اسرائیل کی حمایت؛ عاصمہ حدید کی جہالت یا مسخ حقائق - عالم خان

بحیثیت قوم ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایوانوں میں جن لوگوں کو بھیجتے ہیں کہ ایوان بالا اور ایوان زیریں میں بیٹھ کر ہماری ترجمانی کریں اور ہمارے مستقبل کی فیصلے کریں، ان نمائندگان کی اکثریت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریہ کے ساتھ اسلامی تعلیمات اور مبادی دین سے بھی لاعلم ہوتی ہے، جس کے نمونے ہر دور حکومت میں ملتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نمونہ پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی عاصمہ حدید نے پیش کیا ہے جس کو حکمران جماعت مخصوص نشست پر لے كر آئی ہے۔ مذکورہ خاتون نے اسمبلی فلور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نہ صرف تجويز پیش کی بلکہ یہود نوازی میں تمام حدود پار کرتے ہوئے تحریف قرآنی، رسول اللہ پر جھوٹ اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا، جس كا علمى محاكمہ ضرورى ہے۔

خاتون رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید کی تقریر درجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے جس کا تفصیل اور حقیقت اگلى سطور میں بیان کروں گا۔
1- رسول اللہ (ص) ابتداء میں خانہ کعبہ کو نماز پڑھتے تھے لیکن بعد یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے یروشلم (بیت المقدس) کی طرف پڑھنا شروع کیا۔
2- مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ اور یہودیوں کا بیت المقدس ہے۔
3- یہودیوں کو دوست بناؤ کیونکہ رسول اللہ (ص) اور علی (ص) نے بھی فرمایا ہے کہ اپنے دشمن کو دوست بناؤ۔
4- جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو درود میں بھی یہودیوں کو دعا دیتے ہیں۔
5- حضور (ص) بنی اسرائیل سے تھے۔

تقریر میں سب سے زیادہ جس چیز نے ورطہ حیرت میں ڈالا، وہ يہ كہ محترمہ اسلامی اصطلاحات کے بجائے یہودی اصطلاحات کا استعمال کر رہی تھیں، شاید انھوں نے وفاداری کا بھرپور مظاہرہ کيا۔ افسوس ہوا کہ ایوان زیریں میں موجود اہل علم نے اس تقریر کا مدلل رد نہیں کیا جس کا ظاہر تو خوبصورت اور علمی تھا، لیکن باطن گندگی اور جہالت کی اعلی مثال تھی، جو سیدھا سادہ پاکستانی مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔

عاصمہ حدید صاحبہ کو کسی نے نہیں بتایا کہ رسول اللہ ابتداء میں صرف خانہ کعبہ کی نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ آپ نماز میں ایسے کھڑے ہوتے تھے کہ آپ کا رخ اور قبلہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں ہو، اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے، لیکن جب مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو وہاں ایسا ممکن نہیں تھا، اگر خانہ کعبہ کی طرف پڑھتے تھے تو بیت المقدس پیچھے آتا تھا اور اگر بیت المقدس کی طرف منہ کرتے تھے تو خانہ کعبہ رہ جاتا تھا۔ یہ مسئلہ اہل علم کے درمیانی اختلافی ہے کہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا رسول اللہ (ص) کا اجتہاد تھا یا حکم ربانی، لیکن ابن عباس (رض) کی روایت کے مطابق اللہ کے حکم پر آپ نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا شروع کی۔ اگرچہ رسول اللہ (ص) کی دلی تمنا اور آرزو تھی کہ وہ خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھیں اور یوں یہ آرزو تحویل قبلہ کے قرآنی حکم پر پوری ہوئی۔ (الطبری، جامع البیان، ج(١-٢) ص(٥-٤٦٧). السيوطي، الدر المنثور ، ج١ ص٤٦٧. القرطبي ، الجامع لأحكام القرآن، ج٢ ص١٥٠)

لہذا بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا رسول اللہ (ص) کا اجتہاد تھا یا اللہ تعالی کی طرف سے حکم تھا جیسا کہ ذکر ابن عباس کی روایت میں گزرا، اگرچہ اس سے یہود خوش ہوئے تھے لیکن رسول اللہ (ص) نے ان کی خوشنودی کے لیے نماز نہیں پڑھی تھی، بلکہ اہل علم نے اس کو من گھڑت اور اسرائیلیات کہا ہے، جس کا سہارا عاصمہ حدید نے اپنی تقریر میں لیا ہے۔ (الموضوعات والاسرائيليات ص١٢٣)

عاصمہ حدید صاحبہ کمال چالاکی سے اگر ایک طرف اپنی قرارداد کی حمایت میں ایوان زیرین میں موجود ارکان کو قائل کر رہی ہیں تو دوسری طرف فلسطینی مسلمانوں کے زخمی دلوں پر نمک ڈال رہی ہیں کہ مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ اور یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس ہے۔ گویا کہ وہ فلسطین کا سودا کر رہی ہے کہ یہ یہود کا حق ہے، حالانکہ اس کو علم نہیں کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ ہے، ارض الانبیاء ہے۔ اسرائیل 1948ء سے اس پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور فلسطینی مسلمان اس کو بچانے کے لیے ہر روز بچوں اور بوڑھوں کی شہادت پیش کر رہے ہیں، نوجوان بیٹیوں کی آبرو ریزی اور بمباری برداشت کر رہے ہے، جس کو موصوفہ نے اتنی آسانی سے یہودیوں کى جھولی میں ڈال دیا۔ ایک طرف عاصمہ حدید اسمبلی میں موجود باریش اہل علم کو داڑھی کا طعنہ دے کر روایات کی صحت کی بات کرتی ہیں تو دوسری طرف ننگے سر قرآنی آیات اور رسول اللہ (ص) پر جھوٹ بولنے کی جسارت کرتی ہے، جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسیوں کے لیے یقینا قابل افسوس ہے۔ آپ اسرائیل سے دوستی کے بارے میں رسول اللہ (ص) اور علی (رض) سے منسوب روایت کا سہارا لینے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن قرآنی آیت سے آنکھیں بند کر لیتی ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ۔
اے ایمان والو یہود و نصاری کو (اپنا) دوست (مددگار) نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جس نے انہیں (اپنا) دوست بنایا پس ان ہی میں سے ہے۔ سورہ المائدہ (٥١).

یہ بھی پڑھیں:   عاصمہ حدید کی ہفوات - مفتی منیب الرحمن

اگر تقریر میں دیگر نکات کا تعلق علم اور معلومات سے تھا، کم ازکم تحریک انصاف کے رہنماؤں کو اس پر عاصمہ صاحبہ کو ٹوکنا چاہیے تھا کہ آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟ کہاں سے یہ استدلال کر رہی ہیں کہ ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہیے، کیونکہ ہم نماز میں درود یہود پر بھیجتے ہیں، ان کے لیے دعائیں کرتے ہی؟، کسی نے نہ کہا کہ محترمہ ہم جو نماز پڑھتے ہیں، اس میں ابراہیم (ع)اور آل ابراہیم (ع) پر درود بھیجتے ہیں اور قرآن ابراہیم (ع) کے بارے میں کچھ یوں فرماتے ہیں۔
مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
ابراھیم نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ وہ یک سو مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہیں تھے۔ سورہ آل عمران (٦٧)

اور آخری نکتہ جو جہالت کی انتہاء پر مبنی ہے کہ رسول اللہ (ص) یہود میں سے تھے۔ موصوفہ کو یہ علم تک نہیں کہ رسول اللہ (ص) یہود (بنو اسحاق) میں سے نہیں بلکہ بنواسماعیل میں سے تھے (ابن سعد الطبقات الكبرى، ج(١-٣) ص(١٢٦-٤). أبو زهرة، خاتم النبين، ج١ص٢٤٥. صالح بن طه ، سبل السلام، ص٢١)

عاصمہ صاحبہ قرآن اور تفاسیر کا مطالعہ کرلیں، یہود کی دشمنی کی وجہ یہی تھی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ان میں سے نہیں آئے، کیونکہ آپ کی تشریف آوری سے پہلے وہ منتظر تھے اور دنیا پر دھاک بٹھانے کے لیے کہتے تھے کہ ہم آخری نبی (ص) کے آتے ہی آپ سب پر غالب ہوجائیں گے، لیکن جب رسول اللہ (ص) بنو اسماعیل (ع) میں آئے تو انھوں نے آپ کو پہچانتے ہوئے بھی انکار کیا، جس پر قرآن شاہد ہے:
"الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُون
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بے شک کچھ لوگ ان میں سے حق کو چھپاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں-
سورہ البقرہ (١٤٦)

یہ بھی پڑھیں:   فلسطین، اسرائیل اور ہم، حل کیا ہے؟ آصف محمود

محترمہ کو یہود سے اتنی محبت تھی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ قرآنی آیات کے ساتھ ساتھ تاریخی حقائق کو بھی مسخ کیا، اہل علم کو اس موضوع پر لکھنا اور بولنا چاہیے اور ایسے یہود نواز لوگوں کو آشکارا کرنا چاہیے ورنہ خدا نہ کرے وہ دن دور نہیں جب اسلامی جمہوریہ پاکستان یہود کی حمایتی وہ سٹیٹ بن جائے جس کی پیش گوئی 1996ء میں حکیم محمد سعید شہید (رح) نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف “ جاپان کی کہانی” میں ص(۱۳-۱٥) پر کی ہے۔

ٹیگز

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ایسا لگتا ہے کہ موصوفہ عاصمہ حدید صاحبہ نے کبھی نماز بھی نہیں پڑھی، سورۃ فاتحہ جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ جو مغضوب ہوئے اور جس کی متفق علیہ تفسیر یہ ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے متعلق ہے. اللہ تعالیٰ یہود و ہنود کی ساز شوں سے پاکستان کی حفاظت فرمائیں.