سگریٹ پر ’’گناہ ٹیکس‘‘ - آصف محمود

ارشاد تازہ یہ ہے کہ اب سگریٹ پر ’’ گناہ ٹیکس‘‘ عائد کیا جائے گا ۔ فکر و ابلاغ کا ایسا قحط دھرتی پر پہلے کب اترا تھا؟ یوں محسوس ہوتا ہے کابینہ میں اس بات پر اتفاق رائے ہو چکا کہ جس روز کوئی اور بحران سر نہ اٹھا سکے، اس روز وزرائے کرام خود ایک دلدل عمران خان کی دہلیز پر چھوڑ آیا کریں گے۔ وسیم اکرم تو خواب ہوئے اس ٹیم میں تو کوئی منصور اختر بھی نہیں۔ کسی ففٹی سنچری کے تکلف میں پڑے بغیر 41 ون ڈے کھیل کر صرف 593 رنز بنانے والاوہ شریف آدمی بھی آؤٹ ہو کر سر جھکائے پویلین لوٹ جاتا تھا، کبھی اس نے اپنا بلا تو اپنے کپتان کے سرمیں نہیں مارا تھا۔

ٹیکس عائد کرنا ریاست کا حق ہے۔ اس کے محل اور حجم پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن یہ حق موجود ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ سگریٹ پر مزید ٹیکس عائد کرنے چاہییں تو وہ ایسا کر سکتی ہے۔ لیکن جب ا س مجوزہ ٹیکس کو ’گناہ ٹیکس‘ کا نام دیا جاتا ہے تو پھر یہ سوال اٹھ کھرا ہوتا ہے کہ حکومت آئین ، قانون اور ریاست کی مبادیات سے کچھ آگہی بھی رکھتی ہے یا اس کے میمنہ میسرہ پر چند طفلانِ خود معاملہ ہیں جو داد شجاعت دے رہے ہیں۔ یہ دلیل عذر گناہ کے سوا کچھ نہیں کہ محققین کرام ہمیں بتائیں کہ گناہ ٹیکس تو اتنی دہائیاں قبل فلاں فلاں ملک میں نافذ ہوا تھا۔

پہلا سوال یہ ہے کہ ریاست کی قوت نافذہ کا تعلق جرم سے ہے یا گناہ سے؟ بعض گناہ جرم ہوتے ہیں لیکن ہر گناہ جرم نہیں ہوتا ۔ کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جو فرد اور اس کے رب کا معاملہ ہوتا ہے اور اس میں ریاست تعزیر نافذ نہیں کر تی ۔ مثال کے طور پر غیبت کرنا گناہ ہے لیکن کیا علاقے کا ایس ایچ او تفتیش کرتا پھرے گا کہ آج اس کے علاقے میں کتنے لوگوں نے کتنی غیبت کی ؟ ریاست جب قانون نافذ کرتی ہے تو اس کا مخاطب گناہ نہیں ، جرم ہوتا ہے۔ چنانچہ جو گناہ جرم کے دائرے میں آتے ہیں ریاست ان پربھی گرفت کرتی ہے۔ لیکن یہ گرفت فی نفسہ گناہ پر نہیں جرم پر ہوتی ہے۔ اب اگر حکومت ’ گناہ ٹیکس‘ کا نفاذ کرتی ہے تو یہ گویا اس بات کا اعلان ہے کہ ریاست نے اب جرم سے آگے بڑھ کر گناہ پر بھی گرفت کرنا شروع کر دی ہے ۔ ریاست کا دائرہ کار جرم تک محدود ہوتا ہے اگر یہ دائرہ کار گناہ تک پھیل گیا تو کیا حکومت کو احساس ہے کہ اس سے جورسپروڈنس اورقانون کی دنیا میں کتنا بڑا سونامی آ سکتا ہے؟ یہ سلسلہ اگر چل نکلا تو ملک میں اس خوفناک فاشزم اور بےرحم تھیوکریسی کی بنیاد ڈال سکتا ہے جو آگے چل کر سماج کی چولیں ہی ہلا کر رکھ دے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی سرکار کے 8 ماہ - عابد ایوب اعوان

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ریاست نے گناہ کو بھی اپنا مخاطب بناتے ہوئے اس میں سے معاشی امکانات تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں تو یہ کام صرف سگریٹ نوشی کے گناہ تک محدود رہے گا یا اگلے مرحلے میں نماز نہ پڑھنے والوں پر بھی ٹیکس عائد ہو گا؟ سگریٹ پینے والے تو کم ہوں گے اور ٹیکس کی مد میں معمولی سی رقم جمع ہو پائے گی ۔ کیوں نہ بےنمازیوں پر بھی ٹیکس عائد کر دیا جائے اور تحریک انصاف کے گلی محلے کے صدور اور سیکرٹری جنرل صاحبان ہر مسجد کے باہر رجسٹر لے کر بیٹھ جائیں اور شام کو نادرا کی معاونت سے ایک خود کار نظام کے تحت ان لوگوں کی فہرست جاری کر دی جائے جو اس روز مسجد نہیں گئے۔ ہر روز کروڑوں روپے کا ٹیکس اکٹھا ہو جائے اور اسدعمر صاحب کی معاشی مہارت کی بھی دھاک بیٹھ جائے؟ بعض گمان بھی گناہ ہوتے ہیں۔ اب خود تحریک انصاف کا نواز شریف سمیت اپنے ہر سیاسی مخالف کے بارے میں جو گمان ہے، کیا اس پر بھی گناہ ٹیکس لگایا جائے گا؟ گناہوں کی اگر ایک فہرست مرتب کر لی جائے اور ان کے درجہ بندی کر کے ٹیکس لگایا جائے تو پاکستان کے ذمے قرض تو شاید اراکین پارلیمنٹ کے جرمانوں ہی سے ادا ہو جائے۔

تیسراسوال یہ ہے کہ کیا ریاست ٹیکس وصول کرنے کے بعد گناہ کرتے رہنے کا اجازت نامہ عنایت فرما سکتی ہے؟ ایک چیز اگر گناہ ہے تو اسلامی ریاست کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ محض ٹیکس لے کر اس گناہ کو جاری رکھنے کی اجازت دے دے؟ دستور پاکستان کے آرٹیکل 31 کے تحت حکومت نہ صرف اس بات کی پابند ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن کے ذریعے لوگ انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں کے مطابق گزار سکیں بلکہ وہ ایسی سہولیات فراہم کرنے کی بھی پابند ہے جن کے ذریعے لوگ قرآن و سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم، بھی سمجھ سکیں۔ کیا آئین پاکستان اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ حکومت لوگوں سے کہے کہ ٹیکس دینے کے بعد آپ کو گناہ کرتے رہنے کی آزادی ہے؟ کیا ٹیکس کی وصولی کے بعد گناہ ، گناہ نہیں رہتا اور حکومت کی وہ ذمہ داریاں ساقط ہو جاتی ہیں جو آرٹیکل 31 نے اس پر عائد کر رکھی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   شکر ہے، شکر ہے - آصف محمود

چوتھے سوال کا سماجیات سے تعلق ہے۔ اگر یہ ٹیکس مفاد عامہ میں لگایا گیا ہے کہ چونکہ سگریٹ نوشی کے گناہ سے کینسر اور دیگر بیماریاں پھیلتی ہیں تو ٹیکس لگا کر اس کی حوصلہ شکنی کی جائے تو سوال یہ ہے کہ دیگر ایسے ہی گناہوں کے بارے میں سکوت کیوں؟ گنڈا پوری شہد سے لے کر جانے اور کون کون سا گناہ یہاں رائج ہے۔ یہ تمام گناہ آخر کس حکمت کے تحت گناہ ٹیکس سے مستثنی ہیں حالانکہ سگریٹ کے مقابلے میں ان وغیرہ وغیرہ قسم کے مشروبات و دیگر پر ٹیکس کی مد میں کئی گنا زیادہ رقم کی وصولی کا امکان موجود ہے؟

معلوم نہیں یہ نا تجربہ کاری کا آزار ہے یا افتاد طبع کے مسائل ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ عمران خان کی ٹیم عمران خان کے لیے آسانیاں کم اور مسائل زیادہ پیدا کر رہی ہے۔ عمران خان کو شاعری سے شغف ہوتا تو اپنے وزراء کی قادرالکلامیاں دیکھ کر بےخود دہلوی کو ضرور یاد کرتے:


’’پڑھے جاؤ بے خود غزل پر غزل

وہ بُت بن گئے ہیں، سنے جائیں گے‘‘

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.