مذہب، سائنس اور پاکستانی میڈیا - حمزہ زاہد

ایک بار کسی عقل مند سے سنا تھا کہ ٹی وی پروڈیوسر کو اپنے پروگرام کے لیے اچھے اداکاروں کی ضرورت ہوتی ہے، خواہ پروگرام کی نوعیت انتہائی سنجیدہ، علمی اور مذہبی ہی کیوں نہ ہو۔ معلوم نہیں یہ بات مذاق میں کہی گئی تھی یا بطور تنقید، لیکن پاکستان میں جیسے جیسے ٹیلی ویژن چینلوں کی بھرمار ہوتی جا رہی ہے، یہ قول ’’تخت نشین‘‘ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ چند سال پہلے تک میں سیاسی مذاکروں کے ساتھ ایک دو مذہبی پروگرام بھی دیکھ لیا کرتا تھا۔ لیکن اب میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ٹی وی سے نشر ہونے والے مذہبی پروگرام نہ دیکھوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں کوئی مذہب بیزار انسان ہوں، یا مجھے مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مجھے اس وقت شدید کوفت ہوتی ہے جب مذہب سے اللہ واسطے کا بیر رکھنے والے حاضرین کے سامنے علماء دین کسی مجرم کی طرح پیش کیے جاتے ہیں، یا پھر کسی نام نہاد ’’عالم‘‘ کو سٹیج پر بٹھا کر، دین کے نام پر دین ہی کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔ اس طرح کے پروگراموں سے ہونے والی قوفت، اُن مواقع پر شدید اذیت میں بدل جاتی ہے جب کوئی غیر عالم شخص ’’فتویٰ‘‘ صادر کرتا ہے یا پھر پروگرام میں موجود حاضرین سے رائے لیکر دین کے کسی معاملے میں ’’فیصلہ‘‘ کیا جاتا ہے۔ یہ کون سی روشن خیالی ہے؟ یہ کہاں کی علمیت ہے؟

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے ناموں سے پروگرام چلواتے ہیں اور مذہب سے لیکر سائنس تک، ہر موضوع پر لچھے دار گفتگو فرماتے ہیں۔ دیگر معاملات کا تو مجھے کچھ زیادہ علم نہیں، لیکن اس طرح کے پروگراموں میں جب کبھی یہ ’’موصوفین‘‘ سائنس کے بارے میں اظہارِ خیال فرماتے ہیں تو بےاختیار یہ احساس ہوتا ہے جیسے کوئی خالی برتن زور زور سے بج رہا ہو۔ ایسے ہی ایک پروگرام کی رُوداد سن لیجیے، میزبان نے علم الغیب پر ایمان لانے (ایمان بالغیب) کا نکتہ اٹھایا اور اُن صاحب سے کچھ اس طرح کا سوال کیا کہ ایمان بالغیب کی حقیقت کیا ہے؟ جواباً موصوف فرمانے لگے کہ قرآنِ پاک نے جگہ جگہ غور و فکر کی دعوت دی ہے، اور تحقیق کاحکم دیا ہے، لہٰذا ایمان بالغیب یہ ہے کہ انسان تفکر و تدبر اور تحقیق و تفتیش کے بعد اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ یہ سن کر میں نے اپنا سر پیٹ لیا، کیونکہ میرے ناقص علم کے مطابق ایمان بالغیب سے مراد اُن چیزوں پر ایمان لانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صراحت سے بیان فرمائی ہیں لیکن دنیاوی مشاہدے اور عقلی استدلال کے ذریعے اُن پر بحث نہیں کی جا سکتی۔ مثلاً روح، فرشتے، عالم برزخ، عالم آخرت، یومِ حساب، جنت اور دوزخ وغیرہ۔ یہ سب چیزیں وہ ہیں جو سائنسی نقطئہ نگاہ سے نہ تو مشاہدے میں آ سکتی ہیں، اور نہ ہی ان کے بارے میں سائنسی نوعیت کا کوئی استدلال ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   الحاد کا چیلنج اور ہماری ذمہ داری - ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

خود علماء یہ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں لگ بھگ ساڑھے سات سو مقامات پر بالواسطہ یا بلاواسطہ انداز میں مظاہر فطرت پر غور و فکر اور تحقیق و تفتیش (یعنی سائنس) کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے باوجود ، سورۃ بقرہ میں یہ بھی واضح کر دیا: (ترجمہ:) ’’یقینا، اللہ تعالیٰ کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، خواہ وہ مچھر کی ہو یا اس سے بھی ہلکی (حقیر اور معمولی) چیز کی۔ ایمان والے تو اس اپنے رب کی جانب سے صحیح سمجھتے ہیں اور کفار کہتے ہیں: اس سے اللہ نے کیا مُراد لی ہے؟ اس کے ذریعے (وہ) بیشتر کو گمراہ کرتا ہے اور اکثر لوگوں کو راہِ راست (راہِ ہدایت) پر لاتا ہے، اور وہ گمراہ تو صرف فاسقوں (کافروں) ہی کو کرتا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ ، آیت : 26)۔ یہ نکتہ عقل اور مشاہدے کے ذریعے ایمان لانے (یا نہ لانے) سے متعلق ہے نہ کہ ایمان بالغیب سے، لیکن موصوف کے خیالات کا اثر قبول کرنے والے، دین سے بے بہرہ مسلمان یہی سمجھیں گے کہ قرآن پاک نے تحقیق و تفتیش کے نکات ’’ایمان بالغیب‘‘ کے ضمن میں فرمائے ہیں۔

ٹی وی چینلوں پر جس طرح اسلام کی تشریح اور تشہیر کی جا رہی ہے، اُس کا دوسرا پہلو بھی انتہائی عبرتناک اور فکر انگیز ہے۔ آج آزادیِ اظہار کے نام پر ہر کس و ناکس کو یہ اجازت دے دی گئی ہے کہ دین کے بارے میں جو کچھ بھی اس کے دل میں آئے، کہہ ڈالے۔ اور اگر اس کی رائے سے وہاں موجود حاضرین کی اکثریت متفق ہو تو اس کی بات مان لی جائے۔ اس ’’جمہوری طرزِ عمل‘‘ پر میں آج تک انگشت بدنداں ہوں۔ مجھے حیرت ہے کہ کس دیدہ دلیری سے مذہبی احکامات کے بارے میں رائے زنی اور فیصلہ سازی کا اختیار ایسے میزبانوں اور حاضرین کو سونپ دیا گیا ہے جو دینی امور سے ناواقف ہی نہیں بلکہ دین دشمن بھی ہیں۔

اگر عوامی رائے سے دین کے معاملات میں کوئی فیصلہ کرنا اس قدر مستحسن اور قابلِ قدر بات ہے تو کیوں نہ سائنس میں بھی ایسا ہی کوئی تجربہ کر لیا جائے، خواہ وہ تصوراتی نوعیت ہی کا کیوں نہ ہو۔ تو ایسا کرتے ہیں کہ نیوٹن کے قوانینِ حرکت پر ایک بحث منعقد کرتے ہیں، جس میں حصہ لینے والے تمام افراد زیادہ سے زیادہ سے میٹرک ہیں اور نیوٹن کے قوانینِ حرکت سے اسی حد تک واقف ہیں کہ جتنا انھوں نے میڑک کی طبیعات میں پڑھ رکھا ہے۔ اگر اس بحث کے شرکاء کی اکثریت نیوٹن کے قوانین حرکت کے درست ہونے پر متفق ہوئی، تو انہیں جوں کا توں رہنے دیا جائے۔ لیکن اگر اس بحث کے شرکاء کی اکثریت نے نیوٹن کے قوانینِ حرکت کے غلط ہونے پر اتفاقِ رائے کیا تو یہ قوانین نہ صرف ’’جمہوری طور پر‘‘ غلط تسلیم کر لیے جائیں گے، بلکہ انھیں طبیعات کی تمام درسی کتابوں سے بھی خارج کروا دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، ایسی صورتوں میں، مختلف سیاسی و سماجی تحریکوں کے ذریعے طبیعات کی بین الاقوامی تہذیبوں پر بھی دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ ’’عوامی رائے‘‘ کا احترام کرتے ہوئے نیوٹن کے قوانینِ حرکت کو غلط تسلیم کریں اور ان کی درس و تدریس پر پابندی لگوائیں۔ فرض کیجیے کہ اس بحث کے زیادہ تر شرکاء وہ ہیں جنھیں کسی وجہ سے نیوٹن کے قوانینِ حرکت سے خدا واسطے کا بیر ہے، اور وہ نہیں چاہتے کہ یہ قوانین پڑھائے جائیں، ان افراد کی بھاری اکثریت اپنے ’’جمہوری استحقاق‘‘ کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے، نیوٹن کے قوانینِ حرکت کو غلط قرار دیتی ہے اور انہیں تمام کی تمام نصابی کتب سے خارج کرنے کی پُر زور سفارش کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لبرل ازم بمقابلہ مذہب؛ اصحابِ مناصب سے عاجزانہ گزارش - مفتی منیب الرحمن

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا طبیعات سے سطح واقفیت رکھنے والوں کی ’’اکثریتی رائے‘‘ کو بنیاد بناتے ہوئے، نیوٹن کے قوانینِ حرکت کو صحیح یا غلط تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ کوئی بھی سمجھدار اور باشعور انسان اس سوال کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہی دے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ماہرین کے کرنے کا ہے، ہر کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ محض سطحی معلومات کی بنیاد پر سائنس کے قواعد و قوانین میں میم میخ نکالتا رہے۔ اگر پھر بھی کوئی شخص ایسا کرنے پر اصرار کرے، تو اسے احمق ہی کہا جائے گا۔ عقل سے اتری ہوئی اس مثال کے ذریعے میں بس اتنا ثابت کرنا چاہتا تھا کہ جب سائنسی معاملات میں غیر ماہرین کی رائے کوئی حیثیت نہیں رکھتی، تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جمہوریت اور آزادیِ اظہار کے نام پر دینی احکامات کو تختہ مشق بنایا جائے، اور وہ بھی اُن لوگوں کے ہاتھوں کہ جن کے پاس دین فہمی نامی کوئی چیز شاید ہی موجود ہو۔