اردو شاعری کے معتبر چہرے - امتیاز شمیم

گزشتہ چند سالوں میں اردو صحافت وادب کے افق پر کئی نئے اور نوجوان قلم کار رونما ہوئے ہیں اور انہوں نے قلمی وعلمی لیاقتوں کی بنیاد پر اردو حلقے میں اپنی شناخت قائم کی ہے، ان میں سے ایک نام اسامہ ارشاد معروفی قاسمی کا بھی ہے جن کا تعلق یوپی کے ضلع مئو سے ہے، انہوں نے ابتدا سے عربی ششم تک کی تعلیم‘‘مدرسہ اشاعت العلوم’’مئو سے حاصل کی اور دارالعلوم وقف دیوبند سے فضیلت کی تکمیل کی ہے، انہیں شروع سے ہی مطالعہ اور کتابوں کی ورق گردانی کا شوق تھا اور صحافت ومضمون نویسی سے دلچسپی تھی، یہی وجہ ہے کہ موصوف کو اچھا ذوق تحریر حاصل ہے اور وہ اپنے خیالات وافکارکو قرطاس وقلم کے توسط سے قارئین کے سامنے پیش کرنے کاہنر بہ خوبی جانتے ہیں، ’’گلدستہ مضامین‘‘ کے مصنف اور ’’نغمات کوثر‘‘کے مرتب ہیں، اول الذکر ان کے مضامین کا مجموعہ ہے،جبکہ ثانی الذکر کوثر معروفی کی منتخب نعتوں، غزلوں اور قومی نظموں پر مشتمل ہے۔

’’اردو شاعری کے معتبر چہرے‘‘ ان کی تازہ ترین تصنیف ہے، یہ کتاب بھی ان کے مضامین کا مجموعہ ہے، جس میں دور حاضر کے سترہ شعراکی شاعری کا تنقیدی جائزہ لیاگیا ہے اور ان کی ادبی شخصیت وحیات وخدمات پر مختصرا روشنی ڈالی گئی ہے، شعرا کے رد وانتخاب میں مصنف کے ذاتی ذوق وشناسائی کی کارفرمائی ہے، ان میں ناموراور گمنام دونوں قسم کے لوگ شامل ہیں، وہ بھی ہیں جنہوں نے نہ صرف ہندوستان کے طول وعرض میں شہرت وعزت حاصل کی اور مشاعرے کی دنیا میں اپنا منفرد مرتبہ ومقام پیدا کیا؛ بلکہ بیرون ہند بھی مقبول ومعروف ہوئے، اور وہ بھی ہیں جنہیں گرچہ اتنی شہرت نہ مل سکی البتہ انہوں نے اپنی متنوع شعروشاعری اور گراں قدر خدمات کے ذریعے اردو زبان وادب کے فروغ میں بھرپور حصہ لیااور اعزازات وانعامات سے بھی بہرہ ورہوئے۔

کتاب کی باقاعدہ ابتدا صفحہ ۳۳ سے ہوتی ہے، شاعروں کی فہرست میں سب سے پہلا نام انور جلال پوری کا ہے، انور صاحب عرصہ دراز تک مشاعرے کی دنیامیں اپنے منفرد لب ولہجے اور دلکش اسلوب بیان کی وجہ سے انا ؤنسر کی حیثیت سے بنے رہے، عمدہ شاعری کرتے تھے اوراچھے نثرنگارومترجم تھے، انہوں نے کئی ایوارڈز اپنے دامن میں سمیٹے اور بلندیوں تک پہنچے، اسی سال انہیں ان کی کتاب‘‘اردو شاعری میں گیتا’’کے لیے پدم شری ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیاگیا تھا، لیکن افسوس کہ آپ تب تک مرحوم ہوچکے تھے، اس کتاب میں شامل مضمون بھی ان کی زندگی ہی میں لکھاگیا تھا؛ لیکن چوں کہ کتاب کی طباعت اب، ان کی وفات کے بعد عمل میں آئی ہے،سو مضمون میں ہلکی تبدیلی کے بعد اسے پہلا مقام عطاکیاگیاہے، اس کے بعد بالترتیب پروفیسر وسیم بریلوی، منوررانا، کوثر معروفی، ڈاکٹرراحت اندوری، گمان انصاری، ڈاکٹر تابش مہدی، ڈاکٹر ایم نسیم اعظمی، ڈاکٹر نوازدیوبندی، محفوظ الرحمن عادل، ایم اے ساغر ادروی، ڈاکٹر ماجد دیوبندی، کلیم معروفی، منظر بھوپالی، ڈاکٹر شفیق اعظمی، ڈاکٹر امتیازندیم اور مجیب بستوی کے نام شامل ہیں۔

تنقید کوئی سہل کام نہیں، یہ ایک ایسا امر ہے، جس کا ڈھنگ انسان کو مرحلہ وار آتاہے، اس کے دل میں پہلے کتابوں کے مطالعے کا شوق پیدا ہوتا ہے، اس سے دلچسپی بڑھتی ہے، اس کا علمی مبلغ اورجغرافیہ وسیع ہوتاہے، حتی کہ بے پناہ مطالعہ کتب اور علمی وفور کے نتیجے میں اس کے اندر ایک تخلیقی ملکہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اپنے گردوپیش کے حالات وکوائف، مشاہدات وواقعات اور دوسروں کے اقوال وافعال کو اپنی نظروں سے دیکھنے لگتاہے اور ان کے حسن وقبح اور اچھے برے اثرات ونتائج پر غیر جانبداری کے ساتھ بے لاگ بولتااورلکھتا ہے اور اس کے اسی عمل کو ہم تنقیدوتجزیہ کانام دیتے ہیں۔

بلاشبہ اسامہ ارشاد معروفی قاسمی ایک اچھے قلم کار ہیں، تخلیقی صلاحیت رکھتے ہیں اور تنقیدکے اصول سے بھی واقف ہیں، زیر تبصرہ کتاب اس کی زندہ مثال ہے، انہوں نے اس کتاب میں شعرا کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے، ان کی شاعری، شاعری کے موضوعات، اور اس میں مستعمل الفاظ ومعانی کو مختلف ناحیے سے دیکھنے کی بہترین کوشش کی ہے، ڈاکٹر ایم نسیم اعظمی ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’وہ ادب وشاعری پر اپنی تنقیدی رائے کا اظہار کرتے وقت کسی قسم کے افراط وتفریط کا شکار نہیں ہوتے اور ادبی دیانت داری اور ذمہ داری کا دامن بھی تھامے رہتے ہیں اور پورے توازن اور اعتدال کے ساتھ تأثراتی یا جمالیاتی تنقیدی نقطہ نظر کو پیش کرتے ہیں’’۔ البتہ شعوری یا غیر شعوری طور پر کتاب کے تمام مضامین کا تحریری ڈھانچہ ایک جیسا ہے، اس میں یکسانیت پائی جاتی ہے، ہر مضمون کے آغاز میں مصنف نے شاعر کی شاعری کے حوالے سے یا فی الجملہ ہلکی سی تمہید باندھی ہے اور عام طورپراس تمہید میں شاعری کیاہے؟ اس کے اسباب کیا ہوتے ہیں؟ وہ کیسے وجود میں آتی ہے؟ اور ادب کے کیا معنی ہیں؟ وغیرہ جیسے موضوعات کو باربار چھیڑا ہے، اس کے بعد شاعر کے شعری سفر کے آغاز کا پس منظر بیان کیاہے اور اس کے شروعاتی دورکی غزل یا نظم یا اشعار کی نشاندہی کی ہے، پھراس کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کو تفصیل سے اجاگرکیاہے اور بہ طور ثبوت عمدہ اشعار پیش کیے ہیں،جو مصنف کے اچھے اور اعلی ذوق کی دلیل ہے، جبکہ عام طور سے مضامین کے آخری حصے میں شاعرکی ادبی خدمات اور اس کی حصولیابیوں کا بالاختصار ذکر ہے، اسلوب تحریر گو خوبصورت ودلکش ہے اورانداز بیان میں روانی ہے؛ لیکن کبھی مضمون کے ایک خاص ڈھانچے کی وجہ سے اور کبھی باتوں کی تکرار کی وجہ سے قاری کو اکتاہٹ محسوس ہوتی ہے اور ایسا لگتاہے کہ مصنف کے پاس الفاظ وتعبیرات کی قلت ہے۔

بہ ہر حال یہ کتاب چوں کہ تنقیدوتجزیہ کے حوالے سے ان کی اولین کاوش ہے اوروہ نقدوادب کے میدان میں ابھی نووارد ہیں، سو اس لحاظ سے ان کی ہمت افزائی ہونی چاہیے اور وہ اس کے لیے دادو تحسین کے مستحق ہیں، کتاب کی اشاعت ادارہ فروغ اردو پورہ معروف، مئو سے ہوئی ہے، صفحات کی تعداد دو سو چھیاسی ہے اور قیمت ڈھائی سو روپے ہے، امید ہے کہ یہ کتاب اردو داں طبقے میں مقبول ہوگی اور آیندہ مصنف کی یہی ابتدائی کوشش انہیں اردو زبان وادب میں ایک بہترین نقاد کی حیثیت سے تعارف کا ذریعہ ثابت ہوگی۔