وادی بنگس؛ یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت - سہیل بشیر کار

لہلہاتے کھیت و کھلیان، صاف و شفاف آبِ رواں، سبزے اور پھولوں سے لہلہاتی حسین و جمیل وادی، پہاڑوں کی خوبصورتی میں لپٹی پرکشش جھیلیں، موسموں کے دلکش نظارے اور انواع و اقسام کے پھلوں سے پُر اس کُرہ ارض کو’جنت‘کہنے پر مجبور کرتی ہے۔ آبشاروں کے جھرمٹ میں وادی کشمیر اللہ کی تخلیق کردہ خوبصورت شاہکاروں میں ایک شاہکار ہے۔ کشمیر میں کئی ایسے دلکش و قابلِ دید مناظر ہیں کہ لاکھوں سیّاح ہر سال ہند و بیرون ہند سے اس طرف رختِ سفر باندھ کر مرحلہ شوق طے کرتے ہیں۔ انھی قابل دید جگہوں میں سے ایک ’وادیِ بنگس‘ ہے۔

’وادی بنگس‘ کی خوبصورتی کے بارے میں اگرچہ کافی عرصہ سے سْن رکھا تھا، لیکن یہ جان کر کہ وہاں تک جانے کے لیے اجازت لینا پڑتی ہے، کبھی جانے کا ارادہ نہ کیا۔ اب جبکہ معلوم ہوا کہ گزشتہ سال سے اجازت نامے کی ضرورت نہیں پڑتی تو سوچا کیوں نہ قدرت کی اس خوبصورت وادی کو دیکھ کر اللہ رب العزت کی تخلیق کے حسن اور اس کی جمالیات کا کچھ مشاہدہ کیا جائے۔ ادارہ فلاح الدارین، بارہ مولہ میں منظم طریقے سے سماج کی خدمت میں اپنا حصہ ادا کر رہا ہے، ادارہ کے رفقاء ہر سال کسی نہ کسی خوبصورت مقام کی سیر کرتے ہیں، تاکہ مقصد کی یگانگت رکھنے والے اس مادی دور میں زیادہ وقت ساتھ میں گزار سکیں، لیکن گزشتہ دو سالوں سے وادی میں ناگفتہ بہہ حالات کی وجہ سے کسی جگہ جانا مناسب نہ سمجھا۔ اللہ کے دین کے لیے کام کرنے والے افراد کی اس طرح کے پروگراموں سے نہ صرف آپس میں قربت بڑھتی ہے، بلکہ ایک دوسرے کی صحبت سے فائدہ بھی ملتا ہے۔ اب جبکہ ’بنگس‘ جانے کے لیے کسی اجازت نامہ کی حاجت نہ تھی، اور کیا معلوم یہ سہولت کب تک رہے، ہم نے موقع غنیمت جان کر فیصلہ کیا کہ اس بار بنگس کا ہی دورہ کریں گے۔ اِدارہ کے رفقاء کی خاص بات یہ رہی ہے کہ جس کے پاس جو کچھ ہے، وہ اس نے ادارہ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ آج بھی ان رفقاء کو جن کے پاس گاڑیاں تھیں، کہا گیا کہ وہ اپنی گاڑیاں ساتھ لائیں۔ 12 اگست 2018ء کو رفقاء ادارہ کا قافلہ چھوٹی بڑی 20 گاڑیوں میں بارہ مولہ سے بنگس روانہ ہو۔ ضلع کپواڑہ جو کہ کبھی بارہ مولہ کا ہی ایک قصبہ ہوا کرتا تھا، میں متعدد سیاحتی مقامات ہیں۔ وادی لولاب، وادی سیماب، ستبارہ کلاروس، چندی گام، دنیاری لیکن ’وادی بنگس‘ کی شان ہی نرالی ہے۔

سورج کی کرنیں بادلوں کے عقب سے اہل زمین کے ساتھ آنکھ مچولی میں مصروف تھیں، اور ہم صبح پَو پھٹتے ہی آزادگنج قصبہ خاص بارہ مولہ میں اکھٹے ہوکر سُوئے منزل نکل پڑے۔ راستے میں جوں ہی لنگیٹ پہنچے تو وہاں مکمل ہڑتال تھی۔ وجہ معلوم ہوئی کہ ابھی چند روز قبل قریب کے ایک جنگل میں جھڑپ ہوئی تھی جس میں چند جوان مارے گئے تھے، اور بتایا یہ گیا تھا کہ مرنے والے ریاستی باشندے نہیں ہیں، لیکن جب ان کی فوٹو سوشل میڈیا میں وائرل ہوئی تو پتہ چلا کہ ان میں سے ایک لنگیٹ کا ہی نوجوان تھا۔ اب علاقے کے لوگ مرنے والے کی باقیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وادی کشمیر میں 1988ء سے اب تک 10 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ ان کی مائیں ہر دن ان کے لیے تڑپ رہی ہیں کہ کب ان کا بیٹا واپس گھر آجائے، اسی انتظار میں کئی ماؤں کی بصارت چلی گئی، لیکن استعمار کے کانوں پر جُو تک نہیں رینگتی۔ وادی میں کئی ایسی عورتیں ہیں جن کے سہاگ غائب کیے گئے، کئی سالوں سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں، یہ "آدھی بیوائیں" کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ ان کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ نہ وہ بیویاں ہیں نہ بیوہ۔ سفر کے دوران آپ کو کئی طرح کے نشان ہائے ظلم سے سابقہ پڑتاہے، جو کہ سیاسی جبر کی وجہ سے کشمیریوں کا مقدر بن چکے ہیں۔ خیر ہمارا قافلہ کپواڑہ ہوتے ہوئے چوکی بل TP پہنچ گیا۔

اہلیانِ وادی کو ضلع کپواڑہ کے لوگوں سے شکایت ہے کہ وہ بہت جلد سیاست دانوں کے فریب میں آ جاتے ہیں۔ بات اگرچہ سچ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس علاقے نے رواں تحریک میں بڑی قربانیاں بھی دی ہیں۔ ہزاروں جوان شہید ہوئے۔ صرف دردپورہ میں پانچ سو سے زائد بیوائیں ہیں جن کے سرتاجوں نے اس تحریک کو اپنے گرم خون سے آبیاری کی ہے۔ ’کنن پوشپورہ‘ جیسے دو گاؤں ہیں جہاں انسانیت سوز واقعہ، جس میں 17 سے 70 سال تک کی مظلوم حوا کی بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی، دہائیاں گزر گئیں لیکن اب بھی انصاف ظالموں کی کوٹھی میں محوِ رقص ہے۔ اس سرزمین نے منان وانی پیدا کیا۔ سب سے خاص بات کہ اسی سرزمین نے تحریک کے مئوسس شہید مقبول بٹ جیسے ذہین، بردبار اور مخلص قائد کو جنم دیا جو اپنی قوم سے کئی سال آگے کی سوچتا تھا۔

یوں تو بنگس جانے کے لیے تین راستے ہیں، ایک نوگام ہندواڑہ، دوسرا راجوار ہندواڑہ اور تیسرا چوکی بل TP کپواڑہ۔ پہلے دو راستے اگرچہ منزل کے نزدیک ہیں، لیکن دشوار گزار ہیں، منزل تک پہنچنے کے لیے طویل، سخت، پہاڑی اور دشوار گزار راستہ پیدل ہی طے کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ ہمیں عشاء تک واپس گھر لوٹنا تھا لِہٰذا ہم نے چوکی بل TP راستے کا انتخاب کیا۔ یہ راستہ اگرچہ بارہمولہ کے لوگوں کے لیے کافی لمبا ہے لیکن اس میں نسبتاً پیدل سفر کم ہی کرنا پڑتا ہے۔ چوکی بل TP کیمپ کے پاس Entry کر کے چیکنگ ہوتی ہے۔ کیمپ کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بنگس جانے والی سڑک کے قریب 5 کلو میٹر تک کیمپ کا احاطہ ہے۔ کیمپ کے دونوں طرف یعنی انٹری پر اور ایگزٹ پر بھی تلاشی لی جاتی ہے۔ کیمپ سے آگے قریب دس کلومیٹر تک گاڑیاں جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر؛ قتل عام کی اصل وجہ - غازی سہیل خان

سڑک کے دونوں جانب خوبصورت قدرتی مناظر، سبزہ زار، فلک بوس پہاڑ عجیب طرح کا سکون فراہم کرتے ہیں۔ میں برادر عرفان بہادر کی گاڑی میں منزل کی طرف رواں دواں تھا اور ہمارے ساتھ گاڑی میں ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب اپنے آپ میں ایک انسائیکلو پیڈیا ہیں۔ کون سا ایسا موضوع ہے جس پر وہ دسترس نہیں رکھتے، ہر موضوع کی معلومات رکھتے ہیں۔ قدیم و جدید علوم کا حسین امتزاج۔ عالمی سطح پر ان کی کتابیں بطور ریفرنس مانی جاتی ہیں، لیکن ان کے اندر آپ کبھی بھی وہ علمی پندار نہیں پائیں گے جو یہاں اکثر اہل علم شخصیات کا طرز ہو کر رہ گیا ہے۔ عاجزی و انکساری ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ڈاکٹر لون صاحب جہاں بیٹھتے ہیں وہاں محفل جم جاتی ہے، لوگ محبت اور عقیدت کے جذبے سے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی صحبت میں یقیناً آپ اپنی عمر میں معیاری اضافہ پائیں گے۔ آپ سبھی کے ہر دلعزیر ہیں۔ ہر موقع اور موضوع پر، اردو، انگریزی، کشمیری، فارسی اور عربی میں برجستہ شعر کہتے ہیں، ان کا حافظہ کمال کا ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرنجان مرنج طبیعت کے ہیں۔ ہمسفر جب عرفان بہادر ہوں اور ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب کی رفاقت بھی ہو تو محفل قابل رشک ہوتی ہے۔ ہمارا سفر ایسے کٹا کہ پتہ ہی نہ چلا کہ ہم کب بنگس کے قریب پہنچ گئے۔ ابھی بس پہنچ ہی رہے تھے کہ ایک اور رکاوٹ آرمی کیمپ کی صورت میں سامنے پائی۔ وہاں بھی گاڑی کی تلاشی لی گئی اور ہمارے شناختی کارڈ واپسی تک ضبط رکھے گئے اور ساتھ میں شاہی حکم نامہ بھی ملا کہ شناختی کارڈ بس شام 6 بجے سے پہلے پہلے واپس مل سکتا ہے، اس کے بعد واپسی ہوئی تو اگلے روز ہی پھر ملنے کا امکان ہے۔ اس طرح کے فرمان ہیں جن کی وجہ سے کشمیریوں میں غلامی اور مظلومیت کا احساس بڑھ جاتا ہے۔

جہاں تک گاڑی جا سکتی تھی، وہاں تک گاڑیوں میں گئے۔ ’بنگس‘ سے قبل تقریبََا تین کلومیٹر کی مسافت پر ہی گاڑیاں پارک کر کے پیدل ہی اُس حسین وادی میں پہنچا جا سکتا ہے۔ قریب 45 منٹ تک پہاڑی سلسلوں، دشوار گزار تنگ مگر خوبصورت راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔ سڑک کچھ زیادہ ہی تنگ ہے، لیکن ایک طرف خوبصورت جنگل تودوسری طرف گہری ندی بہتی ہے۔ ایک طرف ہمارے قدموں کی تال تو دوسری طرف بہتی ندی میں پانی کا سُر، دونوں مل کر جیسے سرگم کا تار چھیڑ رہے ہوں، جیسے پر جوش قافلہ اور پرسکون فضا۔ قافلہ میں شامل تین لوگوں کے پیدل چلنے میں دشواری کے اندیشے سے میں متفکر تھا۔ ان میں دو لوگوں کی چند ماہ پہلے ہی گھٹنے کی سرجری ہوئی تھی اور ڈاکٹر غلام قادر لون بھی گھٹنے کے درد میں مبتلا تھے، لیکن الحمد للہ سبھی خیریت سے پُرجوش انداز میں چل رہے تھے۔ کئی جگہوں پر رک کر سستائے لیکن کیا مجال کہ ڈاکٹر صاحب رکنے کا نام لیتے۔ ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ راستہ میں مختلف موضوعات پر رفقا آپس میں بات چیت کر رہے تھے، ایک رفیق نے مجھ سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ اکثر خوبصورت جگہوں کا راستہ دشوار گزار ہوتا ہے؟ میں نے جواباً کہا کہ شاید قدرت ہمیں کہنا چاہتی ہے کہ جنت ہے تو نہایت خوبصورت لیکن وہاں تک پہنچنے کا راستہ دشوار گزار ہے، خواہشات کی قربانی چاہتی ہے، مادی وجود کے مطالبات کو ایک نظم کے تحت پورا کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اللہ کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کے بعد وہ اپنے فضل سے اس ابدی جنت کا مکین بنائے گا۔

قریب 45 منٹ پیدل چلنے کے بعد ہم "چھوٹا بنگس" پہنچ گئے۔ وسیع و عریض اور سرسبز میدان کو پہاڑوں نے گھیرا تھا۔ میدان کے بیچ میں ایک ندی بہتی ہے، لیکن اس وقت اس میں پانی بہت ہی کم تھا۔ وادی بنگس کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں پڑتا ہے، اگر ٹی پی چوکی بل کے راستے جائیں تو بنگس کپواڑہ سے قریب 45 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ یہ وادی سطح سمندر سے10 ہزار فٹ اونچائی پر واقع ایک خوبصورت وادی ہے جو 300 مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی ہے، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ’چھوٹا بنگس‘ اور ’بڑا بنگس‘۔ ’بنگس‘ دیکھ کر’ گلمرگ‘ بالکل چھوٹا معلوم ہوتا ہے۔ گلمرگ کے مقابلے میں علاقہ وسیع بھی ہے اور انسانی مداخلت سے محفوظ بھی۔ بنگس کے مغرب میں قاضی ناگ، شمال میں چوکی بل، اور مشرق میں ماورہندواڑہ پڑتا ہے۔ اس وادی کا ذکر قدیم کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ ’راج ترنگی ‘میں بھی اس علاقے کا تذکرہ ملتا ہے۔ انگریزوں کے دور میں وادی لولاب اور وادی بنگس کو بطور سیاحتی مقام کافی اہمیت حاصل تھی۔

بنگس بنیادی طور پر سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ ’بنگ‘ کے معنی جنگل اور ’گس‘ کے معنی گھاس کے ہیں، یعنی وہ علاقہ جہاں جنگل بھی ہے اور گھاس بھی، لیکن بدقسمتی سے اس علاقے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ اگرچہ سابقہ حکومت نے اس وادی کو "بائیو سفر" کا درجہ دینے کا اعلان بھی کیا تھا، لیکن وہ محض اعلان ہی رہا۔ یہ علاقہ پھولوں اور قدرتی جڑی بوٹیوں کے لیے بھی کافی مشہور ہے۔ کچھ دیر آرام کرنے کے لیے ہم مناسب جگہ کی تلاش میں تھے لیکن ہر طرف گوبر ہی گوبر تھا۔ یہ دیکھ کر بہت ہی دکھ ہوا کہ قدرت کے اس حسین شاہکار کو اس قدر گندا کیا گیا ہے۔ وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک کوشش کی گئی تھی کہ Grazing area کو مخصوص کیا جائے، لیکن ووٹ بنک کی سیاست نے اس کوشش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ہم ندی کے آس پاس مناسب جگہ کی تلاش میں تھے، اسی اثنا میں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہاں آرمی کیمپ نے لیٹرین ندی کے ساتھ بنائی ہے اور ساری گندگی ندی کی طرف ہی جاتی ہے، سوائے افسوس کے ہم کر ہی کیا سکتے تھے۔ ہم نے اس کیمپ سے آگے ندی کے پاس ایک جگہ کا انتخاب کیا، چونکہ رفقاء تھکے ہوئے تھے، اس لیے فیصلہ ہوا کہ پہلے کھانا کھایا جائے، اگرچہ ہر ایک اپنا اپنا کھانا ساتھ لایا تھا لیکن سب نے ایک ساتھ کھایا۔ کھانے کے بعد عرفان بہادر نے آواز دی تو فضا اللہ کی کبریائی سے گونج اٹھی۔ سبھی رفقاء وضو کرکے تیار ہوئے، رب العزت کی تخلیق کا، اس کے حسن کا، اور اس کی جمالیات کا پہلو دیکھر اس کا شکر بجا لانا ہم پر فرض تھا۔ پس امتیاز عبدالقادر کی اقتداء میں ظہر باجماعت ادا کی۔ اس نماز میں ایک الگ ہی کیفیت طاری رہی۔ نماز کے بعد کچھ دیر تک ایک محفل جمی، برادر عاقب منظور کی مسحور کن تلاوت ، برادر سلیم ناز مکائی اور عرفان بہادر کی پرسوز آواز میں مرحوم عامرعثمانی کی نظمیں، فضاء کو مسحور کر رہی تھیں۔ بعدازاں ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب نے رفقاء کے سامنے مختصر تقریر کی۔ اپنی گفتگومیں انہوں نے رفقاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے علاقوں کی جغرافیائی، تاریخی اور دیگر معلومات جاننا کس قدر ضروری ہے۔ انہوں نے بنگس کے بارے میں نہایت ہی اہم معلومات پیش کیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کشمیر کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا، اور اس قوم پر اللہ کے احسانات کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں کل ساڑھے آٹھ ہزار میڈیسن پلانٹ ہیں اور ان میں ساڑھے چار ہزار کشمیر میں پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر لون صاحب کی علمی گفتگو کے بعد برادر جاوید احمد گوجری نے مزاحیہ پروگرام پیش کرکے محفل کو زعفران زار بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   زخموں کی سرزمیں پر مرہم لگائیے - ایس احمد پیرزادہ

محفل کے بعد ہم لوگ بڑے بنگس کی طرف نکل پڑے۔ اگرچہ وہاں سے بڑا بنگس نزدیک ہی ہے اور پیدل بھی جایا جا سکتا ہے لیکن کچھ عرصہ سے گھڑ سواری کی فضیلت سننے کے بعد مجھے گھوڑے سے الگ سی عقیدت اور محبت ہوگئی تھی، بس انتظار میں تھا کہ کب موقع ملے۔ اصل میں ہمارے محترم بھائی مولانا اعجاز الحق (گاندر بل) جب پروگرام دینے کے لیے بارہ مولہ تشریف لاتے ہیں، تب تب وہ گھوڑے کے بارے میں معلومات دیتے رہتے ہیں ۔ گھڑ سواری کی "فضیلت" بیان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چند سال پہلے ان کا وزن 100 کلو سے زیادہ ہوگیا تھا اور کئی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوئے تھے، لیکن گھڑ سواری کی وجہ سے نہ صرف انہوں نے وزن کم کیا بلکہ بہت ساری بیماریوں پر بھی قابو پایا۔ ان کے بیان کردہ ’’فضائل‘‘ کو دیکھ کر ہمیں بھی گھڑ سواری کا شوق ہوا لیکن ہمت کبھی نہ کی۔ وادی بنگس میں چونکہ چھوٹے اور کمزور گھوڑے تھے، لہٰذا موقع غنیمت سمجھ کر سوچا کیوں نہ آج بڑا بنگس گھوڑے پر سوار ہو کر جائیں۔گھوڑے کے مالک نے مناسب دام بتائے۔ ہم چند ساتھی گھوڑے پر سوار ہو کر بڑے بنگس کی طرف چل پڑے۔ راقم نے ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب کو بھی گھڑ سواری کی دعوت دی جس کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر سب کو ہنسا دیا کہ یہ وہی گھوڑے ہیں جنھوں نے بچپن میں گائے کا دودھ پیا ہے، لہٰذا ان پر سوار ہوکر میں ان بے چاروں پر ظلم نہیں کرسکتا۔ خیر گھوڑے نے ہمیں 15 منٹ کے بعد بڑا بنگس پہنچا دیا۔

سفر کے دوران گھوڑے کا مالک اس علاقے کے مختلف گوشوں کو اجاگر کر رہا تھا۔ بڑا بنگس قدرت کا شاہکار ہے، وسیع وعریض علاقے پر مشتمل یہ وادی انسان کو عجیب سکون فراہم کرتی ہے۔ وہاں گھاس پر ننگے پاؤں چلنے کا عجیب ہی مزہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زمین کے اندر سپرنگ لگائے گئے ہیں۔ اس علاقے میں چونکہ ابھی تک موبائل فون اچھی طرح کام نہیں کر رہے ہیں لہٰذا انسان پرسکون رہتا ہے۔ دل چاہ رہا تھا کہ رات وہی بسر کریں لیکن ہمارا قافلہ بڑا تھا، چھوٹا بنگس میں رکنے کے لیے کچھ کوٹھے بھی ہیں اور ٹینٹ بھی، جہاں مناسب ریٹ پر رات قیام کیا جاسکتا ہے۔ ہم ایک کوٹھے پر کچھ دیر رکے بھی، اور اس خوبصورت فضا میں نمکین چائے سے لطف اندوز بھی ہوئے۔ اس دوران برادر نذیر احمد نے ایک نعت پاک سنائی۔ اس خوبصورت وادی میں ہدیہ نعت کو جو سنا تو سبھی کی آنکھیں عقیدت سے نم ہوئیں۔ وہاں سے نکلنے کو اگرچہ دل بالکل نہیں چاہ رہا تھا لیکن وردی پوشوں کے حکم نامے کی تعمیل کا احساس تھا اور اس دھمکی کا ڈر بھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی، دل پر جبر کر کے ہم نے واپسی کا سفر باندھا۔ دنیا کا حال ہی ایسا ہے کہ یہاں انسان مجبور ہے۔ اس دنیا میں کوئی علاقہ چاہے کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو لیکن نہ اس خوبصورتی کو بقا حاصل ہے اور نہ ہی اس میں خیر ہے۔ یہ اللہ کی جنت ہی ہے جہاں کی خوبصورتی کو دوام ہے اور وہاں کوئی غم ہے نہ ہی کوئی خوف۔ چونکہ 15 اگست قریب تھا۔ ہر سال یہ دن کشمیری عوام کے لیے ایک تاریک رات کی مانند عذاب بن کر آتاہے، سیکورٹی اور تلاشی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ لوگ گھروں میں ہی رہنا عافیت سمجھتے ہیں۔ اس دن بھی واپسی پر جگہ جگہ تلاشی اور پوچھ تاچھ ہو رہی تھی۔ ہم بھی ان مرحلوں سے گزرتے ہوئے نیا عزم ساتھ لیے عشاء نماز کے بعد واپس گھر پہنچ گئے۔

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.