میں نے فیس بک کیوں چھوڑی؟ - سلمان اسلم

یہ سنہ 2010ء کی بات ہے جب میں یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا اور فیس بک سے نیا نیا شناسا ہوا تھا۔ سوشل سرکل نام کا ہی سہی کہہ لو، بڑھ رہا تھا، مگر درپردہ تیزگرمی کی اک لو کی مانند تھا جو دور سے ہی صرف نظر آتی ہے، پاس جا کر دیکھ لینے اور چھوکر محسوس کیا نہیں جاسکتا، اس سے زیادہ اس کی (اپنے سوشل سرکل) کوئی خاص وقعت نہیں تھی۔ خیر اوائل عمری میں تو فیس بکی دنیا میں بس اک محدود سی گردش رہتی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ مری محبت کا سماں ہوتا گیا۔ تب فیس بک اک جدید فیشن بھی محسوس ہو رہا تھا اور نہایت کارگر (بے روزگار مصروفیت کا مصداق) بھی، مگر یہ حقیقت مجھ پہ مرے ماموں نے قریب 2011ء کے ابتدائی مہینوں میں کھول دی جب وہ بیرون ملک سے چھٹی پہ پاکستان آئے تھے۔ تب فیس بک کا نام اور چرچا زبان زدعام ہونا شروع ہو چکا تھا۔ مرے ماموں نے مجھے کہا کہ یار ہم نے تو یورپ میں 2006ء میں ہی فیس بک استعمال کرنا چھوڑ دیا تھا اور تم لوگ یہاں اب 2011ء میں اس کے استعمال پہ بڑے اتاولے ہو رہے ہو۔ ان کے کہنے کا مقصد تھا اپنا وقت خراب کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے فیس بک۔

سردست مرا موضوع فیس بک کے فوائد و جرائد بیان کرنا نہیں۔ آج مجھے قریب 8 سے 9 مہینے ہونے کو آئے ہیں میں نے فیس بکی سرگرمیاں الحمد اللہ ختم کر رکھی ہیں۔ مرے فیس بک چھوڑنے کی کئی وجوہات میں سے اک وجہ فیس بکی دانشوری تھی۔ ایسے عظیم افلاطوں اور ارسطو بھی اس فیس بکستان میں موجود ہیں جو بداخلاقی کے اعلی مناصب پہ فائز ہیں، جو بات کرنے کے آداب کے حروف تہجی تک سے نابلد ہیں۔ اور بعض اپنی دانست کو اپنے نظریے کو عقل کل منوانے کی لت میں مبتلا ہیں۔ میں ذاتی طور پر کھڑوس اور اعلی نالائق بندہ ہوں، عقیدت و محبت میں نمک جیسا محلل ثابت ہوتا ہوں مگر مرا عقیدت و محبت کا خول کانچ سے بھی نازک حال ہوتا ہے۔ آخری مرحلے میں کچھ وقت تک مختلف گروپس کا ممبر رہا ہوں اور بہت سوں سے متاثر بھی رہا ہوں، کیونکہ بہت ساری حکمت بھری باتیں آسان فہم انداز میں ان سے سیکھنے کو معلوم ہوئیں مگر بہت ساری باتوں پہ شرعی نفوس کے عوض اختلاف رہا، جو آج تک قائم ہے۔

اس فیسبکستان کا سب سے بڑا المیہ گروپس یا پیجز پہ موجود اندھے مقلدین کا ہے، اک اندھی عقیدت نے سحر زدہ آسیب کی مانند سب کو دبوچ کے رکھا ہے۔ مرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ کسی بھی گروپ یا پیج کے منتظم پہ کسی بھی قول و فعل میں شرعی امور کے تناظر سے کنایتاً بات کر لیں، اعتراض اٹھا لیں تو اندھے اور لنگڑے مقلدین کا اک جم غفیر آکھڑا ہوگا دفاع میں اور عجیب عجیب دلائل دینے شروع کر دیتا ہے۔

اس حوالے سے چند بنیادی امور پہ اپنا نقطہ نظر سامنے رکھوں گا۔ قارئین میں سے ہر کسی کو مری رائے یا نقط نظر سے مکمل طور پر اختلاف کا حق حاصل ہے۔

1) اسلام میں فقہ اور شرعی حکم کے مطابق منہ بولے رشتوں کی کوئی وقعت نہیں۔ میں بھی چند اک ایسے ہی منہ بولے رشتوں سے نتھی رہا ہوں۔ جنہوں نے مری باغیانہ طبیعیت کی بنا پہ اس سے قطع تعلق کر لیا جو بہت ہی خوش آئند بات ہے ہمارے لیے۔ ان گروہوں یا پیجز میں یہ رواج زبان زد عام ہے کہ منہ بولی بیٹی اور بہنیں اور بھائی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اور سونے پہ سہاگہ والی بات یہ کہ جتنی محبت ان گروہ یا پیجز نا پرسان میں پائے جانے والے منہ بولے رشتوں میں محسوس کی جاتی ہے، اک دوسرے کے لیے اتنا لگاؤ، محبت اور انس اپنے سگوں سے ہو جائے تو زندگی کی ساری تھکان، عداوتیں اور ڈپریشن ہی ختم ہو جائے۔ اور اس سے بڑی بدبختی کیا ہوگی کہ اک نامحرم صحبت کو محرم صحبت سے ترادف کے قصیدے ہر زبان گنگناتا ہے۔ آزاد خیالی کے یہ ہم کون سے سفر پہ نکل کھڑے ہوئے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   اشاعت دین میں حصہ دار بنیں، ایک نئے انداز سے - محمد عاصم حفیظ

2) شرعی اصول کی وقعت یہاں اس فیبکستان پہ موجود نام نہاد طریقت و شخصی عقلیت کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ جبکہ علمآء اور اسلاف کی رائے اور فتوی تو یہی ہے کہ طریقت کا سفر شریعت کے پگڈنڈیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ جبکہ یہاں پہ ایسی فضاء کے وجود کا امکان تک نہیں پایا جاتا۔ یہاں تو ہر اس شرعیت و اصول کو مقلدین نہیں مانتے جو اس کے رہنما / استاد کے خلاف آتے ہوں یا ان کے ذاتی کسی مفاد سے تضاد میں ٹکراتے ہوں اور یا پھر ان کے مابین موجود منہ بولے رشتوں پر حرف اٹھاتے ہوں۔

3) شخصی محبت کا ایسا حصار قائم کیا گیا ہے جس کی دیواریں پھلانگنے کا تصور بھی پختہ عقیدت مندوں کے لیے کفر کے مترادف ہے۔ اس کی دلیل اک عام سی بات سے دینا کافی ہوگا۔ میں نے انھی پیجز میں سے اک پیج پر سورہ الشعرآء کے اک دو آیت کا ترجمعہ و تفسیر بآواز ڈاکٹر اسرا احمد مرحوم علیہ الرحمہ کا شیئر کیا۔ اس پہ اک صاحب گروپ بول اٹھے کہ صاحب ویڈیو ( ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم) مرے لیے کوئی سند نہیں رکھتے ۔ یہ بالکل ایسی بات تھی جیسے کہ موم بتی دعوی کرے کہ سورج مرے سامنے کچھ نہیں۔ اور بس اسی اک رجل واحد کی اقتداء میں اندھے اور لنگڑے مقلدین کے دلائل اور حجت بازیاں شروع ہوگئیں۔ کوئی حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی مثال کو استدلال بنا رہا تھا اور کسی نے تو قرآن کو شاعری تک کہا۔ اللہ کی پناہ ۔ غرض کام اور مقصد کی بات پیچھے رہ گئی اور اپنی دانشوری کے تھوک جھڑیوں کی فوار جاری ہوگئی۔ ایسی سوٹڈ بوٹڈ حماقت روی میں بہتر یہی لگا کہ اپنی دم سادھ لی جائے اور قرآن کی سورہ یآسین کی آیت کریمہ پڑھنے پہ اکتفا کیا جائے۔

وَ مَا عَلَّمۡنٰہُ الشِّعۡرَ وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ وَّ قُرۡاٰنٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۶۹﴾

ترجمہ : بعض مشرکین کہا کرتے تھے کہ (معاذ اللہ) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شاعر ہیں، اور قرآن کریم آپ کی شاعری کی کتاب ہے۔ یہ آیت اس کی تردید کر رہی ہے۔

4) عقیدت مند پیادوں کے اس جم غفیر سے مری مدبھیڑ کئی بار ہوئی اور اس کی وجہ بھی فقط مرا ان کے عقیدت کے نیوکلیئس پہ معترض ہونا تھا۔ بعض گروہوں یا پیجز کے ممبران کے مابین باہم اک اجتماعی سرگرمی منعقد ہوتی تھی" گٹ ٹو گیدر" کے نام سے اور آج بھی وہ روایت قائم ہے۔ جس میں گروپ کے ہر ممبر کو شرکت کی دعوت عام دی جاتی ہے کسی بھی جنسی تفریق سے ماواراء سارے مل بیٹھتے ہیں اور اپنے استاد یا گرو سے ملاقات سمیت گفتگو اور سوال و جواب کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر وہ منہ بولے رشتہ دار الفاظ، لائکس اور کمنٹس کے غلاف سے نکل کر باہم آمنے سامنے مل بھی لیتے ہیں۔ اور گروپ یا پیجز پر آپس میں عبث گپ شپ تو معمول کی بات رہتی ہے۔ کچھ عرصہ تو ضبط سے کام لیتا رہا مگر مرتا کیا نہ کرتا، بالآخر چپ کا روزہ توڑ دیا اور اس قباحت حسنہ / سیئہ کے خلاف آواز اٹھانی شروع کی۔ جس پہ مجھے اک آدھ لیڈران سے گروپ بدر اور بلاک وغیرہ کی دھمکیاں بھی ملیں مگر کیا نہیں۔ اسی مہم جوئی میں اک دن میں نے "کچھ انوکھی بات" کے نام سے اک پوسٹ شیئر کی اک گروپ / پیج میں، جس پہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اک قول مبارک (تین چیزیں ایمان کو خراب کرتی ہیں، امیروں کی مخفل، جاہلوں سے بحث اور عورتوں کی صحبت) کی روشنی میں اس جاری قباحت حسنہ / سیئہ کی وضاحت پیش کر دی، اور ممانعت کی تلقین لکھ دی۔ بس یہ کہنے کی دیر تھی کہ سارے منہ بولے رشتہ دار اور قرابت دار سر بکف میدان میں اتر آئے۔ بےلگام گھوڑے کی طرح بےلگام اور بےتکی، غیر منطقی و غیر شرعی دلائل کے تیر برسانے شروع کر دیے۔ کوئی یہ کہنے پہ مُصر تھا کہ حیاء دل میں ہونی چاہیے تو کوئی اس بات پہ بضد تھا کہ ہم نے گھر جیسا ماحول پایا اور عزت پائی، اور کوئی تو اپنے دل کی بات کھل کر بلا خوف و خطر کہنے کی پھول جھڑیاں بکھیر رہا تھا / تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   فیس بکی تعلق داروں سے ہیلو ہائے - حافظ یوسف سراج

5) میں نے شاید ہی وقت کے ضیاع سے مہلک ترین جگہ کوئی اور دیکھی ہو جتنا کہ ان گروپس یا پیجز پہ ہوتا ہے۔ ایسے نامراد اور بے معنی سے پوسٹس پہ اتنے سارے کمنٹس ہوتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ مگر اللہ شاہد ہے کبھی بھی کسی علمی پوسٹ پہ اس کا تقابل کہیں کم ہوتا تھا الا ماشاءاللہ (مستثنیات شامل حال رہتی ہے ہر جگہ) اور یہ اعتراض اک ممبر نے اٹھایا بھی تھا کہ بےمقصد پوسٹوں پہ افلاطونی کمنٹس کا سائیکلون چلتا رہتا ہے، جبکہ علم و مقصد والے پوسٹوں پہ اناڑیوں کا ماتم رہتا ہے۔ مگر اس بات پہ کوئی کان تک نہ دھرا گیا۔ ایسے میں ہم کیا انقلاب لائیں گے سوائے اپنا نشیمن جلانے کے۔ قرآن نے اک خوبصورت اشارہ دیا ہے " انه لكم عدو مبين " (کہ یہ مردود تمھارا کھلا دشمن ہے)۔ یہ مردود اچھے کام سے ہی گمراہی کا راستہ بنانے لگتا ہے۔ خدارا اس کو سمجھیں، نامحرم چچازاد بھائی سے بھی بات نہ کرنے اور پردہ کرنے کا حکم شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا ہے۔ تو پھر یہ منہ بولے بہن ، بھائی اور بیٹی کے رشتے کہاں سے آگئے۔ اور جب شریعت نبوی کا صریح حکم آگیا تو پھر ہم کون سی عقل دانی دکھا رہے ہیں اور کیوں؟ کیا شریعت نبوی کی بات عقل سے ماوراء ہے معاذ اللہ ثم معاذاللہ۔ جتنی عزتیں اور گھروندے اس دل میں حیاء ہونے اور رکھنے کی آڑ میں تار تار ہوئی ہیں، شاید ہی کہیں اور یا کسی اور سے ہوئی ہو۔ اس شعر پہ اختتام کروں گا۔


دل سے جو بات نکلتی ے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے


خدا کرے یہ باتیں سمجھ اور اس کے موافق عمل میں آجائے ۔ آمین

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • وہی گٹر سوچ کہ ہمچو ما دیگرے نہیست،، دین وہی جو میں سمجھا ہوں،،، منہ بولے رشتے اسلام میں نہیں تو مواخات کیا تھی، شاعری پر بے معنی تنقید،، تنگ نظری اور گھٹن سے بھرپور تحریر،،معذرت کے ساتھ۔۔

    • السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ۔۔۔۔
      اسلام منہ بولے رشتوں کی کوئی وقعت نہیں ہے پہ اپکی سمجھ رک گئی ۔۔۔۔ جسکا مطلب یہی تھا اور آسان بھی کہ منہ بولے رشتے سے اسکی حرمت ختم نہ ہو جاتی ، نہ محرم بنتا ہے کوئی ، نہ وارث بنایا جاسکتا ہے ۔ اس ضمن میں یہ بات لکھی گئی تھی اور تب ذہن میں سورہ الاحزاب آیت نمبر 37 کا تذکرہ موجود تھا ۔۔ رہی بات مواخات کی تو سوشل پہلو کو سامنے رکھ کر اس بات پہ واویلا کرنے سے پہلے یہ حدیث پاک تو سامنے ہر کسی کے رہتی ہے کہ " تمام مسلمان آپسمیں بھائی بھائی ہیں ۔" اب یہ مواخات کی بہترین تعریف ٹھہر گئی جسکا عملی نمونہ محبوب پاک علیہ الصلواة والسلام نے مواخات کی صورت میں پیش کر دیا ۔۔۔۔
      دوسرا شاعری پہ بے جا تنقید کی سمجھ تو مجھے آپکی نہیں آئی محترم ۔۔۔ وضاحت کے لیے اتنا کہونگا کہ ہر شاعری قابل اعتراض نہیں ہوتی اور نہ قابل تعرف ۔۔ ۔ اقبال علیہ الرحمہ ، مولانا روم علیہ الرحمہ کو ایسے دائرے میں رکھا نہیں جا سکتا مگر باقی الغیر کثیر تعداد میں آپکے سامنے ہے ۔۔۔ سورہ یاسین کی آیت مبارکہ سامنے پیش کی ہے اب یہ اتنی ہی قابل تحسین ہوتی تو اللہ قرآن میں یہ آیت نازل فرماتا ؟ اب حسان رضی اللہ عنہ کی شاعری ان سب سے الگ ۔۔۔۔۔
      خلاصہ کلام ۔۔۔۔۔ انسا ن وہی لکھتا ہے جو اس نے سیکھا دیکھا پرکھا اور سمجھا ہوتا ہے ۔ جو دراصل اسکے خود اندر موجود ہوتا ہے ۔۔۔۔
      امید ہے اپکی تنگ نظری کچھ حد تک کم ہوئی ہوگی

      جزاکم اللہ خیر ۔۔۔ اللہ ہم سب کو کامل ہدایت عطا فرمائے آمین ۔۔۔۔