گریٹ گیم میں کریملن کی واپسی؟ عارف بہار

سوویت یونین نے افغانستان کی جنگ میں دس سال ہی میں نوشتۂ دیوار پڑھ کر واپسی کی راہ لی تھی۔ سوویت یونین نے یہ سبق پڑھا تو اپنے وجود، عالمی دبدبے، طنطنے اور انا کی پروا کیے بغیر افغانستان سے واپسی کا سامانِ سفر باندھ لیا حالاں کہ اس وقت دنیا میں دو ہی طاقتوں امریکا اور سوویت یونین کا ڈنکا بجتا تھا۔ سوویت یونین ایک وسیع وعریض رقبے کا مالک تھا اور اس کے زیر اثر ریاستوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ دنیا کے ہر ملک اور کونے میں سوویت یونین کے نظریاتی ہمنوا کہیں عوام میں تو کہیں حکومتوں میں موجود تھے۔ دنیا کے بے شمار ملکوں میں کمیونسٹ نظریات کی حامل جماعتیں اور گروہ کھلے بندوں سوویت یونین کی حمایت کا دم بھرتے تھے۔ اس ماحول میں سوویت یونین کا اپنی طاقت اور حیثیت پر اِترانا، ناز کرنا اور انا کے گھوڑے پر سوار ہونا قطعی بے وجہ اور بے سبب نہ تھا۔ اس کے باوجود جب سوویت یونین نے یہ جان لیا کہ افغانستان اس کی طاقت کے لیے تاریخ اور وقت کا ’’بلیک ہول‘‘ ثابت ہو رہا ہے تو سوویت قیادت نے اسے رستا ہوا زخم کہہ کر واپسی کا راستہ تلاش کیا۔ طاقت کے خلا کو پر کرنے، فارمولوں کی تیاری، مذاکرات کے نتائج کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے دس برس سے مصروف جنگ فوجیوں نے افغانستان میں اپنے ہمنواؤں اور ڈگماتی نجیب حکومت کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا اور لشتم پشتم بستر باندھ کر دریائے آمو عبور کرلیا۔

جو سبق سوویت یونین نے دس برس میں پڑھ لیا اسے امریکا نے پڑھنے میں سترہ برس ضائع کردیے۔ سوویت یونین کے دس برس اس کی طاقت کی ڈھلتی ہوئی چھاؤں کے دس برس تھے جب اس کے اقتصادی قویٰ مضمحل اور سیاسی اعصاب چٹخ رہے تھے وہ ایک موہوم امید پر افغانستان کا بوجھ اپنے کمزور پڑتے پروں پر سہار ے ہوئے تھا۔ اس کے برعکس امریکا دنیا کی واحد سپر طاقت تھا۔ یہ سترہ برس جو اس نے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں کو سرکرنے میں گنوا دیے یونی پولر طاقت کے خوبصورت لمحات انجوائے کرنے کا زمانہ تھا۔ جب دنیا کے نقشے پر امریکا واحد سپر طاقت کے طور پر موجود تھا۔ دنیا میں اسے کوئی سنجیدہ عالمی، سیاسی، سفارتی، اقتصادی اور عسکری چیلنج درپیش نہ تھا۔ یورپ اس کی جیب کی گھڑی تھا تو اس کا سابق عالمی حریف روس ہاتھ کی چھڑی۔ چین اپنی اقتصادیات کی دنیاؤں میں گم حال مست مال مست کی تصویر تھا تو بھارت جو سردجنگ کے زمانے میں سوویت یونین کا حلیف تھا اب امریکا کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو چکا تھا۔ امریکا نے یونی پولر طاقت کا یہ زمانہ افغانستان کے پہاڑوں میں گنوا دیا یہاں تک کہ اب افغانستان میں امن کے نام پرکئی پرانے اور نئے کھلاڑی پیدا ہو چکے ہیں۔ روس ان میں نمایاں اور اہم ترین ہے۔ ابتدا میں روس بھی القاعدہ کے خطرے کے نام پر افغانستان میں امریکا کی مدد کرتا رہا مگر جب روسی قیادت کو اندازہ ہوا کہ معاملہ القاعدہ سے آگے کا ہے اور امریکا افغانستان میں قیام کو طول دے کر خطے میں کچھ سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتا ہے تو روس پیچھے ہٹتا چلا گیا یہاں تک کہ 2011 میں پہلی بار روس نے طالبان کے ساتھ روابط کا اعتراف کرتے ہوئے امریکا پر مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا۔ اس وقت دنیا میں عمومی تاثر یہی تھا کہ دنیا میں طالبان کا واحد مونس اور غم خوار ملک پاکستان ہے بلکہ بڑی حد تک یہ مغالطہ بھی تھا کہ طالبان کا کوئی داخلی تشخص، ایجنڈا اور اپنی سوچ نہیں بلکہ وہ پاکستان کی پراکسی اور اس کے مفادات کے نگہبان اور محافظ ہیں۔ پاکستان بار بار اس کی تردید کرتا مگر جو تاثر بنا دیا گیا اس میں کوئی بھی طالبان کو جانچنے اور ان کے اندر جھانکنے پر آمادہ نہ تھا۔ روسی سفارت کاروں نے طالبان کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی بات کر کے اس تاثر کو بڑی حد تک زائل کیا کہ طالبان محض پاکستان کی کٹھ پتلی فورس ہیں جو آزاد رہنے والے اس ملک کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے کے درپے ہے۔ روس کے بعد ایران اور طالبان کے درمیان روابط کی باتیں سامنے آنے لگیں اور یوں افغان مسئلے کی ایک نئی جہت اور پرت سامنے آتی چلی گئی۔ اس سے پہلے دنیا افغان مسئلے کو صرف امریکا کی بیان کردہ کہانیوں اور افسانوں کے تناظر میں جانچتی اور ماپتی تولتی تھی۔

افغان مسئلے میں روس کی اعلانیہ دلچسپی کے بعد طالبان اور روس کے ایما پر در پردہ مذاکرات کا طویل عمل جاری رہا جس کا اگلا مرحلہ باقاعدہ مذاکرات کی شکل میں ماسکو کانفرنس کی شکل میں برآمد ہوا۔ ماسکو میں روس کی میزبانی میں افغان طالبان اور کابل حکومت کے نامزد وفد اور بھارت اور پاکستان کا ایک میز پر بیٹھنا بظاہر تو ایک معمول کا واقعہ ہے۔ اسے امن کے طویل سفر کی جانب درست سمت میں پہلا قدم کہا جا سکتا ہے۔ امریکا، بھارت اور کابل حکومت ہمیشہ لکیر کی ایک سمت اور باقی سب دوسری سمت کھڑے رہے ہیں۔ سترہ سالہ موقف کے باعث شاید طالبان کے ساتھ ایک میز پر اس مرحلے پر بیٹھنے میں انہیں ہچکچاہٹ تھی اور اس لیے پہلی ملاقات میں تینوں نے طالبان سے حجابوں میں ملنا پسند کیا۔ امریکا، بھارت اور کابل حکومت تینوں نے غیر سرکاری قسم کے وفود بھیج کر ایک طرف مذاکرات میں شرکت بھی کی اور اس شرکت کو سرکاری رنگ دینے سے گریز بھی کیا۔ امریکا کے اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے ماسکو میں ہونے والی اس سرگرمی کو ’’کریملن کی واپسی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ امریکی اخبار نے ماسکو کانفرنس کا افغان امن سے زیادہ روس کی افغانستان کے گریٹ گیم میں واپسی سے تعبیر کیا۔ گویا کہ جو سرخ فوج تیس برس قبل نہایت ذلت آمیز شکست کھا کر واپس چلی گئی تھی اب اس کا روس کی صورت میں اس مسئلے میں دخیل ہو کر واپسی کا نیا انداز ہے۔

اس مضمون کے اہم نکات افغان تنازعے کے بجائے روس کے گرد گھومتے ہیں۔ مثلاً ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ماسکو مذاکرات میں طالبان اور افغان نمائندوں کو ایک میز پر بٹھا کر روس نے اپنا زورِ بازو دکھا دیا ہے اور یہ کہ اس سے لگتا ہے کہ روس افغانستان میں دوبارہ اپنا اثر رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ روس کی ایک اور دلچسپی وسط ایشیائی ریاستوں کو داعش کے خطرے سے بچانا ہے جس کی اگلی منزل ماسکو بھی ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں داعش ان علاقوں میں اپنے پیر جمانے کی کوشش کر رہی ہے جو وسط ایشیائی ریاستوں، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان سے ملحق ہیں۔ مغربی اخبارات میں مضامین سے زیادہ دلچسپ اور معلوماتی وہ تبصرے ہوتے ہیں جو اس مضمون اور مسئلے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کرتے ہیں۔ ان میں اس مسئلے سے وابستہ رہنے والے ریٹائرڈ لوگ اور کسی نہ کسی انداز سے مشاہداتی تجربہ رکھنے والے بھی شامل ہوتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے ان تبصروں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک عام امریکی یہ حقیقت جان چکا ہے کہ امریکا افغانستان میں ایک غیر ضروری جنگ میں اُلجھا رہا ہے اور اب وہ اس جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور اسے مزید وقت ضائع کیے بغیر اس جنگ سے دامن چھڑا لینا چاہیے۔ انہی میں ایک تبصرے میں اعتراض کیا گیا ہے کہ مضمون نگار نے افغانستان میں روس کے انخلا کو ذلت آمیز کیوں لکھا ہے حالاں کہ واپس لوٹتے ہوئے فوجیوں کی تصویریں اور وڈیوز بتارہی ہیں کہ وہ ہاتھ ہلاتے ہوئے فاتحانہ انداز میں افغانستان چھوڑ رہے ہیں۔ جس پر ایک اور تبصرہ نگار نے پھبتی کسی ہے ہاں وہ خوش تھے کہ ایک جہنم سے زندہ واپس جا رہے ہیں۔ ایک مبصر کا کہنا تھا کہ افغانستان دنیا کے تین ناقابل فتح ملکوں میں سے ایک رہا ہے۔ افغانیوں کو کرائے پر تو لیا جا سکتا ہے مگر خریدا نہیں جا سکتا سوویت یونین کی طرح امریکا نے بھی اس حقیقت کو نظر انداز کیا اور یوں دونوں کا انجام ایک ہوا۔