کیا میڈیا واقعی عوام کی آواز ہے؟ سید یاسین عالم

اکثر کہا جاتا ہے کہ میڈیا تو وہ دکھاتا ہے جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں اور صحافت تو عوام کی آواز ہے۔ جہاں عوام کی آواز نہیں پہچ پاتی وہاں میڈیا عوام کی آواز پہنچاتا ہے۔ یہ بات سراسر بے بنیاد اور دلائل کو توڑ مڑور کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔

آج میڈیا پر لگنے والی پابندی اور آنے والے عذاب سے عوام کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ عوام اپنی روٹی دال کمانے میں لگی اور میڈیا کی زندگی کن مراحل سے گزر رہی ہے اس سے عوام کو کوئی سروکار نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ عوام اور میڈا کے درمیان، کم از کم پاکستان میں، ہمیشہ ہی ایک نظریاتی دوری رہی ہے۔ عوام کا سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کا معیار مبہم ضرور ہے مگر میڈیا کے معیارات سے مختلف ہے۔ میڈیا وہ نہیں دکھاتا جو عوام کے لیے ضروری ہے بلکہ میڈیا وہ دکھاتا ہے جس سے عوام محضوظ ہوتے ہیں۔ یعنی میڈیا عوام کےلیے تماشا دکھانے والے مداری کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اور تماشا دکھانے والا کبھی تماشائی کی آواز نہیں ہوتا۔

میڈیا اگر عوام کی آواز ہوتا تو میڈیا اور عوام نظریاتی طور پر ہم آہنگ ہوتے اور فکری لحاظ سے ایک دوسرے کو سہارا فراہم کرتے۔ میڈیا سیکولر بنیادوں پر کام کرتا یے اور عوام میں سیکولرازم کے فروغ کو ہی دلائل کی چادر اڑھا کر پروان چڑھانے کیبکوشش کرتا ہے۔ یہ چادر ہر بار معاون ثابت نہیں پاتی۔ عوام کے نظریاتی طور پر قریب نہ ہونے کی وجہ سے ہی میڈیا عوام کے نزدیک کچھ بھی نہیں۔ اپنی آواز کے بند ہونے پر تو وجود اضطراب کا شکار ہوجاتا ہے مگر پاکستانی میڈیا پر آنے والے معاشی اور ادارتی وبال صرف انہی کے لیے جینے اور مرنے کا معاملہ بنا ہوا ہے۔

پاکستان کا میڈیا عوام کے بجائے اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقے کی آواز رہا ہے، انہی کی آواز بلند کرتا ہے اور انہی اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقے کےساتھ اٹھنا بیٹھنا میڈیا کا معمول ہے۔ آج انہی کا دستِ شفقت ہٹ جانے کی وجہ سے میڈیا کو وبال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے میڈیا پر پابندی لگانا بھی نہایت آسان ہے۔ میڈیا کی کمزوری اس سے زیادہ اور کیا ہوگی کہ ہمیشہ دوسروں کے اشاروں کا پابند رہتا ہے۔ صحافت کا وہ دور گیا کہ جب نظریات کی بنیاد پر بنا کسی سمجھوتے صحافت کی جاتی تھی۔ اب میڈیا اشرافیہ کا ایک آلۂ کار ہے جو کے عوام کو نچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تماشائی اور تماشا رچانے والوں کے درمیان میڈیا کا کردار اداکاروں کا ہے، جو ہدایتکار کے ماتحت ہوتے ہیں۔