا نہیں جو پاک بھارت مذاکرات کے حق میں نہ ہو۔ اس سلسلے میں محب وطن حلقے اگر کچھ کہتے ہیں تو صرف یہ کہ پاکستان بھارت کی باج گزار ریاست نہیں، چنانچہ بھارت کو پاکستان سے مذاکرات کرنے ہیں تو اسے پاکستان کو ’’مساوی حیثیت‘‘ دینی ہوگی۔ اس حوالے سے دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ پاکستان کے حکمران مسئلہ کشمیر پر ضرور مذکرات کریں مگر اصول کی بنیاد پر، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، قومی اتفاقِ رائے کو پیش نظر رکھتے ہوئے، کشمیریوں کے حقِ خودارادی اور ان کی بے مثال قربانیوں کا خیال کرتے ہوئے۔ مگر عمران خان فرمارہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت اسی طرح یونین بناسکتے ہیں جس طرح فرانس اور جرمنی نے یونین بنالی تھی۔ حضورِ والا یہ تو اکھنڈ بھارت کا تصور ہے، اور اگر مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو بھی اس یونین کا کوئی جواز نہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان فرانس نہیں ہے اور بھارت جرمنی نہیں ہے۔ یہاں ہمیں جنرل باجوہ اور عمران خان کی پسندیدہ شخصیت علامہ اقبال یاد آگئے۔ علامہ نے فرمایا ؎


اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

ان کی ملت کا ملک و نسب پر انحصار

قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری


مگر عمران خان اور ان کے سرپرست جنرل باجوہ کا خیال ہے کہ قومِ رسولِؐ ہاشمی اپنی ترکیب میں خاص نہیں ہے، ہماری جمعیت کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ جس طرح مغرب کی اقوام ملک و نسب پر یعنی جغرافیے اور نسل پر کھڑی ہوئی ہیں اسی طرح ہم بھی صرف جغرافیے اور نسل سے وابستہ ہیں۔ عمران خان اور ان کے سرپرستوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ علامہ اقبال نے اس ضمن میں مولانا حسین احمد مدنی تک کو نہیں بخشا تھا۔ مولانا کا خیال تھا کہ قومیں اوطان یعنی وطن یا جغرافیے سے بنتی ہیں۔ اقبال نے نہایت غصے کی حالت میں جواب دیا کہ آپ تو حقیقتِ محمدی تک سے آگاہ نہیں۔ قومیں اوطان سے نہیں مذہب سے بنتی ہیں، اور کوئی بنے یا نہ بنے مسلمان تو مذہب ہی سے ایک قوم بنتے ہیں۔ چنانچہ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تب بھی پاکستان پاکستان رہے گا اور بھارت بھارت۔ اس لیے کہ پاک بھارت تعلقات جنرل باجوہ اور جنرل بپن راوت، اور عمران خان اور مودی کے تعلقات نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے یہ دو مختلف مذاہب، دو مختلف تہذیبوں، دو مختلف تاریخوں اور دو مختلف قوموں کے تعلقات ہیں۔

یہ مسئلہ بہت پرانا، بہت بنیادی، بہت علمی اور اسلامی تشخص کے حوالے سے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ بعض لوگ دو قومی نظریے کو سرسید سے منسوب کرکے اسے حال ہی کی چیز باور کراتے ہیں، مگر یہ ان کی کم علمی یا غلط فہمی ہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر کا زمانہ 1608ء سے 1627ء کا زمانہ ہے۔ یہ 17ویں صدی کا ابتدائی عہد ہے۔ اس قدیم زمانے میں بھی ’’دو قومی نظریہ‘‘ پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا۔ اس کا ثبوت جہانگیر اور حضرت مجدد الف ثانیؒ کی کشمکش ہے۔ مجدد الف ثانیؒ جہانگیر کی حکومت یا ملوکیت کو نہیں بلکہ اس کے ایک ’’قومی نظریے‘‘ کو چیلنج کررہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے تمہارے دربار میں ’’سجدۂ تعظیمی‘‘ کیا جاتا ہے اور مسلمان کسی غیر اللہ کے آگے سر نہیں جھکا سکتے۔ تم نے ہندوئوں کو خوش کرنے کے لیے گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگا رکھی ہے۔ محل میں ہندو رسم و رواج موجود ہیں۔ یہ اسلام کے شایانِ شان باتیں نہیں ہیں۔ انہیں بدلو، ان سے تائب ہوجائو۔ جہانگیر نے پہلے حضرت کی بات نہ مانی اور انہیں جیل میں ڈال دیا، مگر مجدد الف ثانیؒ حق کی آواز تھے، اس آواز کو نظرانداز کیا جاسکتا تھا، دبایا نہیں جاسکتا تھا۔ چنانچہ جہانگیر کو بالآخر مجدد الف ثانی کے مطالبات ماننے پڑے۔

اورنگزیب کا زمانہ 1658ء سے 1707ء تک کا زمانہ ہے۔ یہ سترہویں صدی کے وسط اور اٹھارہویں صدی کے اوائل کا قصہ ہے۔ اس زمانے میں اورنگزیب اور اس کے بھائی داراشکوہ کے درمیان جو آویزش برپا ہوئی وہ اپنی اصل میں سیاسی نہیں ’’نظریاتی‘‘ تھی۔ داراشکوہ ہندوازم سے متاثر ہوچکا تھا۔ وہ ہندو ازم کی مقدس کتابوں مثلاً گیتا کو قرآن مجید فرقانِ حمید سے بہتر خیال کرتا تھا۔ اس کے زمانے میں مساجد شہید ہورہی تھیں اور نئے مندر تعمیر ہورہے تھے۔ دربار میں ہر طرف ہندو چھا گئے تھے۔ چنانچہ اورنگزیب اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کے جداگانہ تشخص کی علامت بن کر ابھرا اور اس نے ان تینوں قیمتی چیزوں کو بچالیا۔ ایسا نہ ہوتا تو ہندوازم ہر چیز کو کھاجاتا اور آج ہندوستان میں اسلام کا کوئی جاننے اور ماننے والا نہ ہوتا۔

سرسید وسیع المشرب شخص تھے، وہ مسلمانوں اور ہندوؤں کو ایک خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں کہا کرتے تھے، مگر جب ہندوئوں نے اردو، فارسی اور عربی کے خلاف مہم چلائی تو سرسید کو یقین ہوگیا کہ مسلمانوں اور ہندوئوں کا ملاپ ممکن نہیں، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں سے صاف کہا کہ تم اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہو تو کانگریس میں نہ جائو بلکہ جداگانہ پلیٹ فارم سے جدوجہد کرو۔

اقبال کی علمی حیثیت اور وسیع المشربی دونوں ضرب المثل ہیں۔ اقبال اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں قوم پرست تھے۔ انہیں ہندوستان سارے جہاں سے اچھا نظر آتا تھا۔ وہ ہمالے کو ہندوستان کا پاسبان اور سنتری سمجھتے تھے۔ وہ گوتم اور گرونانک کی تعریف کرتے تھے اور انہوں نے رام کو امام ہند کہا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اقبال کی آرزو اور تناظر دونوں کو بدل کر رکھ دیا اور اقبال ایک قوم پرست شاعرسے ’’شاعرِ اسلام‘‘ بن گئے۔ ان کے لیے ان کی تہذیب اور ان کی تاریخ ہی سب کچھ ہوگئی۔ اسی بنیاد پر آگے چل کر انہوں نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ ریاست کا تصور پیش کیا اور صاف کہا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب، اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ کے تشخص کو بچانا اور فروغ دینا ہے تو اس کے لیے مسلمانوں کی ایک الگ ریاست کا ہونا ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ پرائیوٹ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے گا؟ آصف محمود

قائداعظم تو ابتدا میں کانگریس ہی کے رہنما تھے۔گاندھی جنوبی افریقہ سے بیرسٹری کرکے لوٹے تو ممبئی میں ان کے اعزاز میں جو تقریب منعقد کی گئی اُس کی صدارت محمد علی جناح نے کی۔ محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کے ایسے حامی تھے کہ انہیں ہندو مسلم اتحاد کا سب سے بڑا سفیر کہا جاتا تھا۔ مگر جس طرح سرسید اور اقبال کی آرزو اور تناظر تبدیل ہوا اسی طرح ’’تلخ تجربات‘‘ سے محمد علی جناح کی آرزو اور تناظر بھی تبدیل ہوگیا۔ چنانچہ کانگریس کے رہنما محمد علی جناح مسلم لیگ کے قائد بن گئے۔ انہیں ایک ’’قومی نظریے‘‘ کے بجائے ’’دو قومی نظریہ‘‘ عزیز ہوگیا ۔ اور وہ متحدہ ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کے بجائے منقسم ہندوستان کے سب سے بڑے علَم بردار بن کر ابھرے۔ یہاں تک کہ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ پاکستان تو اسی دن بن گیا تھا جب برصغیر میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا۔ قائداعظم دو قومی نظریے کے اتنے بڑے شارح تھے کہ انہوں نے دو قومی نظریے کا اطلاق صرف سیاست پر ہی نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ، معاشرت غرض یہ کہ پوری زندگی پر کر ڈالا۔ تو کیا اب جنرل باجوہ اور عمران خان کا علم اور فہم مجدد الف ثانی، اورنگزیب، سرسید، اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے علم اور فہم سے بھی بڑھ گیا ہے! چنانچہ کہا جارہا ہے کہ جس طرح فرانس اور جرمنی ایک ہوگئے اسی طرح پاکستان اور بھارت کو بھی ’’ایک‘‘ ہوجانا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کو ’’ایک‘‘ کرنے کی باتیں مذہبی، تہذیبی اور تاریخی اعتبار سے Fake شخصیات ہی کرسکتی ہیں۔ بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ میں Fake شخصیات کی کوئی کمی نہیں۔ یہاں ہم نے عمران خان کے اکھنڈ بھارت کی بات خوامخواہ نہیں کی۔

یہ ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت نے کبھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ بھارت کی ہندو قیادت کا خیال تھا کہ پاکستان کے قیام کی صورت میں اکھنڈ بھارت کا خواب بکھر گیا ہے اور بھارت ماتا کے ٹکڑے ہوگئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کبھی بھی ایک سیاسی وحدت نہیں تھا۔ بہرحال ہندو قیادت کا خیال تھا کہ پاکستان بن تو گیا ہے مگر چل نہیں سکے گا اور جناح صاحب کچھ ہی دنوں بعد بھاگے بھاگے آئیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں پھر سے بھارت ماتا میں ضم کرلو۔ پاکستان کو ناکام بنانے کے لیے ہندو قیادت نے پاکستان کے وسائل بھی روکے، ’’کرتاپور والوں‘‘ کو اپنا دست و بازو بناکر مسلم کش فسادات بھی کروائے، مگر پاکستان ہر صدمے کو جذب کرنے میں کامیاب رہا۔ مگر ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت نے مشرقی پاکستان میں ایک بڑا بحران کھڑا کیا تو بھارت نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پاکستان دولخت ہوگیا۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی شکست اور ذلت تھی اور بھارت اس کا جتنا جشن منا لیتا، کم تھا۔ مگر بھارت نے پاکستان کے دولخت ہونے کے سانحے کے جشن کو کافی نہ سمجھا۔ چنانچہ بھارت کی وزیراعظم اندراگاندھی نے ہندو اور مسلمانوں کی پوری ایک ہزار سالہ تاریخ کو آواز دی اور دو قومی نظریے کو یاد کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ سقوطِ ڈھاکا کی صورت میں ایک ہزار سالہ تاریخ کا بدلہ لے لیا گیا اور دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق کردیا گیا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بھارت نے بنگلہ دیش بنوایا ضرور، مگر اس نے بنگلہ دیش کو ’’آزاد‘‘ نہ رہنے دیا، اور آج بنگلہ دیش نظری اور عملی طور پر بھارت کی کالونی اور اس کے اکھنڈ بھارت کے تصور کا حصہ ہے۔

اس وقت بھارت میں عملی صورتِ حال یہ ہے کہ بھارت کی کئی ریاستوں کے اسکولوں کے نصاب میں اکھنڈ بھارت کے تصور کو شامل کرلیا گیا ہے۔ بھارت کی نئی نسلوں کو بتایا جا رہا ہے کہ صرف بھارت ہی نہیں بنگلہ دیش، پاکستان، سری لنکا، مالدیپ، بھوٹان اور نیپال بھی اکھنڈ بھارت کا حصہ ہیں، بلکہ اکھنڈ بھارت کی سرحدیں انڈونیشیا تک پھیلی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب بھارت بچے کھچے پاکستان کے تعاقب میں ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق اور اتحادی ایم کیو ایم کو الطاف حسین کے ذریعے کنٹرول کرتا رہا ہے، اور الطاف حسین آج بھی امریکی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی کے ساتھ ساتھ ’را‘ کے بھی رابطے میں ہیں۔ تیسری جانب بھارت بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ وہ افغانستان میں اپنے اثرات کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، اور بھارت کا اصل ایجنڈا یہ ہے کہ پاکستان کے داخلی تضادات اور سیاسی و اقتصادی کمزوریوں کے ذریعے پاکستان کو آئندہ چند برسوں میں تحلیل کردیا جائے۔ چوتھی جانب بھارت سرحدوں پر ہمارے سیکڑوں فوجیوں اور سول افراد کو شہید کررہا ہے اور بھارت کے آرمی چیف کئی بار کہہ چکے ہیں کہ خون میں ڈوبا ہوا، یا اُن کی اصطلاح میں Bleed کرتا ہوا پاکستان بھارت کا مطلوب ہے۔ پانچویں جانب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا کردی ہے اور اُس نے اس حوالے سے انسانی تاریخ کے بدترین کردار یعنی چنگیز خان اور ہٹلر کی یاد تازہ کردی ہے۔ لیکن اس قصے کی ایک اور جہت بھی ہے۔

کچھ عرصہ قبل بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دولت اور آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی نے مل کر ’’اسپائی کرونیکلز‘‘ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی تھی۔ اس کتاب میں ایک باب کا عنوان ہی ’’اکھنڈ بھارت‘‘ ہے۔ ہم اس باب میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ را کا سابق سربراہ کہہ رہا ہے کہ اکھنڈ بھارت ایک Fantacyہے، مگر جنرل اسد درانی فرما رہے ہیں کہ اکھنڈ بھارت Fantacyنہیں ہے، اسے حقیقت بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے بعد پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کے ساتھ مل کر گریٹر پنجاب کے منصوبے پر کام بھی کررہے تھے اور منصوبہ بھارت کے سابق وزیراعظم اندر کمال گجرال کے “Vision”کے مطابق تھا۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے اس باب میں یہ بھی فرمایا ہے کہ جو ہندو پاکستان کی صورت میں بھارت کی تقسیم کا دکھ محسوس کرتے ہیں اُن کے دکھوں کا ازالہ ہونا چاہیے۔ یہ پوری کتاب اور اکھنڈ بھارت سے متعلق اس کا باب اتنا ہولناک ہے کہ جنرل اسد درانی کو اب تک اس بھیانک جرم کی پاداش میں پھانسی ہوجانی چاہیے تھی۔ اتفاق سے جی ایچ کیو نے جنرل درانی کی مذکورہ بالا کتاب کا نوٹس لیا اور جنرل درانی کو جی ایچ کیو طلب بھی کیا گیا اور ان کا نام ECLمیں بھی ڈالا گیا، مگر اب تک اس سلسلے میں ’’عملاً‘‘ کچھ نہیں ہوا۔ اس سے اس اندیشے کو تقویت حاصل ہوتی ہے کہ جنرل درانی نے اسپائی کرونیکلز میں اکھنڈ بھارت کے حوالے سے جو بکواس کی ہے وہ خودکلامی نہیں بلکہ اس کی پشت پر کوئی ’’طبقہ‘‘ یا ’’ادارہ‘‘ موجود ہے۔ کون موجود ہے؟ ہمیں نہیں معلوم۔ اس کے تعین کی ذمے داری حکومت پر ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی اور فوج پر ہے۔ تاہم اب تک کسی نے اس سلسلے میں اپنی ذمے داری ادا نہیں کی۔ اتفاق سے اب عمران خان نے پاکستان اور بھارت کی ’’یونین‘‘ کی بات کرڈالی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا ہر باخبر اور معقول شخص عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کا آدمی تصور کرتا ہے، چنانچہ عمران خان کے بیان کی ہولناکی بہت بڑھ گئی ہے ۔ قوم نوٹ کرلے۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں تاریخ پر بھی کلام کیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے شیخ چلی الٰہیات پر گفتگو فرمائے، اورگنگو تیلی تاج محل کی جمالیات پر لیکچر دے۔ آپ بھول نہ گئے ہوں اس لیے آپ کو یاد دلانے کے لیے عرض ہے کہ عمران خان نے فرمایا کہ ماضی رہنے کے لیے نہیں، سیکھنے کے لیے ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ ہمیں ماضی کی زنجیر کو توڑنا ہوگا۔ واہ، کیا فلسفیانہ لب و لہجہ ہے۔ ارے بھئی، مسلمانوں کا ماضی ان کی بہت بڑی متاع اور بہت بڑی قوتِ محرکہ ہے۔ اپنے ماضی کے بغیر، اپنی تاریخ کے بغیر مسلمان کچھ بھی نہیں۔ اس کی وجہ ہے۔ مسلمانوں کے وسیع تر ماضی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، خلفائے راشدین ہیں، ایک لاکھ صحابہ ہیں، تابعین ہیں، تبع تابعین ہیں، ہزاروں صوفیہ، علما، دانشور، شاعر، ادیب، ناصحین اور مختلف علوم کے ماہرین ہیں۔ مسلمان اس ماضی کی وجہ سے ہی مسلمان ہیں، اسی ماضی کی وجہ سے وہ تھوڑے بہت زندہ ہیں، اسی وجہ سے وہ ایک شاندار مستقبل تعمیر کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے ماضی یا تاریخ کا ذکر کیا جائے تو اس ماضی میں محمد بن قاسم ہیں۔ بابر ہے۔ اورنگزیب عالمگیر ہے۔ مجدد الف ثانی ہیں، شاہ ولی اللہ ہیں، درجنوں بڑے صوفیہ ہیں۔ ہزاروں قابل ذکر شاعر ہیں۔ اس تاریخ میں اقبال ہیں۔ مولانا مودودی ہیں۔ قائداعظم ہیں۔ دو قومی نظریہ ہے۔ اس تاریخ میں تاج محل ہے۔ دِلّی اور لاہورکی جامع مساجد ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کی بیداری ہے۔ قیام پاکستان کی جدوجہد ہے۔ قیام پاکستان کا واقعہ ہے۔ ذرا عمران خان اور اُن کے سرپرست بتائیں تو کہ اس تاریخ میں سے ہم کیا بھولیں؟ کیا فراموش کریں؟ تاریخ ایک اکائی ہوتی ہے۔ اس کو پورے کا پورا قبول یا مسترد کرنا پڑتا ہے۔ ماضی اور تاریخ ہمارا اجتماعی حافظہ ہے۔ ہم ماضی یا تاریخ کو بھول گئے تو ہمارے حال پر دھند چھا جائے گی، اور ہم کسی بھی مستقبل کی تعمیر سے قاصر ہوجائیں گے۔ عمران خان اور ان کے سرپرست جاہلِ مطلق ہیں ورنہ ان کو معلوم ہوتا کہ جو قومیں اپنے ماضی کو بھول جاتی ہیں اُن کا کوئی حال اور کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید تاریخ کی کتاب نہیں بلکہ وہ کتابِ ہدایت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خود خدا نے قرآن مجید میں تاریخ کو ایک آئینے کی طرح پیش کیا ہے۔ اس آئینے میں تمام گزری ہوئی امتوں کا احوال ہے۔ ان کی کامیابی اور ناکامی کے محرکات کا ذکر ہے تاکہ مسلمان اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنائیں۔ بے شک ماضی رہنے کے لیے نہیں، سیکھنے کے لیے ہوتا ہے۔ مگر تاریخ سے سیکھنے کے لیے اس میں رہنا بھی ضروری ہے۔ عمران خان کو پڑھنے لکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں، ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ ادیب، شاعر، یہاں تک کہ سائنس دان بھی اپنے خیال اور اپنے تجربے میں رہتے ہیں تب کہیں جاکر وہ کچھ تخلیق کر پاتے ہیں۔ جو شاعر محبت کے تجربے میں سانس نہ لے وہ کیا محبت کی شاعری کرلے گا؟ نیوٹن پر اگر سیب کے نیچے گرنے کا مشاہدہ طاری اور حاوی نہ ہوجاتا تو وہ کششِ ثقل کے اصول کو دریافت ہی نہیں کرسکتا تھا، اور کرتا بھی تو اس پر طویل گفتگو اس کے لیے کبھی ممکن نہ ہوپاتی۔ انسان کے خیالات، مشاہدات اور تجربات بھی اس کا ماضی، اس کی تاریخ بن جاتے ہیں۔ یہ ماضی، یہ تاریخ خون میں حل نہ ہو تو کوئی بڑا کام ممکن نہیں ہوسکتا۔ اقبال کتنے بڑے شاعر اور کتنے بڑے آدمی ہیں مگر انہوں نے فرمایا ہے ؎


میں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سراغ

میری تمام سرگزشت کھوئے ہوئوں کی جستجو


اقبال کی اردو اور فارسی کلیات تقریباً دو ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کلیات میں کیا نہیں ہے؟ اس میں اسلام ہے، اسلامی تہذیب ہے، اسلامی تاریخ ہے، انسان کی ذات کا بے پناہ علم ہے، ہزاروں تجربات ہیں، مشاہدات ہیں اور تخلیق کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔ مگر ان تمام چیزوں کی جڑیں خود اقبال کے بقول اُن کے انفرادی اور اجتماعی ماضی میں پیوست ہیں۔ وہ اپنے ماضی سے زندہ تعلق استوار کرکے اس کی کامل بازیافت کے منصوبے پر عمل کررہے ہیں۔ پاکستان ماضی کی اسی بازیافت کا ایک پہلو ہے۔ مگر عمران خان کو ماضی ایک ایسی زنجیر نظر آرہا ہے جسے توڑنا ضروری ہے۔ لیکن ہم اپنے اس ماضی کو بھول کر خود کو یاد رکھنے کے قابل ہی نہیں رہیں گے۔ میلان کنڈیرا نے کہا ہے کہ آمریت کے خلاف انسان کی جدوجہد بھول کے خلاف یاد کی جدوجہد ہے۔ مگر آمریت صرف سیاسی یا عسکری نہیں ہوتی۔ حاضر و موجود کا جبر بھی بہت بڑی آمریت ہوتا ہے۔ وہ انسان کو اُس کے ماضی سے کاٹ دیتا ہے۔ ماضی کی اہمیت و قوت کو یورپ کی تمام نوآبادیاتی قوتوں نے بہت اچھی طرح سمجھا، اسی لیے انہوں نے تمام مسلمانوں کو ان کے ماضی یا ان کی تاریخ سے کاٹنے کی شعوری کوشش کی۔ اب عمران خان اور ان کے معلوم اور نامعلوم سرپرست بھی پاکستانی قوم کو یہ پٹی پڑھا رہے ہیں کہ ماضی کی زنجیر کو توڑ دو، اپنی تاریخ کو بھول جائو تاکہ آگے بڑھ سکو۔ مگر ہم اپنے ماضی کو بھول گئے تو ہمارا کوئی مستقبل ہی نہ ہوگا۔ اقبال حاضر و موجود کے جبر اور اس کے مضمرات سے آگاہ تھے، اسی لیے انہوں نے فرمایا ہے ؎

مگر سوال یہ ہے کہ عمران خان ماضی سے اتنا ناراض کیوں ہیں؟ کیا اس کی وجہ اُن کا ذاتی ماضی ہے، جس کو وہ بھولنا چاہتے ہیں؟ مگر خدا کا شکر ہے کہ مسلمانوں کا اجتماعی ماضی شاندار ہے۔ اس اجتماعی ماضی میں ان کا مذہب ہے، ان کی تہذیب ہے، ان کی عظیم الشان شخصیات ہیں۔ مسلمان اس ماضی سے، اس تاریخ سے ایک لمحے کے لیے بھی دور ہونے کے لیے تیار نہیں۔ بلکہ وہ اس ماضی کو، اس تاریخ کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر زیادہ سے زیادہ سمجھ کر زیادہ سے زیادہ جذب کرنا اور اس طرح اپنے حال اور مستقبل کو بدلنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مسلمانوں کی مدد کی ہے۔ کبھی مجدد بھیج کر،کبھی بڑے صوفیہ اور بڑے علما کو بھیج کر، کبھی ان میں بڑے شاعروں اور بڑے رہنمائوں کو پیدا کرکے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ عمران خان کا دل ایک جانب تو اتنا ’’وسیع‘‘ ہے کہ وہ یہ بھی بھول جانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ اس نے مسلم کُش فسادات کراکے دس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کرایا۔ 1971ء میں پاکستان کے دو ٹکڑے کیے۔ اس نے بھارت میں 25 کروڑ مسلمانوں کی زندگی کو جہنم بنایا ہوا ہے۔ وہ بچے کھچے پاکستان کو بھی ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ مگر دوسری جانب عمران خان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ وہ نوازشریف اور آصف علی زرداری کے چھوٹے چھوٹے گناہ معاف کرنے پر آمادہ نہیں۔ یہاں تک کہ مذہبی عناصر نے ملعونہ آسیہ کی رہائی کے حساس ترین معاملے پر احتجاج کیا تو عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہیں طاقت کے استعمال کی دھمکی دی۔ ایسا شخص 22 کروڑ پاکستانیوں سے کہہ رہا ہے کہ اس تاریخ اور اس ماضی کو بھول جائو جس نے خود پاکستان کو تخلیق کیا، اور جس نے خود بچے کھچے پاکستان کی بقا اور سلامتی کی راہ ہموار کی۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کو نظریاتی تناظر میں پاکستان سے محبت نہ ہوتی تو وہ کبھی ہالینڈ کی شاندار زندگی کو چھوڑ کر پاکستان نہ آتے، اور پاکستان کبھی ایٹم بم نہ بنا پاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اب تک بھارت اس بچے کھچے پاکستان کو بھی ہڑپ کرچکا ہوتا۔ آخر جو عسکری اور سیاسی طبقہ آدھے سے زیادہ پاکستان کا دفاع نہ کر سکا اور اسے بھارت کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے دیکھا گیا وہ ایٹم بم کے بغیر باقی ماندہ پاکستان کا کیا دفاع کرتا! یہ طبقہ تو ایسا ہے کہ اسے چلانے کے لیے سائیکل بھی نہیں دی جا سکتی، مگر بدقسمتی دیکھیے کہ یہ طبقہ پاکستان چلا رہا ہے۔

پاکستان کے حکمران طبقے نے قوم میں کیسی نفسیات پیدا کی ہے اس کا اندازہ کرتارپور کوریڈور کی تقریب سے عمران خان کے خطاب کی رپورٹنگ سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ’’دنیا‘‘ کراچی کی شہ سرخی سب سے اہم ہے۔ روزنامہ دنیا کراچی نے 29 نومبر 2018ء کی اشاعت میں عمران خان کے خطاب کی جو شہ سرخی کشید کی، وہ یہ تھی: ’’سرحدیں کُھلیں تو غربت ختم‘‘، یعنی پاکستان میں جو غربت ہے وہ پاک بھارت تعلقات کی خرابی کی وجہ سے ہے، پاکستان جیسے ہی بھارت کے آگے سر جھکائے گا اور تعلقات ’’معمول‘‘ پر آئیں گے پاکستان میں خوشحالی کی گنگا بہنے لگے گی۔ بلاشبہ پاکستان کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاع پر خرچ ہوتا ہے، لیکن یہ دنیا کے اکثر ممالک کا مسئلہ ہے۔ سابق مغربی جرمنی اور سابق مشرقی جرمنی کے تعلقات 50 سال تک کشیدہ رہے مگر بڑے دفاعی بجٹ کے باوجود مغربی جرمنی خوشحال ہوتا چلا گیا اور مشرقی جرمنی کبھی اوسط درجے سے اوپر نہ اٹھ سکا۔ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا بھی 60 برس سے کشمکش میں مبتلا ہیں، مگر اس کشمکش میںجنوبی کوریا امیر ہوا اور شمالی کوریا امیر نہ ہوسکا۔ مطلب یہ کہ پاکستان کی خراب معاشی حالت بنیادی طور پر پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں کی نااہلی اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ ورنہ معاشی خوشحالی اتنا بڑا ہدف نہیں کہ اسے 71 سال میں حاصل نہ کیا جا سکتا۔ ایک وقت تھا کہ مغربی پاکستان کا حکمران طبقہ مشرقی پاکستان کو اپنے لیے ’’معاشی بوجھ‘‘ سمجھتا تھا، مگر آج بنگلہ دیش کی معیشت پاکستان سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان سے زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش کی برآمدات پاکستان سے زیادہ ہیں۔ بنگلہ دیش کے زرمبادلہ کے ذخائر پاکستان سے زیادہ ہیں۔ حالانکہ بنگلہ دیش کے پاس نہ کپاس کی پیداوار ہے، نہ پاکستان کی طرح کے معدنی وسائل ہیں۔

پاکستان کا حکمران طبقہ اکثر اس بات کا ماتم کرتا ہے کہ پاکستان کو بھارت جیسا دشمن ملا۔ ایسا نہ ہوتا تو پاکستان آسمان سے تارے توڑ کر لا سکتا تھا۔ بدقسمتی سے یہ درست تجزیہ نہیں ہے۔ بھارت واقعتاً بڑا کم ظرف دشمن ہے، لیکن خوفناک اور کم ظرف دشمن کی موجودگی کا تقاضا تھا کہ پاکستان کا حکمران طبقہ بھارت کی موجودگی اور دشمنی کو ایک بڑی قوتِ محرکہ میں تبدیل کرے۔ انسان کو دوست ہی نہیں دشمن بھی آگے بڑھاتے ہیں۔ ابتدائی زمانے کے مسلمانوں نے اپنے نفسِ امارہ اور شیطان کو حقیقی معنوں میں اپنا بڑا دشمن سمجھا اور غیر معمولی روحانی ترقی کی۔ وہ نفس کے غیر معمولی تزکیے کی طرف گئے۔ مگر اب ہم شیطان اور نفسِ امارہ کی ہولناکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، نتیجہ یہ ہے کہ ہم روحانی طور پر آگے ہی نہیں بڑھ پاتے۔ دنیاوی اعتبار سے دیکھا جائے تو سرمایہ دارانہ نظام نے کمیونسٹ دنیا کو، اورکمیونزم نے سرمایہ دارانہ دنیا کو کئی اعتبار سے ذمے دار بھی بنایا اور ’’ترقی‘‘ کرنے میں بھی مدد دی۔ صرف عرب اور پاکستان کے حکمران ہی ہیں جو اسرائیل اور بھارت جیسے دشمنوں کی دشمنی کو اپنے لیے قوتِ محرکہ نہ بنا سکے۔ بناتے تو آج عرب ممالک اور خود پاکستان کی حالت بہت اچھی ہوتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی دشمنی ہمارے حکمرانوں کو بہتر نہ بنا سکی تو اس کی دوستی نما غلامی بھی ہمارے حکمران طبقے کا کچھ نہ بگاڑ سکے گی۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں امن پہ بھی بات کی ہے۔ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ امن بہت اچھی چیز ہے، مگر ’’مصنوعی امن‘‘ جنگ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ مصنوعی امن سے زیادہ بڑی جنگ پیدا ہوتی ہے۔ امن کے سلسلے میں دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ عزت کی طرح امن بھی انہی قوموں کو میسر آتا ہے جو خود کو امن کے قابل بناتی ہیں، اور امن کے قابل وہی ہوتا ہے جس کی داخلی اور خارجی طاقت سے دشمن خوف کھائے۔ یہاں اقبال کی بصیرت ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے ؎


تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات


بدقسمتی سے پاکستان کے حکمران طبقے کو اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی تاریخ اور خود مسلمانوں کی قوت کا اندازہ نہیں۔ اسلام کی طاقت یہ ہے کہ 711ء میں برصغیر میں صرف چند مسلمان موجود تھے، آج جنوبی ایشیا میں 60 کروڑ سے زیادہ مسلمان ہیں مسلمانوں کے حکمران طبقے کی کسی کوشش کے بغیر۔ اسلامی تہذیب کی طاقت یہ ہے کہ اس نے اپنے عہدِ زوال میں اردو جیسی بے مثال زبان تخلیق کرکے دکھائی۔ مسلمانوں کی تاریخ کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ تاریخی محرکات نے پاکستان کے نام سے جدید دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست تخلیق کی۔ مسلمانوں کی قوت یہ ہے کہ محمد بن قاسم نے چار سے پانچ ہزار فوجیوںکے ذریعے پورا سندھ فتح کیا، اور بابر نے صرف دس ہزار کے لشکر سے پورا ہندوستان فتح کرکے دکھا دیا۔ افغانستان میں مٹھی بھر مسلمانوں کے ہاتھوں سوویت یونین اور امریکہ کی شکست کل اور آج کی بات ہے۔ چنانچہ پاکستان کا حکمران طبقہ اپنی کمزوریوں کو اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی تاریخ اور خود پاکستان سے منسوب نہ کرے۔ اسلام مغلوب ہونے کے لیے نہیں آیا۔ ہم اسلام سے چمٹے رہیں تو کبھی مغلوب نہیں ہوں گے۔ کسی سے بھی نہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ بھارت سے مغلوب ہونے کے لیے مرا جارہا ہے۔ اس کا ایک ثبوت عمران خان کے ’’نفسِ امارہ‘‘ اور اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر فواد چودھری کا یہ بیان ہے کہ فوج اور حکومت بھارت کے ساتھ 70 سالہ بیانیہ بدلنا چاہتے ہیں۔ (جنگ کراچی، یکم ستمبر 2018ء) بہت اچھا، فوج اور حکومت بھارت کے سلسلے میں 70 سالہ بیانیہ بدلنا چاہتی ہے تو ضرور بدلے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا بیانیہ ہمارے مذہب، ہماری تہذیب، ہماری تاریخ اور بھارت کی پاکستان دشمنی سے ابھرا ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ فوج اور حکومت بیانیہ بدلنا چاہتی ہے تو ایسا کرنے سے پہلے یہ ضرور بتائے کہ ایسا کرنے کے لیے وہ مذہب چھوڑے گی؟ دو قومی نظریے کو طلاق دے گی؟ جداگانہ مسلم تہذیب کو گڈبائے کہے گی؟ جداگانہ مسلم تاریخ کے تجربے کو الوداع کہے گی؟ اس کے ساتھ ساتھ فوج اور حکومت یہ بھی بتائے کہ کیا بھارت نے پاکستان کی دشمنی سے توبہ کر لی ہے؟ اور کیا اُس نے پاکستان کو مساوی الحیثیت تسلیم کرلیا ہے؟ یہ تمام سوالات اہم ہیں۔ اس کا اندازہ بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت کے اس بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارت سے بہتر تعلقات کے لیے پاکستان کو سیکولر ہونا پڑے گا (جنگ یکم دسمبر 2018ء)۔ بھارتی فوج کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو بھارت سے بہتر تعلقات کے لیے اپنی اندرونی حالت پر توجہ کرنی ہو گی کیونکہ پاکستان نے خود کو ایک اسلامی ریاست بنا لیا ہے۔ بھارت اب تک کہتا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کی پشت پناہی ترک کرے گا تو تعلقات بہتر ہوں گے۔ اب کہہ رہا ہے کہ اسلام چھوڑو، سیکولر بنو پھر ہماری دوستی ہوگی۔ یہ ہے اصل کہانی۔ یہ ہے اکھنڈ بھارت کا کھیل۔ یہ ہے اکھنڈ ہندوازم کی سازش۔ یہ ہے رام اور رحیم کو ایک کرنے کا پرانا تماشا۔ یہ ہے اکبر کے دینِ الٰہی کو نئی صورت میں ایجاد کرنے کا معاملہ۔ اس سازش کے تمام کردار ہمارے سامنے ہیں۔ کیا پوری پاکستانی قوم بالکل ہی اندھی ہوگئی ہے؟