نبی ﷺ کی ولادت کا دن کیسے منانا چاہیے؟ -سائرہ فاروق

میلاد عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ولادت کے ہیں۔ انگریزی میں اسے ”برتھ ڈے“ کہا جاتا ہے، چنانچہ یوم میلاد نبیؐ معروف معنی میں عید کا دن ہے۔

یوم میلاد النبی کا تہوار یا خوشی کا دن تمام امت مسلمہ کے لیے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ربیع الاول کے مہینے میں منایا جاتا ہے جو اسلامی تقویم کے لحاظ سے تیسرا مہینہ ہے۔ـ
گویا آپؐ ہی کے وجودِ مسعود کے تصدق اور توصل سے ہر وجود کو سعادت ملی ـ۔
گویا یہ آپؐ کے ہی صدقہ و توسط ہے کہ کائنات تخلیق ہوئی ـ۔ ہمیں قرآن کی صورت رشد و ہدایت کا سرچشمہ نصیب ہواـ۔ ہمیں وحدانیت کا الہامی تصور ملا کہ اب ہماری جبین کئی پتھروں پر نہیں ٹکتی بلکہ قُل ھُوَ اللّہُ اَحَد نے ہماری منزل کا تعین کردیاـ۔

آپؐ کی پیدائش باسعادت کے روز مساجد، راستوں، گھروں کی سجاوٹ انتہائی محبت سے کی جاتی ہے۔ عوامی جلوس اور نعت خوانی کی مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔ ـ سماجی اجتماع مرتب کیے جاتے ہیں۔ روزہ رکھنے کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔ مسلم سماج میں یہ اہتمام انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر دینی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ پکوان تیار کرکے نذرونیاز کا ایک سلسلہ صبح سے شام تک چلتا ہے لیکن اس سب میں کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ حبِ رسولﷺ دراصل ہے کیا ؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ حبِ اصول کو ہم نے ظاہری اظہار تک ہی محدود کردیا ہو؟ ـ دراصل ہم حضور کی پیدائش کی غرض و غایت کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ آپ کے حسن عمل اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے تابدار نقوش سے اپنی فکر و عمل کو منقش ہی نہیں کرپارہے۔ ـ ہم بس آمد مصطفیٰ ﷺکو مذہبی فریضہ سمجھ کر منا رہے ہیں بلکہ اس فریضے کو نمود و نمائش سے مرصع کرچکے ہیں۔ ـ

دراصل عیدمیلادالنبی کی تقریب منانے کا اصل مقصد اسوہ حسنہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہے ـ۔ آپ کی پاکیزہ تعلیمات کی روشنی میں ظلم و عصیاں، جہالت و منافقت، تمرد و سرکشی کا قلع قمع کرکے علم و بصیرت کے چراغ روشن کرنے ہیں ـ تاکہ ہماری روحیں لذّتِ عرفان و ہدایت سے بہرہ مند، آنکھیں نور ایمان کو حیا سے منور، دل جذبہ غیرت و حمیت سے لبریز اور کان صدائے حق و صداقت سے مانوس ہوجائیں۔ـ

سورہ نساء کی آیت میں باری تعالیٰ یوں مخاطب ہے ترجمہ ”اور اللہ کی بندگی کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آؤ، ـ والدین کے ساتھ قرابت داروں کے ساتھ پڑوسیوں کے ساتھ خواہ قرابت والے ہوں یا خواہ اجنبی نیز اس پاس کے بیٹھنے والوں اور مسافروں کے ساتھ اور جو لونڈی، غلام یا ملازم تمہارے قبضے میں ہوں ان کے ساتھ ،کیونکہ اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اترئیں اور بڑائی مارتے پھریں۔

اس آیت میں انسانوں سے حسن سلوک کی تربیت واضح اور واشگاف الفاظ میں دی گئی مگر ہم اس دن کی مناسبت سے اپنی قوت کا اظہار بڑے بڑے جلوس نکال کر کرتے ہیں جس کا انتظام و انصرام شاہراہوں کو بند کرکے کیا جاتا ہے۔ ـ

اگر اس دوران خدانخواستہ ایمرجنسی ہو جائے تو نہ رسائی میڈیکل اسٹور تک ہوسکتی ہے نہ ہی اسپتال تک!
کیا جلوس کے ذریعے سڑکیں گزرگاہیں بند کرکے ہم نبیؐ کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں؟

ہزاروں میٹر کے کپڑے پر لکھی گئی قرآنی آیات اور ان پر بنائی گئی بیت اللہ اور رسولﷺ کی شبیہ ہم بڑی عقیدت سے بناتے ہیں اور انہیں اہم عمارتوں، شاہراؤں گلیوں کے بیچوں بیچ باندھ دیا جاتا ہے جو کئی دن گزرنے کے بعد بارش، آندھی طوفان کی وجہ سے پھٹ کر جابجا راستوں میں لٹک رہی ہوتی ہیں جو مزید بے ادبی کا باعث تب بنتی ہیں جب اس کپڑے کو بطور ڈسٹر یا سافی کے استعمال میں لایا جاتا ہے ۔

اسی طرح گانوں کی طرز پر نعتیں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے فل والیم کے ساتھ رات رات بھر چلائی جاتی ہیں ۔ـ اس احساس کے بغیر کہ شاید کوئی آس پڑوس میں بیمار تنگ بھی ہوسکتا ہے۔ کیا ہمارے ایسے عمل سے مذہبی اور سماجی تقاضے پورے ہورہے ہیں؟ اس میں شک نہیں کہ چراغاں یا شہنائی خوشی کے موقع پر ہی کی جاتی ہے ـ مگر اسلام کے نزدیک حقیقی خوشی انسانیت کی بھلائی میں مضمر ہے۔ـ

اسلام میں ایسی نیکی پسندیدہ ترین ہےجو حجم میں کم ہو مگر وزن میں زیادہ ہو جیسے ایک یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے سے اُسے پناہ کا احساس مل جائے یا پڑوس میں بھوک و افلاس کا مارا ایک گھرانا ہماری بروقت توجہ سے شکم پوری کے بعد خوش ہوجائے۔ ـ

عموماً ہمارے سماج میں سالگرہ کے دن خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے ـ تحفے تحائف عمر اور مزاج کے مطابق خریدے جاتے ہیں ـ۔ بچہ ہے تو کھلونا اور بڑا ہے تو پھول مٹھائیاں وغیرہ خوشی سے لے کر جائی جاتی ہیں۔ ـ حضورﷺ کے میلاد پر بھی تو ہمیں ایسے تحائف کا اہتمام کرنا چاہیے اور وہ تحفہ پیش کرنا چاہیے جس سے حضورﷺ خوش ہوں ـ تو حضورﷺ فرماتے ہیں کہ راہ کی رکاوٹ کو ہٹا دو تاکہ وہ دوسروں کو تکلیف نہ دے ـ کچرا راستے میں مت پھینکو ـ راستے میں مت بیٹھو۔ ـ

یہ جو خود ساختہ مزاج ہماری قوم میں آیا ہے کہ گلیوں میں ناکے لگاکر چندہ وصول کیا جاتا ہے اور نہ دینے پر ٹھٹھہ اڑاتے ہیں اسے ہم مذہبی خدمت کی انجام دہی نہیں کہہ سکتے۔ ـ چراغاں گھروں میں ضرور کریں مگر گلی میں کسی گھر میں بھوک چمک رہی ہو تو بہتر ہے پہلے اس کا بندوبست کیا جائے۔ دیکھ لیجیے کہ کوئی ہمسایہ رشتہ دار تنگدستی کے ہاتھوں خودکشی تک تو نہیں آگیا؟ـ اگر ایسا ہے تو آپ حسب توفیق ان کی، جو آپ کے قریب ہیں، مدد کیجیے ـ اس میلاد پر ان کے لیے ایک تحفہ تیار کیجیے جس میں آٹے سے لے کر دالوں تک، بچیوں کی چوڑیاں، نئےکپڑے، ایک شاپر میں ڈال کر اس پر عید میلاد النبی لکھیں اور رات کی تاریکی میں چپکے سے ان کے گھر دے آئیں۔

ہم اگر عاشق رسولﷺ ہیں تو اپنے محبوب کی کوئی سنت تو اپنائیں۔ آئیے کبھی میلاد ایسے بھی منائیں۔