سائنس اور مذہب، ایک فکری غلطی کا ازالہ - محمد عمیر

مشاہدہ انسان کی سرشت میں ہے۔ بچہ پیدائش کے بعد جب بولنا نہیں جانتا سن کر سمجھ نہیں سکتا، صرف اور صرف اپنے مشاہدے کی بنیاد پر، آنکھ کھولنے سے لیکر شعور کی ابتدائی دہلیز پر قدم رکھنے تک کی تمام منازل بخوبی طے کر لیتا ہے۔ سائنس کی بنیاد اسی مشاہدہ پر ہے۔

انسان جب کسی طبعی چیز یاعمل کو دیکھتا ہے اس کے بارے میں اپنے موجودہ علم کی بنیاد پراسے سمجھ کر ایک رائے قائم کرتا ہے۔ پھر وہ اس رائے کو مختلف تجربات کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ نتائج کی درستگی کی بنیاد پر وہ اس خاص سوچ یا نظریہ کو سائنس کا نام دےدیتا ہے۔ سائنس کی یہ خوبصورتی ہے کہ سائنسدان اپنے کسی بھی نظریہ کو کبھی بھی قطعی قرار دینے پر اصرار نہیں کرتا۔ اسے معلوم ہے کہ مشاہدات مسلسل تغیرات کا شکار رہتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ بڑھتے علم کی بنیاد پر ہر نئی آنے والی صبح ہماری سوچ فکر اور مشاہدہ کو نئی جلا بخشتی ہے۔ اور ہم دوبارہ اپنے نظریہ سے رجوع کرتے ہوئے اسے نئی بلندیوں پر پہنچا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس تیزی کے ساتھ ترقی کا سفرطے کر رہی ہے۔

موجودہ فزکس کے بانی نیوٹن کی نظریات کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے کچھ لوگ یہ سوچنا شروع ہوگئےتھے کہ سائنس تقریبا مکمل ہو چکی ہے اور پھر یوں ہوا ہمیں آئن سٹائن جیسا بہترین دماغ ملا جس نے مشاہدہ کی بنیاد پر سائنس کو ایک نئی جہت دی۔ کیا بوہر کے نظریات کو لے کر اس پر آئن سٹائن کی تنقید نے کوائنٹم فزکس کا باب مکمل بند کیا؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔ سائنس کا ہر طالب علم یہ بات جانتا ہے کہ ہر نظریہ قطعی نہیں ہوتا، اس میں ہمیشہ بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔

دوسری طرف مذہب کی بنیاد مشاہدات سے مبرا خالق کی قطعی پہچان پر ہے۔ ماضی میں انسان جب بھی کسی طاقتور چیز کو دیکھتا تھا تو اپنے مشاہدات سے اس کی برتری کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اپنا خالق اور پالن ہار تسلیم کرتا رہا ہے۔ انسان کی بشری کمزوری کو جانتے ہوئے الہام کے ذریعے خالق نے اپنی پہچان کروائی۔ جب ہم کسی بھی نئی سائنسی تحقیق یا ایجاد کو اسلام پہ منطبق کرتے ہوئے اسے اسلام کی حقانیت کا ثبوت گردانتے ہیں تو یہ مذہب کے ساتھ زیادتی ہے۔ کوئی بھی سائنسی نظریہ، جسے ہم آج مذہب سے جوڑ کر حق ثابت کرنے کے لیے رطب اللسان ہیں، اگر کل کو غلط ثابت ہو گیا تو کیا یہ مذہب پر شکوک و شبہات میں اضافہ کا موجب نہیں ہوگا؟ قرآن مجید میں بارہا مشاہدے کی دعوت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ جس چیز کے بارے انسان سوچ اور سمجھ سکتا تھا، اسے انسان کی عقل پر چھوڑ دیا گیا (سائنسی علوم)۔ جس چیز کا ادراک اپنے شعور اور فہم سےانسان کے لیے ناممکن تھا (خالق کی پہچان) اس کے لیے وحی کا انتظام کیا گیا۔ کسی جگہ پر بھی اسلام نے سائنسی علوم سے منع نہیں کیا بلکہ قرآن خود نشانیاں دکھا کر مشاہدے کو خالق کی موجودگی تسلیم کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ اسلام خالق کی پہچان کے ساتھ انسان کے لیے مکمل ضابطہ حیات بیان کرتا ہے۔ اصول معاشرت سے لیکر ہر طبقہ ہائے زندگی کی رہنمائی قرآن میں موجود ہے جس پر عمل پیرا ہو کر وہ خالق کی رضا اور خوشنودی حاصل کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کلچر یا اسلام ‎- ایمن طارق

ایک بات کی نشان دہی بہت ضروری ہے کہ جب سائنس قطعی نہیں ہے تو اسےدلیل بنا کر مذہب کو ہٹ نہیں کیا جا سکتا۔ سائنسی حلقوں کی جانب سے کسی بات کا تمسخر جسے مذہب نے اشارتا ذکر کیا ہو، بالکل ہی غلط اور بے بنیاد ہے۔ جیسے قرآن میں سات آسمان کا تذکرہ آیا ہے جسے سائنس ابھی تسلیم کرنے سے قاصر ہے، اس کی وجہ ہمارا سطحی مشاہدہ ہے۔ ابھی ہم سائنس کی اس معراج تک نہیں پہنچے جس کی بنیاد پر ہم کوئی قطعی فیصلہ صادر کر سکیں۔ جیسے آئن سٹائن کی تھیوری سے پہلے کئی صدیوں تک ارسطو کا دیا گیا، ایتھر کا نظریہ کئی سائنسی نظریات میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہوتا رہا ہے۔ پھر نظریہ اضافیت نے اسے غلط ثابت کیا اور اسی پرانے اصول پر قائم سائنسی نظریات کو ایک نئی سمت کی طرف گامزن کیا۔ بس اسی فرق کو پہچاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سائنس اور مذہب کی عمارت اسوقت تک دو الگ قسم کے اصولوں پر استوار رہےگی جب تک ہم سائنس کی معراج کو نہیں پہنچ جاتے۔ میرا ماننا یہی ہے کہ اسلام کسی بھی سائنسی وضاحت کا محتاج نہی‍ں ہے۔ اسے من و عن تسلیم کرتے ہوئے سائنس میں بہتر سے بہترین کا سفر جاری رکھا جا سکتا ہے۔