شخصیت پرستی تباہی کا راستہ ہے - ارشدعلی خان

وزیراعظم عمران خان اپنی تقاریر میں بارہا یہ بات دہرا چکے کہ این آر او کسی کوبھی نہیں ملے گا تو وہ سچ ہی تو کہہ رہے ہیں، کس کو دیا ہے انہوں نے این آر او۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے بعض سیاسی لیڈروں کو بغیر مانگے این آر او دیا ہے تو ان کی اطلاع کے لیے ایک بار پھر عرض ہے کہ این آر او کسی کو نہیں ملے گا۔ کیا کہا آپ نے کہ عمران خان نے فواد چوہدری، فردوس عاشق اعوان، بابر اعوان اور چوہدری پرویز الہی سمیت کچھ لیڈروں کو اپنی پارٹی اور حکومت میں شامل کر کے این آر او ہی تو دیا ہے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ خان صاحب ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ جن کو پارٹی اور حکومت میں شامل کیا گیا ہے، وہ دراصل الیکٹیبلز ہیں۔ ان کی مدد سے ہی تو پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے۔ اب اگرعمران خان ان کو وزارتیں یا کسی صوبے کی سپیکر شپ نہیں دیں گے تو کیا خواجہ سعد رفیق اور کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے والے خواجہ آصف کو وزارتیں دیں گے؟

گزشتہ دنوں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے بھی قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم بار بار یہی بات دہرا رہے ہیں کہ کسی کو این آراو نہیں دیا جائے گا تو ایوان کو یہ بتایا جائے کہ کس نے، کس وقت اور کس کے سامنے اُن سے این آر او کا مطالبہ کیا ہے۔ شہباز شریف نے وضاحت کی کہ کسی کی گواہی اس لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان بات کر کے مکر جاتے ہیں اور یوٹرن لے لیتے ہیں۔ اس لیے جس کی موجودگی میں کسی نے اُن سے این آر او مانگا ہے، اس کانام بھی بتایا جائے۔ اب یہ بھی کوئی کرنے کی بات ہے بھلا جو اپوزیشن لیڈر نے کی ہے۔ اپوزیشن لیڈر جیسے بڑے عہدے پر ہو کر بھی ایسی چھوٹی سوچ کی بات مسلم لیگ ن کی قیادت ہی کرسکتی ہے، ایک ایسی قیادت جو پرچیوں کے بغیر تقریر اور کسی عالمی رہنما سے ملاقات تک نہ کرسکے۔ ان سے ایسی ہی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ اپنے وزیراعظم عمران خان کو دیکھ لیں۔ کیا تیسری دنیا کے کسی ملک کا وزیراعظم فرانسیسی صدر کے ٹیلی فون کو یہ کہہ کر سننے سے انکار کر سکتا ہے کہ میں مصرو ف ہوں۔ انہیں کہیں بعد میں بات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی آئے رے تبدیلی - مزنہ سید

کچھ جلنے والے تجزیہ کار، جو دراصل مسلم لیگ ن سمیت دوسری پارٹیوں سے لفافے وصولتے ہیں، اس بات پر معترض ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ہر جگہ ملک کی برائیاں بیان کرتے ہیں۔ اس بات پر بھی وزیراعظم عمران خان کا مذاق اُڑانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ ابھی تک کنٹینر والی تقریر سے پیچھا نہیں چھڑا سکے اور ہر جگہ چاہے وہ اپنی قومی اسمبلی ہو، سعودی عرب ہو یا چین میں کسی سکول کی تقریب، پاکستان میں ہونے والی کرپشن اور کرکٹ ورلڈ کپ سے لے کر شوکت خانم اور نمل سے لے کر وزیراعظم بننے تک اپنی جدوجہد اور کوششوں کا ذکر کرتے ہیں۔ میرے بھائیو! اگر وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف اور حکومت میں آنے کے لیے اپنی جدوجہد کا ذکر نہیں کریں گے تو کیا میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کریں۔ آپ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کرپشن کے خلاف باتیں صر ف باتیں ہیں اور کچھ نہیں۔ کچھ تجزیہ کار خیبرپختونخوا میں احتساب کمیشن کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتے تو ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اب اگر احتساب کمیشن کے افسران ہی ناکارہ تھے تو اس میں بیچارے عمران خان کا کیا قصور۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد کرپشن کے خلا ف نیب کی کارروائیاں اور پھرتیاں آپ کو نظر کیوں نہیں آتیں۔ 70سیاستدانوں اور بیورکریٹس کی لسٹ تیار پڑی ہے جن پر نیب عنقریب کاررائیاں شروع کرنے والاہے اور یہ خوشخبری توقوم کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری بذات خود دے چکے ہیں کہ 50 مزید گرفتاریاں ہوں گی۔ چیئرمین نیب کی اسی سلسلے میں تو حکومتی وزارء سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔

اب آپ آئی جی پنجاب، ڈی پی او پاکپتن اور ڈی آئی جی اسلام کا قصہ لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ جس طرح وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اگر وزیراعظم کسی افسر کا تبادلہ بھی نہیں کر سکتا تو پھر انتخابات کی کیا ضرورت ہے۔ ملک ان بیورکریٹس کے حوالے کر دیتے ہیں، وہ سب کچھ چلالیں گے۔ آپ ہی بتائیے کہ اگر کوئی پولیس افسر اپنے ایم پی اے یا ایم این اے سے تعاون نہیں کرے گا تو اس ملک کا نظام کیسے چلے گا۔ وزیراعظم عمران خان پولیس کو غیر سیاسی بنانے کی بات کرتے ہیں، بالکل بااختیار یا مدرپدر آزادی دینے کی نہیں۔ اب یہ تو کوئی بات نہ ہوئی نا کہ ایک آئی جی لیول کا معمولی افسر بھی کسی ایم این اے کا فون نہ اٹھائے یا دوبارہ رابطہ کرنے کی زحمت نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   اشتعال انگیز ٹویٹس اور پیار بھرا خط - مسعود ابدالی

اب آپ لوگوں نے تحریک لبیک کے ساتھ حکومتی معاہدے کو انتہائی منفی انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ہے اور اسے بھی این آر او کہہ رہے ہیں۔ اب اپنے لوگوں پر تو حکومت سختی نہیں کرسکتی۔ کیا ہوا جو انہوں نے ججوں کے قتل اور افواج پاکستان کے افسروں کو بغاوت کرنے پر اکسانے کی کوشش کی۔ ان کے کہے پر کسی نے عمل تو نہیں کیا نا، تو پھر کیوں حکومت تحریک لبیک کے مؤمنین کے خلاف آپریشن کرتی؟ وزیراطلاعات نے بجا فرمایا کہ حکومت نے جلتی آگ پر پانی ڈالا، یہ کوئی مستقل حل نہیں۔ اگر کسی کی نجی املاک کو نقصان پہنچا ہو تو اس میں حکومت کیا کرسکتی ہے۔ وزیراطلاعات کے حکم پر ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ نے غریب بچے کو 10000 روپے دیے تو ہیں، اب حکومت اور کیا کرے۔ ایسی صورتحال میں کہ حکومت خود پائی پائی کی محتاج ہے اور بقول پی ٹی وی بیگنگ کیمپین پر نکلی ہوئی ہے۔ کبھی عرب بدوں کے پیر پکڑتی ہے تو کبھی چینیوں کے منت ترلے کرتی ہے۔ ایسے میں دس ہزار روپے کی سرکاری امداد کو تحفہ خداوندی سمجھنا چاہیے، اور آپ ہیں کہ اس بات کا بھی مذاق اُڑا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان یہ سب اسی قوم کے لیے تو کر رہے ہیں، ورنہ کہاں ہمارا خان اور کہاں یہ جاہل عرب بدو۔

حاصل کالم و کلام :
جب تک بطور قوم شخصیت پرستی ترک اور اپنے لیڈر کی غلطی غلطی تسلیم نہیں کرتے، ترقی تو کیا اس راہ پر گامزن بھی نہیں ہوسکتے۔ چاہے وہ مسلم لیگ ن کے ورکر ز ہوں یا پاکستان تحریک انصا ف کے کارکنان، یا پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے، جب تک اپنی لیڈر شپ کو درست راستے پر گامزن نہیں رکھیں گے تب تک نہ تو پاکستان سے کرپشن ختم ہوسکتی ہے اور نہ پاکستان ترقی کرسکتا ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک کا قانون بھی سخت سہی مگر وہاں کی لیڈر شپ کو اصل خوف اپنی عوام کا ہوتا ہے۔ ہم امریکیوں کو دنیا کی فحش ترین قوم سمجھتے ہیں لیکن جب امریکی صدر بل کلنٹن کا اپنی آفس سیکرٹری سے معاشتہ عام ہوا تو انھیں شدید تنقید اور مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح جب تک ہماری سیاسی قیادت بھی قوم کے لیے رول ماڈل بن کر سامنے نہیں آتی نہ اس ملک سے کرپشن ختم ہوسکتی ہے نہ یہ ترقی کر سکتا ہے، چاہے آپ چینی ماڈل اپنائیں، روسی یا کوئی اور۔