گل پوش وادی - دعا عظیمی

میں نے دیکھا، سیبوں کا رنگ لال تھا، جانے کون تھا جو پچھلے چند دنوں سےمیرے دروازے پر سیبوں سے بھری ٹوکری رکھ جاتا تھا۔ میں خلاف معمول پتہ چلانے کے لیے اپنے وقت سے پہلے اٹھی اور کھڑکی کے قریب کرسی پہ بیٹھ گئی۔

گل پوش وادی میں پھولوں کے پیرہن رنگ بدل رہے تھے۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا تیزی سے دروازے کے قریب آیا، میری آواز پہ پلٹا۔ آج آپ اسے میرے ہاتھوں میں دے دو، میرے کہنے پر وہ جھینپا۔ میں نے کہا اندر آ جاؤ، مگر وہ وہیں کھڑا رہا۔ ‎اس کی آنکھوں میں بہادری اور جرات تھی، اور بغل میں کہانیوں کی کتاب۔ وہ محبت کی جستجو میں تھا۔

کہنے لگا، محبت کیا ہے؟ میں نے کہا محبت ایک احساس ہے، لطیف احساس۔ بولا، آپ کی تحریر سے محبت کی خوشبو ایسے پھوٹتی ہے جیسے ہرن کے نافے سے کستوری۔ میں ہنسی اور پوچھا تم نے تاروں کی جھلملاہٹ دیکھی ہے، محبت بھی تاروں کی جھلملاہٹ جیسی ہے، نظر آتی ہے، کچھ، اور ہوتی کچھ ہے۔ کہنے لگا، وضاحت پلیز! میں نے کہا، محبت صاحقہ بھی سحاب بھی، کانٹا بھی گلاب بھی، یہ ہر روح کی اصل اور ہر جسم کی جان ہے۔ بولا، میرا دل نہیں بھرتا، کچھ اور بتائیے ناں! کیا بتاؤں، میں بھی اسی زمین پر بستی ہوں جس پر تم۔ کہنے لگا، آپ سے بات کر کے ایسا کیوں لگتا ہے جیسے پریاں لوری سناتی ہوں، بس یہ سب لہریں ہیں۔

پھر گویا ہوا، آپ محبت کی پیامبر ہو۔ میں نے کہا محبت کی پیامبر تو ہر کلی، ہر پھول، ہر ستارہ ہے۔ کہنے لگا مجھے معلوم ہوتا ہے آپ محبت ہیں، کیا آپ کو کسی سے محبت ہے؟ میں نے کہا وہ کون ہے جو محبت سے محروم ہے ؟یہ تو دل کا صحرا ہے، پھول اگائے یا ببول۔ کہنے لگا میں بہت شدت پسند ہوں۔ میں نے کہا محبت میں شدت خود کثافت ہے، محبت تو صبح کی طرح اجلی اور زمین کی طرح فراخ اور جاذب ہونی چاہیے۔ تمہاری عمر کا تقاضا ہے، ندی میں طغیانی تو آئے گی۔ کہنے لگا کیا سمندر کا شور محبت کا مرہون منت نہیں۔ میں نے کہا وہ تو وحدت کا راگ الاپتا ہے، محبت وحدت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، انٹرنیشنل لاء کیا کہتا ہے؟ آصف محمود

وادی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی، تم اندر آ جاؤ، میں چیخی۔ اس سے پہلے کہ میں اسے اندر کھینچتی، اس کا بدن لہو سے تر بتر تھا۔ سیبوں کا رنگ کالا ہو چکا تھا۔ نسل کشی جاری، محبت کے سارے لفظ احتجاج کی چادر اوڑھے سر نگوں تھے۔ کانچ کی چوڑیاں ٹوٹتی جا رہی تھیں۔ محبت کا راگ الاپنے والے دل پتھر ہو رہے تھے اور پہاڑوں پہ مورچے آباد۔ قبضہ بربریت۔ وہ محبت کی ماہیت کو کھوجنے والا اپنا سوال چھوڑ کر جا چکا تھا۔ وادی میں اگلے تین روز تک ہڑتال رہنی تھی۔

فضا کی سوگواریت اس کے سوال سے بوجھل تھی۔ اس کا سایہ کتنے برس مجھ سے پوچھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں جلتی جذبوں کی لو مچلتی رہی۔ اور بتائیں کیا ہے اور محبت، اور خزاؤں کی رنگ بدلتی ادائیں چرمراتے پتوں سے سرگوشیاں ابھرتی رہیں۔
بھیگی گھٹا گھنگور محبت
کہیں چندا اور چکور محبت
اک جذبہ منہ زور محبت
گیتوں کا جھومر اور کہانی
نیم کوسا سا آنکھ کا پانی

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.