اشاعت دین میں حصہ دار بنیں، ایک نئے انداز سے - محمد عاصم حفیظ

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر سرگرم ایک داعی سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے ایک بات بتائی جوکہ میرے لئے کسی خوشگوار حیرت سے کم نہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے ایک دوست جو کسی موبائل کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں، انہوں نے اپنی انٹرنیٹ سم مجھے گفٹ کی ہے اور میں اس کے استعمال سے اپنے دعوتی کام سرانجام دیتا ہوں۔ سوشل میڈیا کا استعمال میرے لیے آسان ہو گیا۔ یہ واقعی سوچ کا ایک نیا انداز ہے۔

آج کے دور میں اشاعت دین میں تعاون کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ آپ کسی داعی مبلغ یا لکھاری کو اس طرح کی سہولیات فراہم کریں کہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر دعوتی میدانوں میں اپنا فریضہ سرانجام دے سکے۔ ہم میں سے ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ علمائے کرام سکالرز اور دینی تبلیغ سے منسلک نوجوان عالمی سطح پر ہونے والی اسلام مخالف سازشوں کا مقابلہ کریں ان کی تحریر اور تقریر میں ایسے مسائل اجاگر کیے جائیں جن کی جدید معاشرے میں ضرورت ہے۔ جبکہ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ ہمارے دعوت وتبلیغ سے منسلک بہت سے داعی مبلغ اور لکھاری اپنی معاشی مصروفیات سے بمشکل وقت نکال کر رضائے الہی کے لئے یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم ان کے لئے کچھ ایسی سہولیات کا بندوبست کریں جن سے وہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے فیضیاب ہوسکیں بلکہ کتب لیپ ٹاپ انٹرنیٹ موبائل فون اور دیگر ایسے ہی آلات ذرائع ابلاغ ان کو میسر ہوں۔

گزشتہ دنوں ایک محفل میں ایک بڑے قاری صاحب کو مشورہ دیا جارہا تھا کہ وہ کچھ ایسے واٹس اپ گروپ جوائن کریں جن میں دنیا بھر کے قراء کرام کی بہترین تلاوت بھیجی جاتی ہیں لیکن ان قاری صاحب نے فرمایا کہ دعا کریں کہ جلد ایسا موبائل خریدنے میں کامیاب ہو جاؤں کہ جس کی میموری اور سپیڈ اس قابل ہو کہ میں ان ویڈیوز کو محفوظ کر سکوں ۔ مجھے کسی نے کامونکی کے ایک بزرگ تاجر کے بارے میں بتایا کہ وہ بڑے شوق سے کچھ علمائے کرام کو ہر سال نئے موبائل فون صرف اس مقصد کے لئے تحفہ دیتے کہ ان کے ذریعے آپ دعوت دین کے لئے روابط کریں۔ اسی طرح ایک نامور شیخ الحدیث صاحب کے بارے میں کسی نے بتایا کہ وہ لیپ ٹاپ اور موبائل فون کے استعمال کو مدرسہ کے بچوں کےلئے ناپسند کرتے تھے لیکن پھر ایک نوجوان نے انھیں مکتبہ شاملہ اور دیگر احادیث سافٹ وئیر کے بارے میں بریفنگ دی اس کے بعد مولانا کا فرمانا تھا کہ چاہے گھر میں کوئی بھینس یا کوئی اور چیز بیچنی پڑے لیکن یہ لیپ ٹاپ ضرور حاصل کریں۔ شاید انہیں علمائے کرام اور نوجوان مبلغین کی معاشی حالت زار کا اندازہ تھا کہ وہ گھر کی کوئی چیز بیچ کر ہی ایسی ڈیوائسز حاصل کرسکتے ہیں۔ مدارس و مساجد کی تنخواہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ مدرسین، علمائے کرام اور دینی علوم کے طالبعلم ان "عیاشیوں" کی متحمل ہو سکیں۔ ایک دینی چینل کی انتظامیہ چاہتی تھی کہ ایک بزرگ سکالر سے اپنے پروگرامز کے بارے میں رائے اور بہتری کی تجاویز لی جائیں تو انہوں نے ان سکالرز کےلئے ڈش انٹینا اور ایل سی ڈیز کا انتظام کیا تاکہ وہ اس چینل کے پروگرام کو با آسانی دیکھ کر اپنی قیمتی آراء دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ دینی جذبہ رکھنے والے صاحب ثروت احباب بھی دینی حلقے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اس سے امید رکھتے ہیں کہ وہ عالمی سازشوں کا مقابلہ کر پائیں گے۔ ہم یہ تو خواہش رکھتے ہیں کہ میڈیا پر اسلام مخالف مواد کافوری اور مدلل جواب دیا جائے لیکن اس بارے غور نہیں کرتے کہ علمائے کرام اور دینی اسکالرز اور خاص کر نوجوانوں کے پاس ایسے وسائل ہی نہیں کہ وہ میڈیا پر آنے والے اس مواد کو بروقت دیکھ سکیں۔ بہت سے مفکر یہ رائے تو دیتے ہیں کہ مدارس کے طلباء کو انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ ور ہونا چاہیے لیکن وہ ایسا نہیں کرتے کہ مدارس کو لیپ ٹاپ یا آئی ٹی لیب گفٹ کردیں ۔ دینی شعور رکھنے والے اور اظہار رائے کی صلاحیت کے حامل بہت سے باصلاحیت نوجوان محض اس لئے اپنی رائے کا اظہار نہیں کر پاتے کیونکہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے اور بہت جلد وہ معاشی حالات خاندانی ضروریات اور دیگر مسائل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس شوق سے ہی توبہ کر بیٹھتے ہیں۔ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو کئی ایسی باصلاحیت نوجوان نظر آئیں گے کہ وہ اگر اشاعت دین سے منسلک ہوں یا انہیں کچھ وسائل فراہم کیے جائیں تو انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں ۔ لیکن ان کے معاشی حالات انہیں مزدور بنا کر رکھ دیتے ہیں اور وہ دینی حلقوں سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔

نوجوان طلباء مبلغین اور سکالرز اپنی صلاحیتیں پیش کر سکتے ہیں اور وقت کی قربانی دے سکتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی، ذرائع ابلاغ کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ اگر موبائل فون، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر وغیرہ خراب یا گم ہو جائے تو ٹھیک کرانے یا نیا حاصل کرنے کی ہمت نہیں پڑتی اور اسی طرح دیگر اخراجات بعض اوقات سوشل میڈیا کی "عیاشی" سے محروم کر دیتے ہیں۔ آج اگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے معاشروں میں سیکولر ازم اور لادینیت پھیل رہی ہے، عوام کو دین سے متنفر اور دور کیا جا رہا ہے تو اس کے پیچھے وہ سرمایہ کاری ہے جو مغربی ممالک کی حکومتوں اور اداروں نے کی ہے۔ وہ اپنی تہذیب و ثقافت پھیلانا چاہتے ہیں اسی لیے اپنے سکالرز کو سپورٹ کرتے ہیں۔ جو ان کےلئے خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ یہ تھنک ٹینک اور ریسرچ سینٹرز باقاعدہ فنڈڈ ہوتے ہیں جو مختلف سکالرز کو بنا کر دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ مغربی تہذیب و ثقافت کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کو نہ صرف وسائل فراہم کئے جاتے ہیں بلکہ بیرون ملک سفر ہم خیال افراد کی باہمی ملاقاتوں کا اہتمام اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ دنوں کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تعاون سے منایا جانیوالا فیض میلہ تھا جس میں بیرون ملک سے افراد بھی شریک ہوئے ۔ ان کروڑوں کے اخراجات کو کس نے برداشت کیا ظاہر ہے انہی حلقوں نے جو بائیں بازو کی قوتوں کا پیغام پھیلانا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان بننے کے بعد کیا ہوا؟ جاوید چوہدری

ہم یہ سوچے بیٹھے ہیں کہ معاشی کسمپرسی میں جکڑے علمائے کرام اور دینی شعور کے حامل سکالرز خود ہی ان عالمی سازشوں کا مقابلہ کر لیں گے ۔ ایک بڑی تعداد میں نوجوان جنہیں اشاعت دین کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے وہ دینی جذبے اور صلاحیت کے باوجود دیگر شعبہ جات کو اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ جو مساجد و مدارس کیساتھ منسلک ہیں ان کی معاشی حالت انہیں گھرداری کے اخراجات سے آگے سوچنے ہی نہیں دیتی ۔ کچھ ہوتے ہیں کہ جو حالات کے اس جبر کے باوجود رضائے الہی کے لئے ڈٹے رہتے ہیں ۔ انہی کے دم سے ابھی بھی معاشرے میں کچھ دینی بہار نظر آتی ہے لیکن یہ بھی سوال ہے کہ وہ کب تک حالات کا مقابلہ کر پائیں گے ۔ کیوں نہ معاشرے کے دینی جذبہ رکھنے والے صاحب ثروت احباب اسی نظریاتی جنگ میں اپنی ذمہ داری نبھائیں اور ان کےلئے جدید سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کریں۔ آپ اپنے اردگرد حلقہ احباب میں اور سوشل میڈیا پر ایسے باصلاحیت افراد کو باآسانی تلاش کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ سجھتے ہیں کہ کسی خاص عالم دین کو جدید مسائل سے آگاہ ہونا چاہیے ۔ وہ ماڈرن و سیکولر طبقے کے سوالات کے جواب دے ۔ ان کا یوٹیوب چینل یا ویب سائیٹ ہو ۔الیکٹرانک میڈیا پر اظہار خیال کرے تو اس کے لئے موبائل ۔ لیپ ٹاپ ۔ ایل سی ڈی انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات کا بندوبست کریں کیونکہ ہو سکتا ہے اس کے معاشی حالات ان کو خریدنے کی اجازت نہ دیتے ہوں ۔ اس نظریاتی جنگ کےلئے ہونیوالی صف بندی میں سیکولر اور ماڈرن فکر کے مقابلے کےلئے اپنے ہم خیالوں کو مسلح کرنے کی ضرورت ہے اور آج کا اسلحہ شائد یہی وہ ذرائع ابلاغ ہیں جن سے اسلام مخالف سازشوں اور دین بیزار قوتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے دین سے دور نہ ہوں وہ اسلام کے پیروکار بن کر آپ کےلئے مفید بنیں تو پھر کچھ سرمایہ کاری کیجیئے ان باصلاحیت افراد پر جو معاشرے میں دین کی شمع جلانے کےلئے اپنی توانائیاں اور وقت دے رہے ہیں ۔